Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

اصفہان مچھلی گھر یا سمندر میں مچھلیاں

Now Reading:

اصفہان مچھلی گھر یا سمندر میں مچھلیاں

گاڑی میں بیٹھے تو نئی منزل کا پتہ چلا۔ اب ہم اصفہان اکیوریم جا رہے ہیں۔ اب تک ہمارے ذہن میں پچاس پچپن سال پہلے کا دیکھا ہوا کلفٹن کراچی کا مچھلی گھر تھا۔ پھر کبھی کسی گھر میں شیشے کے شوکیس میں بند مچھلیاں تیرتے دیکھیں۔ لیکن اب تومچھلی گھر دیکھنے جارہے ہیں یہ فی الواقعی ململ سمندری ماحول میں سینکڑوں رنگ و نسل کی مچھلیاں اور آبی حیات موجود ہے۔ ہم باغِ پرندگان سے نکل کر دریائے زایندہ کو قلمکار پُل سے عبور کرنے کے بعد گاڑی میں بیٹھے اور محاورتاً نہیں حقیقتاً پلک جھپکتے ہی اصفہان اکیوریم پہنچ گئے۔ اس اکیوریم کے باہر ایک تفریحی پارک ہے جہاں بیٹھنے اور سستانے کیلئے بنچیں موجود ہیں۔ یہاں پر رینگنے والے جانوروں کا باغ بھی ہے۔ سنا ہے وہاں ہر رنگ و نسل کے سانپ، اژدہے، چھپکلیاں، رنگ بدلتے گرگٹ، کچھوے، بے جبڑے کی مچھلیاں، مگرمچھ، ٹواٹارا، پوزہ سراں اور دیگر جانداروں کو اُن کے فطری ماحول میں رکھا گیاہے۔ مگر ہم اس طرف نہیں جاتے۔ ہم توصرف مچھلیاں ہی دیکھ پائیں گے۔ سانپ اور اژدہے ہم سے نہ دیکھے جائیں گے۔
ہم اکیوریم سے باہر بنے پارک کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس پارک میں بنے چوکور بلاک اور ان کے چاروں طرف اُگی گھاس ایک خوبصورت منظر بناتی ہے۔اس پارک کی راہداریوں پر اُگے درختوں کی خوبصورتی ایک اور ہی منظر پیش کرتی ہے۔ ہم مچھلی گھر کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مچھلی گھر تہہ خانے میں بنا ہوا ہے۔ دروازے پر فارسی میں آکوریوم اصفہان اور نیچے انگریزی میں بھی Isfahan Aquarium لکھا ہوا ہے۔ ٹکٹ حاصل کرلئے گئے۔ یہاں سے نشیب کی طرف جانے والا راستہ ایک خاص انداز میں بنایا گیا ہے۔ زیرِ زمین جانے کیلئے لفٹوں، سیڑھیوں یا خودکار زینوں کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ ایک نشیب کو جانے والا راستہ ہے جو لمبے دائروں میں نیچے چلا جاتا ہے۔ گویا آپ آرام سے چلتے چلتے نیچے جا پہنچتے ہیں۔ یہاں ساڑھے تین سو آبی نسلوں کے ساڑھے چھ ہزار آبی جانور ہیں۔ یہ اکیوریم نژوان فاریسٹ پارک میں واقع ہے۔
دراصل اصفہان کا سارا حسن اور ساری خُوبصورتی دریائے زایندہ کے بہاؤ کی مرہونِ منت ہے۔ مگر میں جس حال میں اس دریا کی گزرگاہ کو دیکھ آیا ہوں ، اس سے مجھے عالمی ماحولیاتی صورتحال سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔ ہم شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ ترقی کے نتیجے میں قائم ہونے والے نظام کے تقاضوں نے عالمی ماحول اور خود اس زمین پر زندگی کی بقاء کیلئےسنگین خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ مزید برآں عالمی سرمایہ داری نے پانی کے وسائل پر اجارہ داریاں حاصل کرنے کیلئے سماجی اور سیاسی طور پر پسماندہ ممالک کی بے حس انتظامیہ کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لیا ہے مگر ایران کے معاملے میں تو ایسا نہیں ہے۔ ایران تو سامراج کے دل میں کانٹے کی طرح چُبھتا ہے تو پھر ایران کے زندہ دریا کا پانی کہاں چلا گیا۔ بات وہی عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی ہے۔ انہی ماحولیاتی تبدیلیوں نے دریائے زایندہ کا پانی ہڑپ کرلیا ہے۔


ہم نشیب میں جانے والی گزرگاہ سے اس مقام پر جا پہنچتے ہیں جہاں انسانی آرٹ فطرت کی رنگارنگیوں سے مل کر یک جان و یک قالب ہو جاتا ہے۔ ہم جہاں پیدل چل رہے ہیں اس کے دائیں بائیں اور اوپر کی جانب وسیع سمندر کا منظرہے جہاں آبی مخلوق اپنے فطری ماحول میں زندگی کے معاملات میں مصروف ہے۔ آبی مخلوق ہماری موجودگی کو کیوں نظرانداز کر رہی ہے۔ میرے خیال میں آبی مخلوق ہمیں بھی اسی ماحول کے ایک حصے کے طور پر قبول کر رہی ہے۔

Advertisement
مچھلیاں غول در غول تیرتی ہوئی ہمارے دائیں بائیں اور اوپر پوری فطری آزادی کے ساتھ تیر رہی ہے۔ وہ اس ماحول میں بڑی حد تک آسودہ لگتی ہیں۔ میں ایسا اس لئے سمجھ رہا ہوں کیونکہ ان کا کوئی عمل غیرفطری محسوس نہیں ہو رہا۔
اس اکیوریم میں چھ مختلف نسلوں کی شارک مچھلیاں ہیں۔ ہم کراچی میں شارک مچھلیوں کا رقص اور کھیل تماشہ بھی دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح کا ڈولفن کا ایک رقص ہم نے بیس سال قبل ایرانی جزیرے کیش میں بھی دیکھا تھا مگر یہاں مجھے ڈولفن نظر نہیں آئی اور نہ ہی یہاں شارک کا رقص تھا۔ ڈولفن تو ہم اپنے بچپن سے اپنے دریائے سندھ میں دیکھتے آئے ہیں۔ اسے ہم اپنی سرائیکی زبان میں بلھن کہتے ہیں۔ دریائے سندھ کی بلھن کی آنکھیں نہیں ہیں۔ یہ اندھی بلھن کہلاتی ہے۔ یہاں اس اکیوریم میں لگ بھگ ایک سو کے قریب ایسے آبی جانور ہیں جو خطرناک ہیں مگر کیونکہ یہ آبی ٹنل میں سمندر کے قدرتی ماحول میں ہیں اس لئے یہ اپنے ماحول سے مطمن ہیں اور ہم اپنے طور پر مطمن ہیں کہ ہم انسان کے تخلیق کردہ اس شیشے کے ٹنل میں محفوظ ہیں۔ یہاں کا پانی بالکل سمندری پانی جیسا محسوس ہوتا ہے۔ آرٹ کا حسن ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ فطرت سے قریب تر ہوتا ہے اور حقیقی طور پر فطرت کا عکس ہوتا ہے۔ اکیوریم میں سمندری نباتات کواُگانا بھی تو آرٹ کا معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ یہاں سمندری درخت بالکل اصلی محسوس ہوتے ہیں اور سمندری مخلوق ان سے کوئی اجنبیت محسوس کرتی نہیں گرتی نہیں لگتی۔ اکیوریم کی تہہ میں جو ریت بچھائی گئی ہے وہ تو یقیناً سمندر سے ہی لائی گئی ہوگی۔ اس ریت کے اوپر پانی کی شفافیت دیکھ کر مجھے 1969ء اور 1970ء کے زمانے کا کراچی کا سمندر یاد آجاتا ہے جو اتنا شفاف ہوتا تھا کہ کیماڑی میں سمندر کے پانی میں پھینکے جانے والا دس پیسے یا چار آنے کا سکہ دس بارہ فٹ سے بھی نیچے تہہ تک پہنچ جانے کے باوجود آئینے کی طرح صاف نظر آتا تھا۔ شفاف پانی میں مختلف انواع کی مچھلیاں پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت نہایت پُرامن طور پر تیرتے دیکھ کر طمانیت ہوتی ہے کہ اس دنیا میں ایسی مخلوق بھی ہے جو رزق، طاقت اور ملکیت کا ذخیرہ نہیں کرتی۔ جو آج کا رزق آج مل جانے پر مطمن ہے اور مل بانٹ کر کھا رہی ہے۔ سمندری پتھروں کو دیکھ کر آبی حیات کی اُن سے ہم آہنگی دل خوش کر دیتی ہے۔ بعض مقامات پر پتھروں پرہزاروں برس قدیم کے پہاڑوں پر تراشے ہوئے انسانی مجسمے ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ پانی کے اندر مصوری کے زندہ اور نادر نمونے ایسا قدرتی سمندری ماحول پیدا کرتے ہیں جو ہم جیتے جاگتے سوچنے سمجھنے والے انسانوں کو حقیقی محسوس ہوتے ہیں تو آبی جاندار تو اس مصوری کو حقیقت ہی سمجھتے ہوں گے۔ سمندری کچھووں کو دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ یہ زمین پر رینگ رینگ کر چلنے والا کچھوا ہے جو خرگوش سے اپنی مسقل مزاجی سے ریس جیت سکا تھا ورنہ اس کی جیت کے حالات بالکل نہیں تھے۔ اس اکیوریم میں سمندری نمکین اور دریائی میٹھے شفاف پانی کے آبی جانداروں کیلئے الگ الگ ماحول اور مقامات موجود ہیں۔ سمندری گھوڑے کیلئے الگ ماحول ہے اور دیو ہیکل دریائی کچھوے کیلئے الگ ماحول ہے۔ یہاں سمندری پہاڑوں کا ماحول دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ انسانی صنائی کی صلاحیت اپنے آپ کو فطرت سے اس قدر ہم آہنگ بھی کر سکتی ہے۔
یہاں ایک اور دلچسپ نظارہ سمندری پہاڑوں سے سمندری آبشاروں کے پانی کا بہتے بہتے سمندری پانی میں شامل ہونا ہوتا ہے اور پھر آبشاروں کے اس پانی میں میٹھے پانی کی مچھلیاں دم ہلا کر آگے بڑھتی ہیں تو یہ کسی شاعر کا مصرعہ محسوس ہوتی ہیں۔ آگے گیلی دریائی چٹانوں کا منظر نہایت دلکش محسوس ہوتا ہے۔ ایک پورا چکر کاٹنے کے بعد ہم ایک شاپنگ ایریا میں آجاتے ہیں، جہاں اس اکیوریم کے سووینئرز فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک کیفے ہے جہاں چائے، کافی، بسکٹ اور ٹھنڈے مشروبات کے علاوہ دیگر بیکری ایٹم اور اشیائے خوردونوش موجود ہیں۔ بعض دیگر اسٹالز پر بچوں کی دلچسپی کی اشیاء بھی موجود ہیں، ہم چلتےچلتے اسی گزرگاہ کے نشیب سے فراز کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پھر باہر آجاتے ہیں۔ پھرہم اس مقام کی طرف چل پڑتے ہیں جہاں ہم نے گاڑی پارک کی تھی۔ اس وقت دن کے بارہ بج کر پچیس منٹ ہورہے ہیں۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
کراچی کا موسم آج بھی گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کا ترکیہ کا سرکاری دورہ
غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، چیئرمین ایف بی آر
سعودی عرب میں عازمین حج کی آمدورفت کے لیے فلائنگ ٹیکسی کا آغاز
وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اعلان
بجٹ پر ایم کیو ایم پاکستان کا ردعمل سامنے آ گیا
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر