Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

قُم سے امام خمینی ایئرپورٹ روانگی

Now Reading:

قُم سے امام خمینی ایئرپورٹ روانگی

آخرکار علی زین نقوی کی آمد پر ہم نے سُکھ کا سانس لیا۔ انہوں نے جب آ کر بتایا کہ وہ کتابیں لے رہے تھے تو اُن سے تاخیر پر سوال پوچھنا ہی گناہ میں شمارمیں ہوتا۔ میرے بچوں سے جب کوئی پوچھتا ہے کہ کیا تمہارے گھر میں کتابیں ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا گھر کتابوں میں ہے۔ مجھے ہمیشہ وہ نوجوان اچھے لگتے ہیں جو کتابوں سے شغف رکھتے ہیں۔ ویسے علی زین نقوی کا مطالعہ قابلِ رشک ہے۔ پھر وہ جس طرح سائنس اور مذہبیت کے نکات کی آمیزش کرتے ہیں وہ اُن کی رواں دواں سوچ کی دلیل ہے۔ ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں۔
ہم قم میں ہیں تو اتنا جان لیں کہ قم ایران کا ایک صوبہ ہے۔ یہ شہر اپنے نام سے منسوب صوبہ کا دارالحکومت ہے۔ یہ ایران کا ساتواں بڑا شہر ہے اور یہ دریائے قُم کے کناروں پر آباد ہے۔ شہر کی آبادی لگ بھگ 13 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ شہر تہران سے 125 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اب ہم نے یہاں سے 108 کلومیٹر کا سفر کرکے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنا ہے۔ ہم زائر بلیوارڈ پر چل پڑتے ہیں۔ زائر بلیوارڈ کے ساتھ ہی قم روڈ موجود ہے۔ آگے صدر بلیوارڈ آجاتا ہے۔ اس شاہراہ کا پورا نام امام موسیٰ صدربلیوارڈ ہے۔ دائیں ہاتھ پر بہت بڑا پارک ہے، جس کا نام بنیادی پارک ہے۔ بائیں جانب بہت بڑا قبرستان ہے ۔ اس قبرستان کا نام وادی السلام قبرستان ہے۔ اس قبرستان میں کئی نابغۂ روز شخصیات دفن ہیں۔ یہاں پرآیتہ اللہ سعیدی کا مقبرہ ہے۔ یہاں آیتہ اللہ الیہان دفن ہیں۔ آیتہ اللہ سیدقدرت اللہ کا مقبرہ بھی اسی قبرستان میں ہے۔ اسی قبرستان سے ملحق ایک کھیلوں کا میدان بھی ہے۔ آگے چل کر دائیں جانب کو قُم میونسپلٹی کا دفتر ہے۔ سیدھے ہاتھ پر ہی ایک اور پارک نظر آتا ہے جس کانام بوستانِ پاکبان ہے۔ اُلٹے ہاتھ پر ایک اور پارک کو باقی رکھنے کیلئے صدر بلیوارڈ کو پہلو بچا کر گزرنا پڑا۔ اس پارک کا نام میدان نواب صفوی ہے۔ آگے جا کر یہ شاہراہ سیدھے ہاتھ پر مُڑ جاتی ہے۔ آگے چل کر یہ شاہراہ میدانِ زائرنامی پارک کے ساتھ زائربلیوارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ امام علی ہائی وے کے اوپر سے گزرتی ہے اور امام علی ہائی وے کے نیچے دریائے قم گزر رہا ہے۔ اب کچھ دور دریائے قم اور زائر بلیوارڈ پہلو بہ پہلو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کچھ آگے جاکر زائر بلیوارڈ اصفہان سے آنے والی امیر کبیر ایکسپریس وے کے اوپر سے گزرتی ہے۔اب زائر بلیوارڈ مسافروں کو خلیج فارس ایکسپریس وے پر چھوڑ کر خود وہیں پر رُک جاتی ہے۔ یہی خلیج فارس ایکسپریس وے اپنا نام امیرکبیر ایکسپریس وے بھی رکھ لیتی ہے۔ پھر یہ دونوں ناموں کی شاہراہیں الگ الگ راستوں پر چل پڑتی ہیں۔ ہم خلیج فارس ایکسپریس وے پر ہیں۔ یہ شاہراہ پھر اپنے رنگ بدلتی ہے۔کبھی خلیج فارس اور کبھی امیرکبیر ایکسپریس وے بن جاتی ہے۔ اب دائیں طرف تہران قُم فری وے چل رہی ہے۔ آگے چل کر لگتا ہے کہ امیر کبیر کا نام کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ اب اس کا نام تہران قُم فری وے ہوگیا ہے۔
اُلٹے ہاتھ پر پرانی تہران قم شاہراہ ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ ہم سیدھے ہاتھ پر نمک کی جھیل کو دیکھتے ہیں جہاں پہنچ کر دریائے قُم دم توڑ دیتا ہے مگر اس جھیل کا نمکین مزاج کم نہیں ہوتا۔ ہم کراچی پہنچ کر فاضل جمیلی سے کہیں گے کہ اس نمکین مزاجی پر کوئی شعر، کوئی نظم یا کوئی غزل ہو جائے۔ اب ہم وہاں پہنچے ہیں جہاں صوبہ قم ختم اور صوبہ تہران شروع ہو رہا ہے۔اب بائیں طرف سلمان آباد روڈ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔اب خلیج فارس ایکسپریس وے اور تہران قُم فری وے دو ناموں کو ساتھ لئے ہمیں ایک بائی پاس کے حوالے کرکے خود آگے بڑھ جاتی ہے۔ لیجئے اس بائی پاس نے ہمیں امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے پر لگا دیا ہے۔ اب یہ شاہراہ ایئرپورٹ کے پورے نام سے منسوب ہو گئی ہے۔ راستے میں ایک پٹرول پمپ پر نظر پڑتی ہے۔ ایک ہفتہ قبل ہم نے ایران پہنچنے کے بعد اسی ایئرپورٹ سے دس روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول لیا تھا اور ہم اپنے ملک میں جتنی رقم کا ایک لیٹر پٹرول لیتے ہیں اتنی رقم میں ایران میں گاڑی کی ٹینکی فُل ہو جاتی ہے، مگر پھر بھی ہم ایران سے گیس اور پٹرول نہیں لیں گے۔ یار کوئی ہمارے پیارے دوستوں امریکہ اور عرب ریاستوں سے ہمیں ایران سے تیل اور گیس لینے کی این او سی دلوا دے۔
ہم ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔ روانگی کے مقام تک پہنچنے کے دروازے سے چند گز پہلے گاڑی پارک کر دی جاتی ہے اور ہم اپنے سامان سامان سمیت گاڑی سے باہر آ جاتے ہیں۔ علی فاطمی اور ڈرائیور بھی گاڑی سے باہر آتے ہیں۔ ہم روانگی کے دروازے سے ایئرپورٹ کے اندر آ جاتے ہیں جہاں مشینیں ہمارے سامان اور ہمارے کردار کا جائزہ لیں گی اور یہ طے کریں گی کہ ہم آگے بڑھیں یا نہ بڑھیں۔
مشینوں نے ازراہِ عنایت وکرم ہمارے سامان اور کردار کو شرفِ قبولیت بخشا توعلی فاطمی اور ڈرائیور ہم سے الوداع ہونے کیلئے آگے بڑھے۔علی فاطمی ہمارے پہلے روز تہران کے ہوٹل پارک وے سے میلاد ٹاور جانے سے لے کر آج ہماری ایران سے واپسی کے روز تک معمولی وقفوں کے ساتھ پورے سات دن ہمارے ساتھ رہے مگر ان سات دنوں میں انہوں نے اپنی شرٹ اور پینٹ تبدیل نہیں کی۔ میں نے انہیں اور اُن کے کپڑوں کو میلا نہیں دیکھا۔ میں نے اُن کےکپڑوں پر کوئی شکن بھی نہیں دیکھی۔ میں نے کبھی کسی امیر یورپی ملک کے وزیرخارجہ کے اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس میں جانے اور وہاں اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اس میں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ کپڑوں کے صرف دو سوٹ ساتھ لائے تھے۔ وہ گھر سے استری بھی ساتھ لائے تھے۔ وہ اپنی اقوام متحدہ کی مصروفیات کے بعد اپنے ایک اوسط درجے کے ہوٹل میں واپس آتے تو وہ اپنے ہاتھ سے اپنے کپڑے دھوتے ، انہیں سکھا کر استری کرکے ٹانگ دیتے اور اگلی صبح وہی کپڑے پہن کر اقوام متحدہ پہنچ جاتے۔ انہیں بہت خوش پوش وزیرخارجہ سمجھا جاتا تھا۔ علی فاطمی پورا ایک ہفتہ ہمارے ساتھ ایک ہی جوڑے میں رہا مگر سچی بات یہ ہےکہ وہ خوش پوش بھی تھا اورخوش اخلاق بھی تھا۔ وہ ہمیں رخصت کرتے ہوئے قدرے ملول لگا۔بہت محبت سے گلے ملا۔ ڈرائیور تو صرف سوا دو دن سے ہمارے ساتھ مگر ایسا لگا کہ وہ اس پورے جنم میں ہمارے ساتھ رہا۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سول اسپتال کراچی میں 36 کروڑ روپے مالیت کی کینسر کی دوائیں چوری ہوگئیں
ضلع کرک میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 5 سیکیورٹی اہلکار شہید
ملک کے معروف برآمد کنندگان کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار
بہتر ہوتا حکومت پیپلزپارٹی سے مشاورت کرکے بجٹ بناتی، بلاول بھٹو
اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت، میڈیکل آلات پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش
بلوچستان کا نئے مالی سال کا 930 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر