سائنسدانوں نے ایک نئی ’’مصنوعی زبان‘‘ تیار کی ہے جو دودھ کے پروٹین کا استعمال کرتے ہوئے کھانوں کی تیزابیت کا اندازہ لگاتی ہے۔
دودھ کو مکمل غذا کہا جاتاہے اور اس صحت بخش غذا کی افادیت سے بھی سب ہی واقف ہیں تاہم پہلی بار اس میں موجود پروٹین کو تیزابیت ناپنے کے لیے استعمال کیاگیا۔
دودھ میں موجود کیسین پروٹین اصل میں وہ پروٹین ہے جو مرچوں کو تیز اور مصالحے دار بنانے والے کیمیکل کیپسایسن کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔ جب یہ عمل منہ میں ہوتا ہے، تو کیپسایسن غیر فعال ہوجاتا ہے۔
شنگھائی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ویجون ڈینگ کی قیادت میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس عمل کو ایک ڈیوائس میں نقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ کھانے کی تیزابیت کو ناپا جا سکے۔ ایسی ڈیوائس ان لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جن کا معدہ حساس ہو، یا جو ذائقہ محسوس نہیں کرسکتے۔
یہ بھی پڑھیں: دودھ کے ساتھ ان 5 غذاؤں کو ہرگز نہ کھائیں
یہ مصنوعی زبان دراصل ایکریلیک ایسڈ، کولیئن کلورائیڈ اور اسکم ملک پاؤڈر سے تیار ایک لچکدار جیل پر مشتمل ہے، جسے الٹرا وائلٹ روشنی کے ذریعے ٹھیک کیا گیا، جبکہ یہ بجلی کے کرنٹ کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جب اس جیل پر کیپسایسن پر مشتمل کوئی مادہ ڈالا جاتا ہے تو دودھ پاؤڈر میں موجود کیسین 10 سیکنڈ کے اندر اس کیمیکل سے جڑ جاتا ہے، جس سے کرنٹ میں کمی آتی ہے، جو آسانی سے ناپی جا سکتی ہے۔ جتنا زیادہ کیپسایسن ہوگا، اتنی ہی زیادہ کرنٹ میں کمی آئے گی۔
آغاز میں کی گئی آزمائشوں سے یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈیوائس کیپسایسن کی مختلف مقداروں کو ناپ سکتی ہے، مزید آزمائشوں میں آٹھ مختلف قسم کی مرچوں اور آٹھ مصالحہ دار کھانوں کو شامل کیا گیا، اور ڈیوائس کی طرف سے تیزابیت کی سطحیں انسانی ذائقہ ٹیسٹرز کے نتائج کے مطابق تھیں۔
تجربوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مصنوعی زبان کیپسایسن کے علاوہ دیگر مصالحہ دار کیمیکلز، جیسے ادرک، کالی مرچ، ہارسریش، لہسن اور پیاز میں بھی تیزابیت کی شناخت کر سکتی ہے۔




















