Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

ہر 4 سال بعد فروری کا مہینہ 29 دن کا کیوں ہوتا ہے؟ دلچسپ وجہ جانیے

Now Reading:

ہر 4 سال بعد فروری کا مہینہ 29 دن کا کیوں ہوتا ہے؟ دلچسپ وجہ جانیے

ہر 4 سال بعد فروری کا مہینہ 29 دن کا کیوں ہوتا ہے؟ دلچسپ وجہ جانیے

 آج ہم آپکو بتائیں گے کہ ہر 4 سال بعد فروری کا مہینہ 29 دن کا کیوں ہوتا ہے۔

ایسا سال جس میں 366 دن ہوتے ہیں اُس کو لیپ ایئر کہا جاتا ہے۔

گریگورین کیلنڈر میں ہر 4 سال بعد لیپ ایئر آتا ہے اور اس کیلنڈر کو دنیا کے زیادہ تر حصوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

لیپ ایئرز بہت اہم ہوتے ہیں اور ان کے بغیر کیلنڈر میں نظر آنے والے سال بتدریج مختلف نظر آنے لگیں گے۔

گریگورین کیلنڈر سورج کے گرد زمین کے مدار پر مبنی ہے اور 365 دن پر مشتمل ہوتا ہے مگر یہ ایک شمسی سال سے کچھ چھوٹا ہے۔

Advertisement

ایک شمسی سال 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 56 سیکنڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔

اگر اس فرق کا خیال نہ رکھا جائے تو ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ وقفہ بڑھتا جائے گا اور بتدریج موسموں کا وقت بدل جائے گا۔

مثال کے طور پر اگر لیپ ایئر کا استعمال روک دیا جائے تو 700 برس بعد شمالی نصف کرے یا پاکستان میں موسم گرما کا آغاز جون کی بجائے دسمبر میں ہوگا۔

لیپ ایئر سے اس مسئلے سے بچنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ سال میں ایک اضافی دن سے 4 برسوں میں آنے والے فرق کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مگر یہ سسٹم مثالی نہیں کیونکہ ہر 4 سال بعد 44 منٹ اضافی ہو جاتے ہیں یا 129 برسوں میں پورا ایک دن۔

یہی وجہ ہے کہ ہر صدی کے اختتامی سال جیسے 2000 میں لیپ ایئر کا اطلاق نہیں ہوتا۔

Advertisement

اس کے بعد بھی کیلنڈر کے سال اور شمسی سال میں معمولی فرق رہ جاتا ہے جسے لیپ سیکنڈرز سے پورا کیا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں لیپ ایئر سے گریگورین کیلنڈر کو سورج کے وقت سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

لیپ ایئر کی تاریخ

لیپ ایئر کا خیال 45 قبل مسیح میں رومی شہنشاہ جولیس سیزر نے جولین کیلنڈر کو متعارف کراتے ہوئے پیش کیا۔

اس کیلنڈر میں ایک سال 365 دنوں اور 12 مہینوں پر مشتمل تھا، جسے گریگورین کیلنڈر میں بھی برقرار رکھا گیا۔

جولین کیلنڈر میں ہر 4 سال بعد لیپ ایئر کا اضافہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ زمین کے موسموں سے مطابقت پیدا کر سکے۔

Advertisement

صدیوں تک ایسا لگا کہ جولین کیلنڈر مثالی انداز سے کام کر رہا ہے مگر 16 ویں صدی میں ماہرین فلکیات کو اندازہ ہوا کہ موسموں کا آغاز معمول سے 10 دن پہلے ہو رہا ہے جس سے مختلف شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس کی روک تھام کے لیے پوپ گریگوری 13 نے 1582 میں گریگورین کیلنڈر متعارف کرایا جو لگ بھگ جولین کیلنڈر جیسا ہی ہے مگر اس میں صد سالہ برسوں میں لیپ ایئر کا نفاذ نہیں ہوتا۔

صدیوں تک اس کیلنڈر کو کیتھولک ممالک جیسے اٹلی اور اسپین میں ہی استعمال کیا گیا مگر بتدریج یہ دنیا کے دیگر حصوں میں رائج ہوگیا۔

مستقبل میں گریگورین کیلنڈر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ شمسی سال سے مطابقت برقرار رکھ سکے، مگر ایسا ہزاروں برس بعد ہوگا۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
غلط بٹن دبانے پر خاتون لاکھوں ڈالرز جیت گئیں
دنیا کے معمر ترین شخص کی دراز عمر کا راز کیا ہے؟ جانیئے
27 سیکنڈ میں تصویر میں موجود سب سے شرارتی بچے کی نشاندہی کریں!
تصویر میں موجود 3 فرق کی نشاندہی کریں!
10 سیکنڈ میں تصویر میں موجود کتا تلاش کریں!!!
تصویر میں موجود 3 فرق کی نشاندہی کریں!
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر