Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

کوہِ صفّہ کیبل کار، پہاڑ کی چوٹی کے بلاوے پر روانگی

Now Reading:

کوہِ صفّہ کیبل کار، پہاڑ کی چوٹی کے بلاوے پر روانگی

ہم دامنِ کوہ میں پارک کے سامنے پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں خواتین، مردوں اور بچوں کا اچھا خاصا ہجوم ہے۔ پارک کے اندر مسجد شہدا واقع ہے۔ علاوہ ازیں یہاں پر ایک سُپر مارکیٹ ہے۔یہاں پر ایک مقام بچوں کی دنیا ہے۔ایک طرف کو کھلیوں کا پارک بھی ہے۔سامنے شمال کی جانب شاندیز ریسٹورنٹ ہے۔ یہ پارک پہاڑ کی چوٹی تک چلا جاتا ہے۔ یہاں ان لوگوں کیلئے کشادہ راستے بنے ہیں جن پر چل کر مہم جُو خواتین اور حضرات پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ سکتے ہیں یا پھر بلندی سے ہموار زمین تک واپس آسکتے ہیں۔ یہاں پر آپ کو لوگ قافلوں کی صورت میں پہاڑ کی چوٹی کی طرف جاتے یا وہاں سے واپس آتے نظرآئیں گے۔
ہم پارک کے سامنے گاڑی پارک کر کے اُتر آئے۔ سڑک سے پارک تک پہنچنے کیلئے آگے بڑھے ۔ ہم سب ایک قافلے کی شکل میں سڑک سے پارک کے قریب آگئے۔جو لوگ اس پارک کے قریب رہ کر پہاڑ اور پارک کے ساتھ جنگل کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں، وہ یہاں قریبی ہوٹلوں میں قیام بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک دو ستاروں والا حُمام ہوٹل موجود ہے جو صُفّہ کے ٹرمینل پر دروازۂ شیراز پر واقع ہے۔ یہ اصفہان کے سٹی سنٹر کمپلکس سے متصل ہے۔ اس کے قریب آپ کو شیراز جانے والی بس بھی مل سکتی ہے۔ یہاں دو ستاروں والا ایک اور ہوٹل چہل پنجرہ اپارٹمنٹس ہوٹل ہے۔یہ ہوٹل دریائے زایندہ کے کنارے پر بنایا گیا۔
کسی دریا کے کنارے بنے ہوٹلوں کا سب سے خوبصورت نظارہ دریائے نیل کےکناروں پر ہے۔ قاہرہ میں نیل کے کناروں پر ہوٹلوں کی طویل قطار ایک جہانِ دگر میں لے جاتی ہے۔ رات کےوقت دریائےنیل میں بادشاہ(کنگ) دریائی جہاز مسافروں کو بٹھا کر تیرنا شروع کرتا ہے۔ پھر وہ کئی گھنٹے تک نیل میں تیرتا رہتا ہے۔ جہاز کے اندر مرداور خواتین ڈانسرز کا ہوشربا رقص ہوتا ہے۔ آپ کو دریا کے دوسرے کنارے پر انٹرکانٹیننٹل، موون پِک، حیات ریجنسی، رٹز، میریئٹ اور دیگر کئی بین الاقوامی ہوٹل نظر آتے ہیں، کوئی ساٹھ منزلہ، کوئی اسی منزلہ، کوئی پچاس منزلہ اور آپ کو جتنی منزلیں زمین پر خشکی میں نظر آتی ہیں، اتنی ہی منزلیں نیچے نیل کے پانی میں نظر آتی ہیں۔ ان ہوٹلوں کی روشنیاں آپ کی نظروں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔ پھر کنگ جہاز میں طوفانی رقص بیلے ڈانس شروع ہوتا ہے۔ آپ کو رقاصہ کے بدن کا ایک ایک انگ رقص کرتا محسوس ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ کہنیوں، پنڈلیوں، بازوؤں، گھٹنوں، ٹھوڑی، گالوں اور بھنوؤں کا رقص الگ الگ منظر پیش کرتا نظر آتا ہے۔
چہل پنجرہ ہوٹل کا نام بھی ایک معمہ ہے۔ کیا اس ہوٹل میں چالیس پنجرے ہیں یا چالیس کمرے یا کچھ اور چالیس چیزیں ہیں جنہیں پنجرہ کہا گیا ہے۔ دریائے زایندہ بہہ رہا ہو تو اس ہوٹل کا الگ ہی نظارہ ہوتا ہوگا۔ مگر اب تو دریا نہیں بہہ رہا اور ہم بھی ایک اچھے ہوٹل میں قیام کر چکے ہیں، بلکہ ہم تو آج اس ہوٹل میں اپنی دوسری اور آخری رات بسر کریں گے۔
ہم پارک کی سیڑھیوں کے قریب آکھڑے ہوئے۔ سیڑھیوں کے اختتام پر ایک فولادی محراب بنی ہوئی ہے۔ جس کے نیچے سے گزر کر ہم آگے کی طرف چل پڑتے ہیں۔ سنگریزوں کی پتھریلی زمین پر پارک کا تصور ہی کمال ہے۔ جہاں سے ہم پارک میں داخل ہوئے وہاں زمین پر کنکر یاں نظر آتی ہیں مگر گھاس نظر نہیں آتی ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں گھاس اُگائی ہی نہیں گئی۔ یہاں گھاس کے پورے میدان موجود ہیں۔ غالباً اہلِ ایران یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں قدرت سے پہاڑ کے دامن میں ایسی زمین ملی تھی، جسے ہم نے ایسا بنا دیا۔یہی بات تو اقبال نے کی تھی۔

Advertisement
بیابان و کوہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
ہم ارد گرد کے درختوں پر نظر ڈالتے کنکریوں پر چلتے ایک خوبصورت دیوار کے ساتھ آ کر کھڑے ہوئے۔ اس دیوار کے قریب سیڑھیاں اوپر کی طرف جا رہی ہیں۔ ہمیں یہاں کھڑا کر کے علی فاطمی کیبل کار کے ٹکٹ لینے چلے گئے۔ ہم پارک، باغ اور فضاء کو ایک خوشگوار احساس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ شام ہو چکی ہے۔ سورج غروب ہونے کا منظر ہم نہ دیکھ سکے۔ کیونکہ ہماری مغربی جانب پارک کے طویل درخت ہمارے اور ڈوبتے سورج کے درمیان حائل تھے۔ہم میر انیس کو یاد کر رہے ہیں۔
جنگل میں پھروں یا سیرِ صحرا دیکھوں
یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں
ہر جاتری قدرت کےہیں لاکھوں جلوے
Advertisement
حیران ہوں دوآنکھوں سےکیاکیادیکھوں
ہم کنکروں پر کھڑے ہو کر جنگل دیکھتے یا غروب آفتاب دیکھتے۔ علی فاطمی واپس آئے اور ہم سیڑھیوں پر چڑھ کر ایک ہال میں آئے جہاں ایک قطار کے پیچھے ہمیں کھڑا کر دیا گیا۔ یہ قطار اس ہال سے نکل کر ایک چکر کاٹ کر چیئرلفٹ کی طرف جانے والی سیڑھیوں کی طرف جاتی ہے اوران سیڑھیوں کے اختتام پر دائیں جانب کو چیئرلفٹ آکر ٹھہرتی ہے یا ٹھہرائی جاتی ہے۔ یہاں سے خواتین وحضرات اور بچےکیبل کار میں سوار ہوتے ہیں۔ ہمارے آگے تو ایک دنیا کھڑی ہے۔ اتنی دیر تو ایسی لمبی قطار میں یا تو اسکول کی اسمبلی میں کھڑے ہوئے یا پھرسٹی اسٹشن پر ریلوے کا ٹکٹ لینے کیلئے کھڑے ہوئے۔ اب ہمیں احساس ہواکہ علی فاطمی نے ٹکٹوں کے حصول میں اتنی دیر کیوں لگادی تھی۔ کیونکہ انہوں نے بھی تو قطار میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لئے تھے۔ یہاں قطار تو موجود ہے مگر کوئی ہڑبونگ، کوئی افراتفری، کوئی آپادھاپی موجود نہیں۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچے بھی نہیں رو رہے ۔ یہ قطار بڑھ نہیں رہی بلکہ رینگ بھی نہیں رہی۔ ایک قدم آگے بڑھنے کے بعد دوسرا قدم اُٹھانے کیلئے خاصا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس انتظار میں کوئی کوفت نہیں چونکہ یہاں موجود خواتین اور حضرات سے فارسی سننے کا اپنا ہی لطف ہے۔ بچوں کی فارسی میں چہکاریں اپنا الگ رنگ جما رہی ہیں۔
سیڑھیوں کی دوسری جانب ہمیں الگ پارک کی گئی نصف درجن کے قریب کیبل کاریں نظر آ رہی ہیں جو اس مرکزی دھارے سے الگ کھڑی ہیں جو پہاڑ کی چوٹی پر جانے والوں کولے جا رہا ہے یا واپس لا رہا ہے۔ ہماری پیچھے بھی چیئرلفٹ کے ذریعے کوہِ صفّہ کی چوٹی کو سر کرنے کی نیت سے آنے والوں کی اک لمبی قطار موجود ہے۔
غالباً کیبل کار کی انتظامیہ کو یہ محسوس ہو چکا ہے کہ ہم دل ہی دل میں فیض صاحب کی 1967ء میں کہی گئی غزل کے شعر دہرا رہے ہیں۔
جذبِ مسافرانِ رہِ یار دیکھنا
سر دیکھنا نہ سنگ، نہ دیواردیکھنا
Advertisement
کوئے جفا میں قحطِ خریدار دیکھنا
ہم آگئے تو گرمئ بازار دیکھنا


چونکہ ہمارے آتے ہی گرمئ بازار دیکھنے کے قابل ہو گئی۔ لہذا کیبل کار کی انتظامیہ کو پارک کی گئی کاروں کو بھی میدان میں لانا پڑا۔ ہم لمحہ بہ لمحہ اپنے پیچھے کی قطار کو بڑھتے اور آگے کی قطار کو کم ہوتا دیکھتے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔ بالآخر وہ لمحہ آگیا جب ہم چیئرلفٹ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک کیبل کار میں منظرنقوی، علی فاطمی اور میں سوار ہوئے اور دوسری میں اویس ربانی، علی زین نقوی اور ہماری گاڑی کے ڈرائیور بیٹھے اور کیبل کار چل پڑی۔
ہم پارک کے درختوں کے اوپر فضا میں بچھائی گئی تاروں پر جھولے میں بیٹھے جھولتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ میں پچھلے سال ستمبر میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ لندن میں کیبل کار کا سفر کر رہا تھا۔ اسے ڈینگل وے بھی کہتے ہیں مگر لندن کی کیبل کار کا اصل نام آئی ایف ایس کلاؤڈ کیبل کار ہے۔ یہ کیبل کار لندن کے دریائے ٹیمز کو عبور کرتی ہے۔ اس چیئرلفٹ کے نظارے بھی خُوب ہیں۔ یہ گرینچ اور ڈاک لینڈ کے علاقے میں واقع ہے۔ اس پر سفر کرتے ہوئے دور سے ملینئم ڈوم بھی نظر آتا ہے۔ یہ بہت بڑا گنبد اکیسویں صدی کے نئے ہزاریئے کے آغاز کی علامت کے طور پر 2000ء میں بنایا گیا تھا۔ اس سال لندن میں دوسرا بڑا اضافہ لندن آئی کی شکل میں ہوا تھا۔ یہ بھی کیبل کار ہے مگر یہ جھولے کی طرح بنائی گئی ہے۔ جب وہ اپنی انتہائی بلندی پر ہوتی ہے تو پورا لندن شہر نیچے نظر آ رہا ہوتا ہے۔
ہم اوپر پہاڑ کی طرف جا رہے ہیں اورنیچے درخت پوری استقامت کے ساتھ جم کر کھڑے ہوئے ہیں۔ نیچے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد پختہ راستوں پر پہاڑ کی جانب چڑھائی چڑھ رہی ہے یا پھر لوگ پہاڑ کی بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں۔ یہ لوگ اکا دکا نہیں ہیں بلکہ یہ درجنوں اور بیسیوں قافلوں کی شکل میں آ جا رہے ہیں۔ کہیں کہیں نوعمر نوجوانوں کی ٹولیاں موج مستی میں چڑھائی اور اُترائی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اچھا، اوپر چڑھنے یا اُترنے کیلئے کوئی ایک ہی راستہ نہیں ہے بلکہ پہاڑ کی مختف سمتوں کیلئے الگ الگ مختلف راستے ہیں اور الگ الگ راستوں پر الگ الگ قافلے کوہ پیمائی کے عمل میں مصروف ہیں۔ یہاں موٹر سائیکل سوار بائیکنگ کا شوق پورا کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔

Advertisement
علی فاطمی کہتے ہیں کہ ہم پہاڑ کی بلندی سے غروب آفتاب کا نظارہ کرتے تو شاید زیادہ پُرلطف ہوتا۔ میں کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم اب دیکھ رہے ہیں، وہ اس وقت نہ دیکھ پاتے۔ میں علی فاطمی سے گفتگو میں اپنی فارسی دانی کو آزمائش میں ڈال رہا ہوں۔ میں درختوں کے اس جنگل سے ہٹ کر ایک خود رو پودے کو دیکھتا ہوں جو پارک کے درختوں سے کچھ دور تنہا کھڑا ہے۔ شاید وہ یہ بتا رہا ہے کہ اگر زندگی کی علامات ہوں تو اس طرح بھی جیا جا سکتا ہے۔ بلندی کی طرف جانے کیلئے کئی مقامات پر سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں اور یہ بہت دور تک اوپر چلی جاتی ہیں۔ کوہِ صفّہ کے دامن میں پارک کو بہت خوبصورت شکل دی گئی ہے۔ یہاں کیاریاں کیاری بہ کیاری اوپر کو چڑھتی چلی جاتی ہیں۔ صنوبر اور سرو کی درختوں کے آس پاس سبزہ نہیں ہے۔ اس منظم پارک کے ساتھ ہی فطرت غیرمنظم انداز میں جھاڑیوں کی نمود و پرداخت میں مصروف ہے۔ اب آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں، اصفہان لوہار گلی سے مظفرآباد کا نظارہ پیش کر رہا ہے۔ ہم لوہار گلی میں بیٹھ کر مظفر آباد کی بتیاں دیکھنے میں پہروں گزار دیتے تھے۔ یہاں اصفہان رنگوں اور روشنیوں کا عروس البلاد لگ رہا ہے۔ شہر کا نظارہ اس قدر دلفریب ہے کہ دل کرتا ہے کہ اسے انسان دیکھتا ہی رہے۔ آپ کو اس قدر بلندی سے شہر کی ڈرائنگ سمجھ میں آجاتی ہے۔ ہم شہر کے علاقوں سے ناواقف ہیں مگر ہم اپنے دیکھے ہوئے منظروں سے شہر کو پہچان سکتے ہیں۔ ہم کل شام کو اصفہان پہنچے اور آج ہماری دوسری شام رات میں بدل رہی ہے۔اب تو یوں لگتا ہے کہ نقشِ جہاں، خاجُو پل، باغ پرندگان، اکیوریئم، چہل ستون محل، درگاۂ سیدہ زینب بنت امام موسی کاظم، آرمینییائی کیتھڈرل اور کوہستان صُفّہ پارک کو کئی جنموں سے دیکھتےآ رہے ہیں۔ ہم اصفہان دیکھ رہے ہیں، نصف جہان دیکھ رہے ہیں، ہم روشنیوں کا ایک سیلِ رواں دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ ہم کیبل کار پر رواں دواں ہیں، اس لئے یہ شہر بھی ہمیں اپنے ساتھ رواں دواں لگ رہا ہے۔ (جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سول اسپتال کراچی میں 36 کروڑ روپے مالیت کی کینسر کی دوائیں چوری ہوگئیں
ضلع کرک میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 5 سیکیورٹی اہلکار شہید
ملک کے معروف برآمد کنندگان کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار
بہتر ہوتا حکومت پیپلزپارٹی سے مشاورت کرکے بجٹ بناتی، بلاول بھٹو
اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی مخالفت، میڈیکل آلات پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش
بلوچستان کا نئے مالی سال کا 930 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر