چین کے صوبہ شانشی میں ایک جعلی وائرل سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے کسانوں کے مرچ کے کھیت اجنبی لوگوں نے لوٹ لیے۔
چین کے علاقے شانشی میں مرچ کے کئی کسان اس وقت شدید نقصان سے دوچار ہوگئے جب ایک جعلی وائرل ویڈیو نے لوگوں کو یہ یقین دلا دیا کہ ان کھیتوں کی مرچیں مفت میں توڑی جا سکتی ہیں۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل مرچ کی فصل کا مالک اسے خسارے کی وجہ سے مفت دے رہا ہے۔ حقیقت میں وہاں کوئی بڑا مالک نہیں تھا بلکہ کئی چھوٹے کسان اپنی فصل بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جب لوگ بڑی تعداد میں کھیتوں سے مرچیں توڑنے پہنچے تو کچھ کسان احتجاج کے باوجود انہیں روک نہ سکے اور پولیس کو بلانا پڑا۔ ویڈیو کے جھوٹ ثابت ہونے پر کئی لوگ مرچیں چھوڑ کر چلے گئے، مگر کچھ اپنی مرضی سے لے بھی گئے۔

تاہم پوسٹ بنانے والے شخص کو سات دن کے لیے حراست میں لیا گیا اور اس نے کسانوں کے نقصان کی تلافی کے لیے 5000 یوان ادا کرنے پررضامندی ظاہر کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ پولینڈ میں بھی ایک کسان کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک جعلی ویڈیو نے لوگوں کو مفت آلو لینے پر اُکسایا تھا۔



















