Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

ہوٹل پارسیان علی کاپُو سے باغِ پرندگان تک

Now Reading:

ہوٹل پارسیان علی کاپُو سے باغِ پرندگان تک

خاجُو پُل کی دلکشی دریا کے بہتے رہنے سے تھی۔ منظرنقوی صاحب مجھے پورے وثوق اور اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ دریا اب بھی بہتا ہے اور پورے زور و شور سے بہتا ہے مگر اب غالباً خشک سالی کے باعث دریا میں پانی نہیں ہے۔نقوی صاحب کی وضاحت پر بھی میری مایوسی ختم نہیں ہوتی۔ ہمارے دریا گرمیوں کے موسم میں اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔ بے شمار ڈیم، بیراج اور نہریں بن جانے کے باوجود کسی نہ کسی طرح پانی پہنچ رہا ہے۔ اگر ہم فطرت کے ساتھ اسی طرح مذاق کرتے رہے توہم فطرت کو اپنے ردعمل سے روک نہیں سکیں گے۔
خاجُو پل سے واپسی کا فیصلہ تنہا میرا نہیں تھا۔ اس فیصلے میں ہم سب یک رائے تھے۔ خاجو پُل ہمارے ہوٹل سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھا، اور یوں بھی گاڑی نے تو ہمیں راستے میں ہی اتار دینا تھا کیونکہ ہمارے ہوٹل کے آگے تو ہر طرح کی گاڑیوں کا چلنا ممنوع ہے۔ ہم ہوٹل واپس پہنچے تو سیدھے ریسٹورنٹ چلے گئے اور شکم سیری میں مصروف ہو گئے۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہی سو گئے۔ اگلے روز ہم نے صبح سے شام تک اصفہان کو خوب اچھی طرح سے دیکھنا تھا۔
صبح سویرے نقوی صاحب اور میں ایک ساتھ ناشتے کیلئے ریسٹورنٹ میں جا بیٹھے اور یہ سوچ کر ناشتہ کیا کہ نصف جہان کی سیر کے دوران اگر دوپہر کو کچھ کھانے کو نہ مل سکے تو اسی ناشتے کو ہی کافی سمجھیں گے۔ تھوڑی دیر میں اویس ربانی، علی زین نقوی اور علی فاطمی بھی ناشتے سے فارغ ہوکر اُٹھ آئے اور ہم سب باہر آکر پیدل ہی گاڑی کی طرف چل پڑے۔ کیونکہ گاڑی نے اسی مقام پر ہی پہنچنا تھا۔ جہاں کے بارے ہم نے طے کیا تھا۔ اب ہم باغِ پرندگان کی طرف جانا ہے۔ہم گاڑی میں بیٹھے تو گاڑی چند منٹوں کے بعد ہشت بہشت محل کے قریب پہنچی اور بائیں طرف کو مڑ گئی۔ہمارے دائیں طرف کو سرائے آردی بہشت ہے اور بائیں طرف کو سڑک سے ملحق ارمان کلب ہے۔ آگے ہم آتش گاہ بلیوارڈ پر چل رہے ہیں۔پھر یاناکوہ شاپنگ اسٹور آتا ہے۔آگے اشعار بریانی اینڈ کباب سنٹر ہے۔ اس سڑک پر ہی صوفوں اور قالینوں کی ایک دکان پر نظر پڑتی ہے۔آگے دائیں طرف کوچۂ آزاداں اور بائیں طرف کوچۂ نصرآباد آتا ہے۔ پھر آگے اصفہان پیزا ہے۔اب ہمارے ایک طرف بہشت اسٹریٹ ہے اور دوسری طرف زیتون اسٹریٹ ہے۔ذرا ساآگے ڈرائیونگ اسکول ہے جسے فارسی میں آموزش گاہِ رانندگئ سپاہاں لکھا گیا ہے۔آگے کینڈی اسٹور اور رضا آٹو گیلری ہے۔پھرمونار جونبان پر نظر پڑتی ہے۔ ہم آتش گاہ روڈ پر ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔آگے ایک طرف بوستانِ جنت اور دوسری طرف بوستان مہر ہے۔ہم وحدت اسلامی روڈ سے مرزا طاہر روڈ پر آتے ہیں۔پھر کبوتروں کے ٹاور پر نظر پڑتی ہے۔ آخر پھر ہمیں دریائے زایندہ کی دوسری طرف قلمکار پُل پر آجاتے ہیں۔ ہم پُل سے دریا کا نظارہ کرتے ہیں۔ ہمیں دریا میں پانی کی ایک بوندبھی نظر نہیں آتی۔پُل سے دریا کی دوسری جانب باغ پرندگان کی طرف آ جاتے ہیں۔ گویا یہ پرندوں کا باغ ہے۔


اس باغ کے قیام کو کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اسے 25 سال قبل 1998ء میں قائم کیا گیا۔اسے بلدیہ اصفہان نے قائم کیا اور وہی اس کی نگرانی اور نگہداشت کی ذمہ دار ہے۔ دنیا کے ہر شہر کی طرح اصفہان میں تمام بنیادی سہولتوں کی ذمہ داری بلدیہ اصفہان پر عائد ہوتی ہے۔ دیگرشہروں کی طرح اس شہر کی سربراہی بھی میئر کے پاس ہوتی ہے۔ اس میئر کا انتخاب سٹی کونسل کرتی ہے۔ اصفہان شہر میں 15انتظامی اضلاع ہیں۔ اصفہان کے میئر علی قاسم زادہ ہیں۔

Advertisement
بلدیہ اصفہان کا قیام 1907ء عمل میں آیا تھا۔ اس وقت حاجی محمدعلی خان شہر کے شیرف تھے جبکہ مرزا مہدی خان بلدیہ کے چیف بنائے گئے تھے۔ابتدائی طور پر بلدیہ اصفہان کے ارکان کی تعداد 25 تھی۔ 1911ء میں بلدیہ اصفہان میں شدید مالیاتی بحران پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے بلدیہ کے سربراہ کو مستعفی ہونا پڑا۔1930ء میں بلدیہ کے قواعد میں ترمیم اور تبدیلی لائی گئی جس کے تحت شہر کے میئر کے انتخاب کا اختیار وزارتِ داخلہ کو دیا گیا۔1935ء تک شہر میں صرف دوپختہ سڑکیں تھیں۔ بعد میں 1941ء میں بڑی تعداد میں پختہ سڑکیں بنائی گئیں۔
میں آپ کو باغ پرندگان کے بارے میں بتانے کی بجائے بلدیہ اصفہان کی تاریخ بتانے بیٹھ گیا۔ پرندوں کے اس باغ کا رقبہ 17 ہزار مربع میٹر ہے۔اسے آپ چار ایکڑ سے کچھ زیادہ سمجھ لیں۔ اس باغ کے چاروں طرف پودوں کی ایک باڑ لگائی گئی ہے۔ آپ اس باڑ سے دوسری طرف بعض پرندوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایک لمبا چکر کاٹ کر آپ اس جگہ پر پہنچتے ہیں جہاں ٹکٹ حاصل کرنے کے کاؤنٹر بنائے گئے ہیں۔ یہاں سب لوگ پہنچ گئے مگر منظر نقوی صاحب غائب ہیں۔ میں اس ہال کے اندر داخل نہیں ہوا بلکہ باہر کھڑا ہو کر نقوی صاحب کا انتظار کرنے لگا۔ علی زین نقوی باہر آکر میرے اندر نہ آنے کا سبب پوچھتے ہیں، پھر وہ خود ہی محسوس کرتے ہیں نقوی صاحب نہیں پہنچے ہیں۔ وہ اُلٹے پاؤں نقوی صاحب کی تلاش میں چلے گئے۔ کافی دیر بعد وہ نقوی صاحب کو ڈھونڈ کر ہی لائے۔ ویسے بھی نقوی کو نقوی نے ہی تلاش کرنا تھا، اس تلاش میں ہماری کیا مجال تھی۔
خیر ہم پرندوں کے باغ میں پہنچے۔ زیادہ تر پرندے تو جانے پہچانے تھے۔ اپنے تھر میں بارش کے بعد سوئیٹزرلینڈ سے بھی زیادہ حسین ہو جانے پر ہم نے کارونجھر کے دامن میں مور کو چلتے پھرتے ہی نہیں لمبی اُڑانیں بھرتے بھی دیکھا ہے۔ اس باغ میں مختلف قسم کے پانچ ہزار سے بھی زائد پرندے موجود ہیں۔ مور کی آواز دور سے سنائی دیتی ہے۔ یہاں پر ایرانی پرندوں کے علاوہ چین، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور تنزانیہ کے پرندے بھی موجود ہیں۔ اس میں مجموعی طور پر 130 نسلوں کے پرندے ہیں۔ اچھی خاصی لمبی چوڑی جسامت کا مرغا دیکھ کر یوں لگا کہ جسامت میں مینڈھا نما پرندہ اپنے آپ کو مرغ منوانے پر اصرار کرے تو ہم سے تو طاقت کے زور پر ہر بات منوائی جا سکتی ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں جو اُسے مرغا نہ مانیں۔مرغے کے ساتھ مور کھڑا تھا جو قدرے سہما ہوا لگ رہا تھا۔ اچھا خاصا تندرست مور مرغے سے جسامت میں کم لگ رہا تھا۔آگے ایک مور اپنے پروں کو پھیلا کر رقص کی تیاری کر رہا تھا پھر اس نے رقص شروع بھی کردیا۔ ماہرین جانتے ہوں گے کہ مور کس کیفیت میں رقص کرتے ہیں۔ میں مور کے قریب جا کر کھڑا ہو جاتا ہوں۔اس کے رقص کی مہارت اور وارفتگی کا مشاہدہ کرتا ہوں۔ یہ 14 جولائی ہے۔ ایران میں ہماری آمد کا چھٹا دن ہے اور صبح کے ٹھیک گیارہ بج رہے ہیں۔ مجھے ہر طرف مور نظر آ رہے ہیں۔ کئی مور بالکل سفید، کئی دوسرے سبز، بعض مور سیاہی میل ہیں۔ آگے بطخیں ہیں۔ گویا بطخوں کی بھی باغ پرندگان میں نمائش ہو رہی ہے۔ یہ چڑیا نما طوطے ہیں۔ یہ قدو قامت میں چڑیا جیسے ہیں مگر شکل و صورت میں طوطے ہی لگتے ہیں۔ یہ پرندہ بالکل سمجھ نہیں آیا ۔ اس کی چونچ بہت بڑی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ کوے کے منہہ پر بگلے کی چونچ کو بڑے بے ڈھب سے انداز میں لگا دیا گیا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی کوئی خاص جمالیات نہیں۔ میں اس سے بیزار نہیں ہو رہا بلکہ میں فطرت کی رنگا رنگی سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ آگے یوں لگتا ہے جیسے مور مردہ پڑے ہوں مگر وہ زندہ ہیں اور سستا رہے ہیں۔ اب یہ دو پیروں والے اونٹ نظر آ رہے ہیں۔ گردن، منہہ، جثہ، دونوں پیر سب کچھ اونٹ سے مشابہ ہے۔ مگر یہ پرندہ ہے، یہ شترمرغ ہے۔ شُترتو فارسی میں اونٹ کو ہی کہتے ہیں۔ ساتھ میں اگر پر بھی لگے ہوں تو مرغ بھی بن جائے گا۔ یہاں خواتین اور حضرات کو کا اچھا خاصا ہجوم ہے۔ اچانک منظر نقوی صاحب کہتے ہیں کہ کیا ہم اصفہاں چڑیا گھر دیکھنے آئے ہیں۔ میں نے اُن کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اور کچھ دیر بعد ہم سب باغ پرندگان سے باہرنکل آئے۔ ہم چلتے چلتے پلِ قلمکار پر واپس آگئے اور اب اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
حکومت نے کئی اعداد و شمار مصنوعی طور پر بڑھائے، عمر ایوب
مزدور، کسان اور تنخواہ دارطبقے کے ریلیف کیلئے اقدامات کریں گے، وزیراعظم
وفاقی بجٹ پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اختلافات پیدا ہوگئے
پولیس کی سہراب گوٹھ پر بڑی کارروائی، 2 کروڑ کے مویشی چھیننے والے ملزمان گرفتار
وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ
آئندہ مالی سال جی ڈی پی کا حجم 1 لاکھ 24 ہزار 150 ارب روپے رکھنے کا تخمینہ
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر