Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

اصفہان کے وانک کیتھڈرل کے اندرونی مناظر

Now Reading:

اصفہان کے وانک کیتھڈرل کے اندرونی مناظر

ہم ایک راستے سے عجائب گھر میں داخل ہوئے تھے اور نکلنے کیلئے دوسرا راستہ تھا ہم نکلنے سے پہلے عجائب گھر میں پادریوں اور چرچ سے وابستہ دیگر شخصیات کے لباس ، دیگر پادچہ جات، مخصوص گاؤن، صلیب کی علامتوں کے خاص کپڑے، ایران اور آرمینیا کے جدید قدیم کے فیشن کے ملبوسات دیکھتے ہیں اور دوسرے راستے سے نکل کر ہم اس ہال کی طرف چل پڑتے جہاں چرچ قائم ہے۔ میں وٹیکن سٹی کے چرچ میں جا چکا ہوں۔ میں وہاں مائیکل انجیلیو کے لازوال تخلیقی شاہکار دیکھ چکا ہوں۔ میں وہ گنبد دیکھ چکا ہوں جہاں سے وٹیکن سٹی کی طافتور مقتدرہ عیسائیت کی دنیا پر راج کرتی رہی ہے اور اس کا ایک حد تک روحانی راج تو اب بھی قائم ہے۔
ہم آرمینیائی چرچ کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ چرچ کی اندرونی ساخت کسی عام یا خاص عمارت یا کسی شاہی دربار، کسی کانفرنس ہال یا کسی اور چرچ سے بہت مختلف ہے۔ یہ آرمینیائی فن تعمیرکا اپنا ہی انوکھا انداز ہے۔ اندرونی دیواروں پر مصوری کے شاہکار نظر آتے ہیں۔ میں نے وٹیکن سٹی کے چرچ کے علاوہ پیرس کا نوٹرے ڈم چرچ ، کولن کے قدیم طرزِ تعمیر کا شاہکار کیتھڈرل اور دیگر چرچ دیکھے ہیں مگرایسا آرٹ کا شاہکار چرچ نہیں دیکھا۔ چرچ کی اندرونی دیواروں کی تعمیر ہشت پہلو ہے۔ یعنی یہ ہال چاردیواروں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ آٹھ دیواروں پر مشتمل ہے۔ اس کے چار کی بجائے آٹھ کونے ہیں اور کوئی دیوار ایسی نہیں جس کے کسی ایک فٹ رقبے پر بھی پینٹنگز نہ ہوں۔ یہاں دیواریں مذہبی داستانیں، واقعات، مناظر سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں بہشت اور دوزخ کے مناظر پوری وضاحت کے ساتھ دکھائے گئے ہیں۔ دیوار پر نیچے دوزخ کی پینٹنگ بنائی گئی ہے۔ یہاں دوزخی لوگوں کو ہیبت ناک اور وحشت ناک سزائیں دی جا رہی ہیں۔ دوزخی قدرے کم سیاہ فام اور کافی سفید فام لوگ دکھائے گئے ہیں۔ دوزخ میں غالب اکثریت عورتوں کی دکھائی دیتی ہے بلکہ یہاں مرد تو کوئی ایک آدھ بھی نظر نہیں آتا۔دوزخی عورتوں کو وحشی جانور پکڑ رہے ہیں یا پکڑ کر بھنبھوڑ رہے ہیں۔ وحشی جانوروں کے نوکیلے دانت اُن کے جسموں میں پیوست ہیں۔ زیادہ تر دوزخی عورتیں ہراساں ہوکر اِدھراُدھر بھاگتی نظر آرہی ہیں۔ کسی بھی دوزخی کے جسم پر کپڑے نہیں ہیں۔ آرمینیائی عیسائیت میں پدر سری نظام اس قدرغالب اور عورت دشمن ہے کہ اُس میں صرف عورت ہی گناہگار ہوتی ہے اور مرد گناہگار ہو ہی سکتا۔ بلکہ جن لوگوں کو برزخ سے دوزخ میں پھینکتے ہوئے دکھایا گیا وہ بھی صرف عورتیں ہی ہیں۔ مجھےتو کوئی ایک مرد بھی دوزخ میں عذاب سہتے ہوئے یا دوزخ میں پھینکے جاتے ہوئے دکھایا نہیں دیا۔ البتہ اس چرچ میں بہشت کی آبادی مخلوط دکھائی گئی ہے۔ بہشت میں بھی عورت کی ایک ہی حیثیت ہے۔ وہ اسبابِ تعیش کے طور پر بہشت میں موجود ہے۔ بہشتی مرد اور عورتیں شمعیں اُٹھائے مارچ کرتے دکھائے گئے ہیں۔ چرچ کی بہشت میں مردوں اور عورتوں کے مشاغل بھی سمجھ میں نہیں آئے۔ عورتیں ایک قطار میں سوئی ہوئی اور مرد ایک قطار میں بیٹھے ہوئے دکھائے گئےہیں ۔نیچے کی طرف عورتوں کو کوئی ساز بجاتے دکھایا گیا۔ اس تصویر میں کینوس کے ساتھ رنگوں کا جو خوشنما استعمال کیا گیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ یہ تصویر بہت سے سوال پیدا کرتی اور کئی سوال اُٹھاتی لگتی ہے اور بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچنے پر بھی آمادہ کرتی ہے۔

دوزخ میں کچھ سیاہ فام عورتیں تو نظر آتی ہیں مگر بہشت میں سفیدفام لوگوں کی اجارہ داری ہے۔برزخ کا ایک کونہ تو ایسا دکھایا گیا ہے جہاں سے عورتوں کو اُٹھا اُٹھا کر دوزخ کے اندر ایک دہشت ناک بلا کے کھلے ہوئے جبڑوں میں پھینکا جا رہا ہے۔ انہیں دوزخ میں پھینکنے پر مامور فرشتوں کے حلیئے بھی عورتوں کے ہی لگتے ہیں۔ بہشت میں کہیں آبادی گنجان لگتی ہے اور کہیں بہت زیادہ کھلی معلوم ہوتی ہے۔

Advertisement

دنیا کے مختلف گرجاؤں اور عجائب گھروں میں حضرت عیسیٰ کی مختلف مواقع کیلئے الگ الگ پینٹنگز بنائی گئی ہیں۔ برطانیہ، روم، جرمنی، فرانس اور وٹیکن سٹی کے گرجاؤں اور میوزیمز میں حضرت مسیح کا بچپن اور جوانی کے الگ الگ مناظر دکھائے گئے ہیں۔ پیرس کے شہرۂ آفاق میوزیم لوور میں حضرت عیسی اور حضرت بی بی مریم کو مقدس خاندان کا نام دیا گیا۔ یورپی مصوروں کے تصورات میں حضرت عیسیٰ کے بچپن کو ایک یورپی بچپن کے طور پر دکھایا گیا اور حضرت مریم بھی ایک یورپی خاتون کی طرح لگتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر تصویروں میں حضرت عیسیٰ کے سُرخی مائل بال گھنگھریالے دکھائے گئے ہیں اور دوپٹے اور چادر میں سے نظرآتے حضرت بی بی مریم کے بال گہرے بھورے رنگ کے دکھائے گئے ہیں۔ میں نے دمشق، بغداد، سعودی عرب، مصر اور دیگر خلیجی ریاستوں کے سفر میں عمومی طور پر لوگوں کے بال ایسے نہیں دیکھے۔ اب تو دنیا میں بالوں کو مختلف رنگوں سے ڈائی کیا جاتا ہے مگر ایشیائی اور یورپی آبادی کے بالوں کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ افریقی ممالک کے کلچر میں حضرت عیسیٰ اور حضرت بی بی مریم کا تصور ایک کُھلتے ہوئے سیاہ فام رنگ جیسا ہے۔ جسے سفیدفام تو نہیں کہا جاسکتا البتہ کسی حد تک گندمی یا زردی مائل کہا جا سکتا ہے۔

وانک کیتھڈرل اصفہان میں حضرت عیسیٰ کے بال بالکل گہرے سیاہ دکھائے گئے۔ حضرت عیسیٰ کو مصلوب کرنے کے بیشتر مناظر میں صلیب کو نہیں دکھایا گیا ہے۔ ایک جگہ پر جہاں انہیں کھڑا دکھایا گیا وہاں ایک ستون ہے۔ ایک اور جگہ پر جہاں آپ کو مصلوب ہوتے دکھایا گیا ہے وہاں آپ کوستون پر کافی بلندی پر دکھایا گیا مگر صلیب وہاں بھی موجود ہیں۔ اس منظر میں آپ کے دونوں بازو مصلوب ہونے کے سے انداز میں پھیلے ہوئے ہیں مگر صلیب کہیں نہیں ہے۔ دونوں بازو کھلی فضاء میں پھیلے دکھائے گئے ہیں۔ اس منظر میں آپ نے ایک تہبند باندھ رکھا ہے باقی پورے جسم پر کوئی کپڑا نہیں۔ اس پینٹنگ میں آپ کے بال دراز دکھائے گئے ہیں جو کاندھوں پر پھیلے ہوئے لگتے ہیں، جبکہ آپ کی داڑھی اور مونچھیں بھی دکھائی گئی ہیں۔
ایک اور پینٹنگ میں حضرت مسیح کو ایک سیاہ چٹان جیسی کسی ایسی چیز پر بیٹھا دکھایا گیا ہے جسے کرسی بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں آپ نے سُرخ رنگ کا طویل پیرہن پہن رکھا ہے اور سُرمئی رنگ کی ایک چادر اوڑھ رکھی ہے جو آپ کے دائیں بازو، دائیں ٹانگ اور پشت کو ڈھانپ رہی ہے البتہ وہ آپ کے کاندھوں اور سر کو نہیں ڈھانپ رہی ہے۔ چٹان کی چوٹی پر ایک بگلہ نما پرندہ بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ کسی حد تک یہ پرندہ شترمرغ کا تاثر بھی دیتا ہے۔ پیچھے سے تین درخت نما بھوت جھانکتے دکھائے گئے ہیںایک اور پینٹنگ میں حضرت مسیح کو فرش پر پڑے ایک مسہری نما بادل پر کھڑے دکھایا گیا ہے۔ اس میں آپ کے سر کے گرد نُور کا ایک ہالہ بنا دکھایا گیا ہے۔ آپ کے پیچھے دو سفید ریش بزرگ کھڑے دکھائے گئے ہیں ایک نے سُرمئی اور دوسرے نے گہرے بھورے رنگ کے پیرہن پہنے ہوئے ہیں۔ ایک بزرگ نے زانو پر سلیٹ یا تختی رکھی ہوئی ہے اور تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےحضرت عیسیٰ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دوسرا بزرگ بھی اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھ کرآپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دو سُرخپوش جوانسال افراد بادل نما مسہری کے نیچے سے نکلتے ہوئے آپ کی طرف متوجہ ہیں۔ پانچواں سفید ریش ماتھے پر بازو پھیلا کر ایک ہاتھ سے کتاب کھولے ہوئے آپ کی طرف توجہ کئے ہوئے ہے۔

ہم چاروں مسافر انہماک سے اس گرجا گھر کی ایک ایک پینٹنگ کو دیکھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عیسائیت کے بارے میں ہم سب کا مطالعہ ایک جیسا ہے۔ ہمارے گائیڈ علی فاطمی بھی ان پینٹنگز کی علامتوں، اشاروں، کنائیوں اور استعاروں کے بارے میں ایسی ہی وضاحتیں کر پائیں گے جیسی ہم خود سمجھ رہے ہوں گے۔ گرجے کی چھت کی طرف دیکھیں تو یہ گنبد ہے۔ گول گنبد میں چار سمتیں بنا کر چاروں طرف پینٹنگز بنائی گئی ہیں۔ ان پینٹگز میں سے ایک میں سے ایک شبیہہ کو سیڑھیوں پر سے سر اور پیٹھ کے بل لُڑھکتے دکھایا گیا ہے۔ دوسری پینٹنگ میں ایک اور شبیہہ کو سبز کُرتا اور سُرخ تہبند باندھے کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تیسری جانب موجود شبیہہ نے پورا سُرخ لباس پہن رکھا ہے۔ چوتھی جانب موجود شبیہہ ایک علامتی پینٹنگ ہے جس میں انسانی ہیولا، عمارت اور خلاء کو دکھایا گیا ہے۔ ابھی یہاں دیکھنے کیلئے چرچ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے، چلیں باہر چلتے ہیں۔(جاری ہے)

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
بلوچستان کا نئے مالی سال کا 930 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش
آرمی چیف کا چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تمام اکاؤنٹس منجمد
سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء کے لئے بڑی خوشخبری
کراچی والے ہوجائیں تیار، آئندہ دو روز گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس کل طلب
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر