Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

درگاۂ معصومۂ قُم پر اہلِ وطن سے ملاقاتیں

Now Reading:

درگاۂ معصومۂ قُم پر اہلِ وطن سے ملاقاتیں

اب ہم دریائے قُم کے پُل کی طرف چل پڑے۔ جس کے ذریعے ہم دوسرے کنارے پر جا کر احاطۂ حرم میں پہنچ جائیں گے۔ قم میں آیتہ اللہ العطمی اسمعیل پور کا مزار بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں صفوی اور قاجار بادشاہوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی 18 سے زیادہ قبریں ہیں۔اس شہر میں شہید مطہری کا مزار بھی مرجعِ خلائق ہے۔ یہاں جن سیاستدان کی آخری آرامگاہیں ہیں۔ اُن میں18ویں، 19ویں اور 20ویں صدی کے ایران کے عہد ساز سیاستدان شامل ہیں۔ یہاں آذربائیجانی شاعرہ آقابیئم آقا جواں شیر کی قبر ہے جو آذربائیجان کے دوسرے خان کاراباخ ابراہیم اسمعیل خان کی صاحبزادی تھیں۔ جس طرح ہمارے ہاں صدیوں تک قلات کے حکمران خان کہلاتے تھے اسی طرح آذربائیجانی ریاست کاراباخ کے حکمران بھی خان کہلاتے تھے۔ شاعرہ آقا بیئم آقا جواں شیر کی شادی ایران کے قاجار بادشاہ فتح علی شاہ قاجار سے ہوئی تھی۔آقا بیئم آقا کی بھتیجی خورشید بانو ناتواں بھی انیسویں صدی َکی بے مثال شاعرہ تھیں۔ ناتواں نے آذری اور فارسی میں زبردست شاعری کی۔ ناتواں کے والد اور آقابیئم آقا کے بھائی مہدی گُلو خان کاراباخ کے آخری حکمران تھے۔

اس قبرستان میں 1874ء کو پیدا اور 1938ء میں فوت ہونے والے علامہ اقبال کے ہمعصر ایرانی ادیب، صحافی، سیاستدان، مترجم اور پبلشر یوسف اعتصامی بھی دفن ہیں۔ وہ تہران سے ایک ماہنامہ بہار بھی نکالتے تھے۔وہ 1909ء سے 1912ء تک ایران کی دوسری مجلس (اسمبلی) کے ممبر بھی رہے۔ اُن کی صاحبزادی پروین اعتصامی 20ویں صدی کی بڑی فارسی شاعرہ تھی۔ وہ 1907ء میں پیدا ہوئیں اور صرف 34 برس زندہ رہیں مگر ان کی شاعری آج بھی ایران میں بڑے ذوق سے پڑھی جاتی ہے۔پروین اعتصامی بھی اسی جگہ پر ہی دفن ہیں۔

ایران صدیوں تک سُپرپاور رہا ہے۔ جس زمانے میں رومتہ الکبریٰ ایک سُپر پاور ہوا کرتا تھا اسی زمانے میں فارس بھی سُپر پاور ہوا کرتا تھا۔ ایران نے کبھی بھی کسی سُپر پاور کی غلامی قبول نہیں کی۔ یورپ میں تین بڑے انقلابات سائنسی انقلاب، سیاسی انقلاب اور صنعتی انقلاب کے بعد یورپی تجارتی کمپنیوں نے منڈیوں کی تلاش میں ایشیاء، افریقہ ، آسٹریلیا، امریکہ اور لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی نظام کے تحت جس طرح سفاکانہ طریقے سے قبضے کئے اُن میں سے دو براعظموں شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں مقامی آبادی کی نسل کُشی کی گئی اور بچ جانے آبادی کو صدیوں پہلے چاردیواریوں میں محدود کر دیا۔ وہاں وہ صورتحال اب بھی قائم ہے جبکہ دیگر تین براعظموں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سے اُن کا طرزِ زندگی، اُن کی زبان، اُن کی بُودوباش چھین کر اُن پر براہِ راست کمپنیوں کی حکمرانی قائم کی اور بالواسطہ وہ حکمرانی آج بھی قائم ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جو کبھی کسی یورپی ملک کی نوآبادی نہیں رہا۔ ایران پر کسی یورپی ملک نے قبضہ نہیں کیا۔ ایران کبھی فتح نہیں کیا جا سکا۔ اس لئے اُس کا طرزِزندگی، اس کی زبان، اس کی بُودوباش اوراس کی ترقی مقامی ہے۔ پھرڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کےتسلسل کا جشن منانے والے شاہِ ایران کے خلاف ایرانی عوام کے انقلاب نے ایرانی عوام کی تطہیر کی اور آج ہم جو ایران دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایرانی تہذیب کے ہزاروں برس کے تسلسل اور انقلاب کے تجربے کا نتیجہ ہے۔ ایران آج فردوسی سے پروین اعتصامی تک ایک تہذیبی تسلسل کا نام ہے۔

Advertisement

میں معصومۂ قم کی بارگاہ میں حاضری کیلئے جانے سے پہلے یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ مشہد اور قُم میں امام علی رضا اور سیدہ معصومہ کے مزارات محض شیعت کے مراکز نہیں بلکہ یہ دونوں شہر ایران کے سب سے بڑے طاقتور تہذیبی مراکز بھی ہیں۔ قُم میں صفوی اور قاجار بادشاہوں کے مقابر ہیں جنہوں نے یورپ کی نشاہ٘ ثانیہ کے بعد آنے والے انقلابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نوآبادیاتی نظام کو ایران میں داخل نہیں ہونے دیا۔بلکہ ایرانی عوام ایران کے آخری قاجار بادشاہ کا تختہ اُلٹ کر شاہی مسند سنبھالنے والے مغرب کے پٹھو پہلوی بادشاہ کے بیٹے رضا شاہ پہلوی کے خلاف انقلاب لے کر آئے اور اُسے دفن کیلئے ایران میں دو گز زمین بھی نہیں ملی۔ مشہد وہ مقام ہے جہاں ایرانی نشاہ٘ ثانیہ کا سب سے طاقتور کردار فردوسی پیدا ہوا اور جہاں اس کا مقبرہ ہے۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ مشہد اور قم ایران کی تہذیبی طاقت کے استعارے ہیں اور آخری بات ایرانی انقلاب کے رہبر آیتہ اللہ خمینی قُم سے اُٹھے اور ان کے انتقال کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی باگ ڈور مشہد کے آیتہ اللہ خامنہ ای کے پاس ہے۔ میں نے قُم میں وہ مقامات دیکھے جہاں علی خامنہ ای نے انقلاب کی تعلیم حاصل کی اور جہاں آیتہ اللہ خمینی کا گھر تھا اور جہاں سے ایران کا انقلاب اُٹھا تھا۔

معصومۂ قم کے مزار کے قریب دریا کے پُل سے گزر کر ہم درگاہ کے مرکزی دروازے کے قریب پہنچے۔ درگاہ کے احاطے میں داخل ہوئے تو یوں لگا کہ جیسے ہم پاکستان میں آگئے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہمارے اہلِ وطن قافلہ در قافلہ آئے ہوئے ہیں۔ وہ کمالِ مہربانی سے ہمیں مل رہے ہیں۔ میں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو میری توقیر کا باعث بنے۔ میں نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں بُھوک، بے گھری ، دربدری ،افلاس، ناداری، تنگدستی اور آزاری دیکھی اور میں نے کبھی اپنی حیثیت اور اوقات سے زیادہ سے بننے اور حاصل کرنے کوشش نہیں کی۔ یہ لوگ اس قدر عزت سے کیوں مل رہے ہیں ؟ میں نے کسی کو کیا فائدہ پہچانا ہے اور مجھ سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچ ہی کیا سکتا ہے ؟ میں عملی سیاستدان نہیں اور مجھے اس کا ملال ہے کہ میں جس طرح ظلم، زیادتی، جبر وستم، ناانصافی اور محرومی کے بغیر پاکستان چاہتا ہوں، اس کیلئے عملاً سیاسی عمل کا حصہ نہ بن سکا۔ میں نے سنسر کے کینسر کے جہنم کے دوران صحافت کی۔ میں نے بے منطق پابندیوں کے ہوتے ہوئے قلم کی مزدوری کی۔ میں تو کچھ بھی نہیں، میں تو واقعی کچھ بھی نہیں۔ یہ قابلِ احترام خواتین میری طرف آ رہی ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ وہ سکھر کی سید زادیاں ہیں، وہ بھائی کہہ کر میرا نام لیتے ہوئے مجھے مخاطب کرتی ہیں۔ وہ میرے ساتھ تصویر بنوانے کیلئے کہتی ہیں۔ بی بی میں کوئی سلیبریٹی تو نہیں ہوں۔ میں تو انتہائی حقیر فقیر قسم کا ایک عام سا آدمی ہوں۔ میں اُن کے حکم کی تعمیل کر کے آگے بڑھ جاتا ہوں۔ میں سیدہ بی بی معصومہ کے سلام کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ میں ایران میں مظلومیت کی علامت کی سلامی کیلئے آیا ہوں۔ میں حاکمانہ جبر وستم کو اپنے لافانی صبر سے ملیامیٹ کرنے والے خاندان کی معصومہ کی درگاہ میں آیا ہوں۔ میں عاجز اپنے پورے عجز کے ساتھ بی بی کو اُن کے خاندان کی مظلومیت پر پُرسہ دینے آیا ہوں۔ میں احترام اور عقیدت سے نظریں جھکائے کھڑے رہنے کے بعد واپس چلتا ہوں۔ بہت سے لوگ ملتے ہیں مگر میں جن کے ساتھ تھا، وہ مجھ سے بچھڑ جاتے ہیں۔ نامعلوم میرے ساتھ ساتھ چلنے والے منظر نقوی کہاں ہوں گے۔ میں علی زین کو دیکھ لیتا ہوں، وہ اویس ربانی کو تلاش کر رہے ہیں۔ میں اکیلا آگے چل پڑتا ہوں۔ یہاں ہر جگہ اپنے وطن والے نظر آتے ہیں۔ ایک بیوروکریٹ آ کر بہت محبت سے اپنا تعارف کراتے ہیں۔ میں اُن سے مل کر حدودِ حرم سے باہر آ جاتا ہوں اور اُس پُل کی طرف چل پڑتا ہوں جس پر سے گزر کر ہم حرم میں آتے تھے۔


سیدہ معصومہ کے انتقال کے بعد سب سے پہلے یہاں جب آپ کے بھتیجے اور اثنا عشری مسلمانوں کے نویں امام محمد تقی کی صاحبزادی سیدہ زینب اپنے دادا کی ہمشیرہ کے مزار پر آئیں تو یہاں انہوں نے مقبرہ بنوایا اور اپنی نگرانی میں تین گنبد بنوائے جہاں بعد میں امام تقی کی تین صاحبزادیاں بھی دفن ہوئیں۔بعض روایات میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ معصومہ کو زہر دیاگیا تھا، جس سے وہ شہید ہوئی تھیں۔ اس مزار کی تعمیر و زیبائش میں سب سے زیادہ حصہ صفوی بادشاہوں کی شہزادیوں نے لیا تھا اور پھر انہوں نے اپنی تدفین کیلئے بھی اسی مقام کا انتخاب کیا۔ یہاں بہت سی صفوی شہزادیوں کی بھی قبریں ہیں۔
میں تنہا پُل پر سے گزر کر مزار کے مغرب میں واقع شاہراہ پر اس مقام پر آجاتا ہوں۔ جہاں ہم نے گاڑی پارک تھی۔ ابھی یہاں کوئی واپس نہیں آیا۔ میں دریائے قُم کے مغربی کنارے پر درختوں کی چھاؤں کی نیچے دیوار پر بیٹھ جاتا ہوں۔ اب مجھے اپنے ہمسفر دوستوں کی واپسی کا انتظار ہے۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سول اسپتال کراچی میں 36 کروڑ روپے مالیت کی کینسر کی دوائیں چوری ہوگئیں
ضلع کرک میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 5 سیکیورٹی اہلکار شہید
ملک کے معروف برآمد کنندگان کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار
بہتر ہوتا حکومت پیپلزپارٹی سے مشاورت کرکے بجٹ بناتی، بلاول بھٹو
اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت، میڈیکل آلات پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش
بلوچستان کا نئے مالی سال کا 930 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر