Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

نقش جہاں اسکوائر بازار ، دریائے زایندہ اور خاجُوپل

Now Reading:

نقش جہاں اسکوائر بازار ، دریائے زایندہ اور خاجُوپل

نقشِ جہاں کے جنوب مغرب میں شاہی بازار ہے۔ یہ مختلف نوادرات، قالینوں، زیورات، جواہرات، پارچہ جات، الیکٹرانکس کے آلات۔ مصالحہ جات اور دیگر بے شمار اشیاء کا بہت بڑا بازار ہے۔ یہاں نئے فیشن کے سلے سلائے اور بغیر سلے مردانہ ، زنانہ اور بچگانہ کپڑوں کی دکانوں پر بڑی چہل پہل ہے۔

اس بازار کو فارسی میں بازارِ بزرگ، بازارِ قیصریہ، اور سلطانی بازار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بازار 1629ء میں بن کر مکمل ہوا۔ یہاں پر دستکاری کے نادر نمونے، قالینیوں کی دکانیں اور شیشے کے سازوسامان کی دکانیں ہیں۔یہ بازار نقشِ جہان کو کہنہ اسکوائر سے منسلک کرتا ہے۔ یہاں جوزا(سات ستاروں کا مجموعہ)بازار ، ہم آہنگی بازار، گلشنِ مراد اور دیگر بازار ہیں۔ قیصری بازار میں متعدد مساجد بھی ہیں۔ یہ مشرقِ وسطی کے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے۔ اس بازار کو پُرانا بازار بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ بازار 11ویں صدی عیسوی کے سلجوق دور سے چلا آ رہا ہے۔اس بازار میں دکانوں کا رقبہ پانچ کلو میٹر تک شمار کیا جاتا ہے۔

علی فاطمی ہمیں ساتھ لے کر بازار میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مجھے تو یہ بازارچکراچی کے لیاقت آباد کے پرانے بازار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں لگتا۔ آپ زینب مارکیٹ یا بوہری بازار جیسا بازاربھی سمجھ سکتے ہیں۔ اسے پرانے لاہور کی تنگ گلیوں والے بازار جیسا بازار بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اویس ربانی نے ڈپلومیٹک شرٹ لینی ہے اور وہ یہ لے ہی لیتے ہیں بلکہ ایرانی وزیرخارجہ کی کراچی آمد کے موقع پر مقامی ہوٹل میں پروگرام کے ماڈریٹر کے طور پر انہوں نے نقشِ جہاں کے شاہی بازار سے خریدی گئی وہ شرٹ پہن بھی رکھی تھی۔

Advertisement

آپ جب اس بازار میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی انمول خزانہ پالیا ہے۔ ابتداء میں جب صفوی دور میں اس بازار کی تعمیر مکمل ہوئی تھی تو یہاں پر سرائیں بھی بنائی گئی تھیں جہاں دوسرے شہروں اور دوسرے ملکوں سے اصفہان آنے والے تاجر قیام کیا کرتے تھے۔ یہاں قافلوں کے قیام کا بندوبست بھی ہوتا تھا۔ یہاں مارکیٹ کے آگے صحن بھی ہوتے تھے ، جہاں سرائے میں مقیم قافلوں کے لوگوں کو اپنے کاروباری معاملات طے کرنے کے مواقع ملتے تھے۔ ان صحنوں میں تاجروں کی سواریوں اونٹوں، خچروں، گھوڑوں اور گدھوں کو باندھنے اور چارہ پانی دینے کا انتظام بھی ہوتا تھا۔ یہاں پر سواری پر سے سامان اتارنے اور لادنے کا بندوبست ہوتا تھا۔
یہ بازار نقشِ جہاں کے چاروں اطراف موجود ہے۔ یہاں پر سستی اشیاء بازار کے شمال کی جانب ملتی ہیں، تاہم آپ بہت سی پُرتعیش اشیاء بازار میں ہر طرف سستے داموں خرید سکتے ہیں۔

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ بازار سلجوقوں کے دور میں آباد اور صفویوں کے دور میں یہ دوبارہ آباد ہوا۔ سلجوقوں اور صفویوں کے زمانوں میں اس بازار کی رونقوں کے ادوار میں چار صدیوں کا فاصلہ ہے۔ یہ بازار نقشِ جہاں کی تعمیر سے پہلے موجود تھا۔ اس کی تعمیر کے بعد بھی موجود رہا اور 9 صدیاں گزر جانے کے بعد اس بازار کی رونقیں آج بھی موجود ہیں اور آج تو ہم بھی اس رونق کو دیکھنے کیلئے اس بازار میں موجود ہیں۔ یہاں آپ انواع و اقسام کے مصالحہ جات کی خُوشبو سے اور ذار آگے چل کر پھرعود وعنبر اور عطریات کی خوشبو سے اپنے آپ کو شادکام کر سکتے ہیں۔

ہم بازارِ بزرگ، سلطان بازار سے نکل کر واپس نقشِ جہان میں آجاتے ہیں اور پھر واپس اس مقام کی طرف چل پڑتے ہیں جہاں پر گاڑی روک کر ہم صفوی عہد کی اس عظیم الشان یادگار کو دیکھنے کیلئے آئے تھے۔ سائے تو کافی دیر پہلے ہی ڈھل چکے تھے اب تو رات ہوچلی ہے۔ ہم صبح تہران سے نکلے اور یہاں اس بازار سے نکلتے ہوئے بھی تھکاوٹ کا کوئی احساس نہیں ہے۔ علی فاطمی پوچھتے ہیں کہ اب کہاں چلیں، پھر خود ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ خاجو پل دیکھنے چلتے ہیں۔ ہم سکھر کے لینس ڈاؤن برج کو یاد کرتے ہیں، پھرلندن کا ٹاور ہل برج یاد آتا ہے، پھر سارے دیکھے ان دیکھے پُل یاد آنے لگتے ہیں۔ بون اور کولن کو جدا کرنے والا دریا رائن کا پل بھی یاد آتا ہے۔ ہمارے اپنے شہر کراچی میں لیاری ندی پر سہراب گوٹھ سے گلبائی تک لگ بھگ دس پُلوں کی یاد آتی ہے۔ اصفہان کے اس خاجو پُل کی کیا خاص بات ہوگی، چلیں چل کر دیکھتے ہیں۔ دراصل ہمارے پڑوس میں ایران ایک ایسا ملک ہے جو صنعتی اور سائنسی انقلاب کے بعد کبھی کسی یورپی ملک کی براہِ راست نوآبادی نہیں رہا، اس لئے یہاں پر ترقی نوآبادیاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے نہیں ہوئی اور اس کی ترقی کی ترجیحات غیرملکی آقاؤں نے نہیں کیں، اسی لئے یہاں کی ترقی خالصتاً مقامی ہے اور مقامیت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔

Advertisement

خاجُو پُل دریائے زایندہ پر بنایا گیا تھا۔ یہاں اس دریا کو زایندہ رُود کہتے ہیں۔ ہم بارشوں میں پہاڑوں سے بہہ نکلنے والی اپنی ندیوں کو رود کوہی کہتے ہیں ۔
زایندہ دریا وسطی ایران کا سب سے بڑا دریا ہے۔ یہ دریا کوہَ زاگرس سے نکلتا ہے۔ زاگرس کا پہاڑی سلسلہ تین ملکوں ایران، عراق اور ترکی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کی لمبائی 16سو کلومیٹر ہے۔ کوہِ زاگرس ایران کے شمال مغرب سے شروع ہوتا ہے اور ترکی کے جنوب مشرق تک چلاجاتا ہے۔ یہ عراق کے شمال مشرق میں میں بھی پھیلا ہوا ہے۔
دریائے زایندہ گاوخونی میں پہنچ کر ختم ہونے سے پہلے تین یا چار سو کلومیٹر کا سفر کرتا ہے۔ اسے صوبہ اصفہان کی زندگی کی لائن کہا جاتا ہے۔ یہ دریا یزد شہر کے شمال مغرب سے گزرتا ہے۔ 1971ء میں اس دریا پر کوہ رنگ ڈیم بنایا گیا جس کے ذریعے دو میل کا ٹنل ڈال کر کاشتکاری کے مقاصد کیلئے پانی حاصل کیا گیا۔ اس کا پانی زیرِ زمین ذخیرہ کیا گیا تاکہ یہاں کنوؤں کے ذریعے پانی حاصل کیا جا سکے۔

ہم خاجو پُل کے قریب پہنچے، رات کے وقت پُل پر روشنیاں جگمگ جگمگ کر رہی تھیں۔مگر دریا کے آثار کہیں بھی نہیں تھے۔ جب پانی ہی نہ ہو تو پُل کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ اصفہان کا پانی یزد کو ملا تو دریا تو نہ رہا۔ مجھے اپنے دریاؤں کے المیئے یاد آ رہے ہیں۔ فطرت نے جیسی فیاضی سے ہماری سرزمین کو دریاؤں کی شکل میں پانی کی نعمت سے نوازا تھا ہم نے اس کی قدر نہ کی اور اپنے دریا بیچ دیئے۔ پھر رہی سہی کسر ہماری ڈیموں کی تعمیر کے شوق نے پوری کردی۔ ہم دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو روکیں گے تو قدرت بھی اپنی فیاضیوں سے ہاتھ اُٹھا لے گی۔ اب سات دریاؤں کی سرزمین پر پمارے پاس صرف سندھ ساگر، جہلم اور چناب رہ گئے ہیں۔ راوی، بیاس اور ستلج ہم نے بیچ کھائے، ہاکڑا پہلے ہی سُوکھ گیا تھا۔ میں زایندہ کا کیا نوحہ لکھوں۔ اس دریا کے لفظی معنی “زندہ” ہیں ،مگر میں اس سُوکھے دریا کو زندہ کیسے مان لوں۔

خاجوپُل کو1650ء میں صفوی بادشاہ عباس دوم نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ ساتواں صفوی بادشاہ تھا۔ پُل کی تعمیر کا مقصد خاجُو اور حسن آباد دروزاہ کے اضلاع کو تختِ فولاد اور شاہراہ شیراز سے ملانا تھا۔ مگر یہ محض پُل نہیں ہے۔ یہ فنِ تعمیر کا ایک لازوال شاہکار ہے۔اٹھارویں صدی کے امریکی اسکالر آرتھرپوپ اور ستارھویں صدی کے فرانسیسی صراف اور سیاح ژاں شارڈن نے اس پل کو الگ الگ وقت میں یہاں آکر دیکھا تھا اور کہا تھا کہ”فنِ تعمیرات اس پل پر پہنچ کر ختم ہوگیا ہے۔یہاں ترنم اور وقار کا ملاپ ہوا ہے جس سے ایک لگاتار مسرت نے جنم دیا ہے۔ ” یہاں پہنچ کر فارسی کے یگانہ شاعر صائب تبریزی نے کہا تھا۔

ایں چہ حرفی است کہ در عالم بالاست بہشت

Advertisement
ہر کجا وقت خوش اُفتاد، ھما جا است بہشت
(یہ کیا مقام ہے کہ جہاں اوپر کی طرف بہشت کا منظر ہے جہاں وقت مُسرت انگیز ہے، وہیں پر ہی تو بہشت ہے۔)

ہم گاڑی سے اُتر کر پُل کی جانب کو چل پڑے۔ نیچے جہاں دریا بہتا تھا وہاں لوگ کھڑے ہیں۔ اوپرپُل کے دروازوں پر بھی چہل پہل ہے۔ اس کے اوپر چھت پر ہم چند قدم ہی چلے میرا جی اُچاٹ ہوگیا۔ دریا کہاں گیا ؟ میں نے راوی اور ستلج کو ٹھاٹھیں مار کر بہتے دیکھا، پھر میں نے وہاں پر خاک اُڑتے دیکھی۔ میں یہاں پر اُڑتی خاک کو کیوں دیکھوں؟ میں پُل کے درمیان سے ہی واپس پلٹ پڑتا ہوں۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
بلاول بھٹو کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات
صدر پاکستان 2 روز تک لاڑکانہ میں قیام کریں گے
صیہونی گروپ کے ساتھ وائرل تصویر پر شاہد آفریدی کا ردعمل آگیا
خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے بغیر بجٹ کی قانونی حیثیت چیلنج کرتا ہوں، علی ظفر  
وزیر اعظم کا حجاج کرام کی شہادتوں پر اظہار افسوس
رومانیہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم بھیجے گا
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر