بول نیوز

15 برس میں کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے والا دنیا کا کم عمر ڈاکٹر

بلجیم سے تعلق رکھنے لارینٹ سیمونز کو جسے چھوٹا آئن سٹائن بھی کہا جاتا ہے نے محض 15 برس کی عمر میں  کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی کرکے دنیا کے کم عمر ترین ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

وی ٹی ایم نیوز کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں، لارینٹ نے اینٹورپ یونیورسٹی میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اس کامیابی کے فوراً بعد ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے، انہوں نے کہا: “اس قدم کے بعد، میں اپنے مقصد کے لیے کام کرنا شروع کروں گا جو کہ ‘سپر ہیومن’ بنانا ہے۔

ان کی تحقیق کا موضوع بوس پولیرونز ان سپرفلوئڈز اینڈ سپر سولیڈزتھا یونیورسٹی کے مطابق، بوس آئن اسٹائن کونڈینسیٹ ایک الٹرا کولڈ گیس ہے جس میں ذرات ایک ہی کوانٹم آبجیکٹ کے طور پر برتاؤ کرتے ہیں، اور یہ بہت سی طبیعیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک قابلِ تجربہ لیب کے طور پر کام کرتی ہے۔

لارنٹ کی یہ تازہ ترین کامیابی ان کے متاثر کن تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، برسلز ٹائمز کے مطابق، لارینٹ کی تعلیمی کامیابیاں 2022 سے خبروں کی زینت بن رہی ہیں، بارہ سال کی عمر میں، جب اس کے ہم عمر بچے عام طور پر سیکنڈری اسکول میں ہوتے ہیں، لارینٹ نے کوانٹم فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ عام طور پر ماسٹرز کی ڈگری میں دو سال لگتے ہیں، لیکن اس نے پہلے سیمسٹر میں تمام کورسز مکمل کیے اور دوسرے سیمسٹر میں تھیسس اور انٹرن شپ پر توجہ دی۔

لارینٹ سیمونزکی جائے پیدائش  بلجیم ہے تاہم اب وہ نیدرلینڈز میں رہائش پذیر ہیں۔ بچپن ہی سے انہیں ’’پروڈیجی‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے 2018 میں صرف آٹھ سال کی عمر میں ہائی اسکول مکمل کیا۔ 2019 میں، وہ دس سال کی عمر سے پہلے یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کا ریکارڈ بنانے والے تھے، لیکن گریجویشن کی تاریخوں میں تنازع کی وجہ سے انہوں نے ایندہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا الیکٹریکل انجینیئرنگ پروگرام چھوڑ دیا تھا۔

اس کے بعد، لارینٹ نے یونیورسٹی آف اینٹورپ میں فزکس کے بیچلرز پروگرام میں داخلہ لیا اور محض 18 مہینوں میں ڈگری حاصل کر لی، جو کہ عام طور پر تین سال لگتے ہیں۔

لارینٹ نے جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ میں کوانٹم آپٹکس پر انٹرن شپ کی، جہاں اس نے فزکس اور میڈیسن کے تعلقات کا مطالعہ شروع کیا۔ اس کی ماسٹرز کی تحقیق خاص طور پر بوس آئن اسٹائن کونڈینسیٹ کے بارے میں تھی، جو الٹرا کولڈ درجہ حرارت پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ماسٹرز کی ڈگری کے بعد، لارینٹ نے پی ایچ ڈی کی سمت میں مزید کام جاری رکھا، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ابھی تک اپنی ذاتی حدود تک نہیں پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی گیمر نے ‘سپرماریو برادرز’ کو 4 منٹ میں مکمل کر کے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

لارینٹ سیمونز کا آئی کیو 145 ہے، جسے کی درجہ بندی “ہائلی گفٹڈ” کے طور پر کی گئی ہے۔

لارینٹ کے والدین الیگزینڈر اور لیڈیا، نے بیٹے کے حوالے ہمیشہ سے ہی  محتاط رویہ اپنایا ہے،برسلز ٹائمز کے مطابق، امریکہ اور چین کی بڑی آئی ٹی کمپنیاں پہلے ہی لارینٹ کے والدین سے رابطہ کر چکی ہیں، انہیں اپنے تحقیقی مراکز میں تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی ہے، تاہم انہوں نے امریکہ اور چین میں ٹیک جنات کی ابتدائی پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ہے۔ ان کی ترجیح لارینٹ کی تحقیق کے فوائد کو یقینی بنانا ہے، ایک ایسا مقصد جو اس کے ذاتی عزائم کے ساتھ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ یہاں تک کہ 12 سال کی عمر میں، لورینٹ نے انسانوں کو واقعی حیاتیاتی طور پر لافانی بنانے کے حتمی مقصد کے ساتھ “انسانی عمر بڑھانے” کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

 پی ایچ ڈی کا دفاع کرنے کے فوراً بعد، لارینٹ اپنے والد کے ساتھ میونخ واپس چلا گیا اور وہاں ایک اور ڈاکٹریٹ پروگرام میں داخلہ لے لیا ہے، اس بار میڈیکل سائنس میں، جس میں وہ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرے گا۔

Exit mobile version