Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

نقشِ جہاں: قیصری دروازہ، شاہی بازاراور وسیع تالاب

Now Reading:

نقشِ جہاں: قیصری دروازہ، شاہی بازاراور وسیع تالاب

ہم نقشِ جہاں میں داخل ہوئے تو 16ویں صدی کے ایرانی فن تعمیر کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ کسی مصور کی پینٹنگ، کسی سنگتراش کا مجسمہ، کسی بُنت کار کا بُنا ہوا کپڑا، کسی آئینہ ساز کی آرسی یا کسی کاشی گر کا کاشی کا کام کہاں ہوتا ہے؟ سقراط نے کہا تھا کہ فن فنکار کے ذہن میں ہوتا ہے، پھر وہ ذہن میں موجود اس فن کو حقیقت کا رُوپ دیتا ہے اور ایک شاہکار کی تخلیق کرتا ہے۔ یہ نقشِ جہاں کس کے ذہن کی تخلیق ہوگا۔یہ نقش اپنے عہد کے نامور ماہرتعمیرات شیخ بہائی کے ذہن کی تخلیق تھا۔ صفوی خاندان کے بادشاہوں نے ایک خاص ایرانی طرزِتعمیر کی بنیاد رکھی اور اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

نقش جہاں 22 ایکڑ سے زائد رقبہ پر بنا ہوا ہے۔ اس کی لمبائی 560 میٹر جبکہ چوڑائی 160 میٹر ہے۔ یہ ایک میدان ہے جس کے چاروں طرف ایک بے مثال طرزتعمیر کی سادہ اور خوبصورت دو منزلہ عمارت ہے۔ اس عمارت کے جنوب میں اُسی دور کی اس کے ساتھ ہی بنی ہوئی شاہ مسجد ہے۔شاہ مسجد کی لمبائی ایک سو میٹر اور چوڑائی 130 میٹر ہے جبکہ اس کی اونچائی 56 میٹر ہے۔ اس مسجد کے تین گنبد ہیں، ہر گنبد کی بیرونی بلندی 53 میٹر اور اندرونی گنبد 38 میٹر ہے۔ گنبدوں کا بیرونی قطر26 میٹر اور اندرونی قطر 23 میٹر ہے۔ مسجد کے چار مینار ہیں اور ہر مینار کی بلندی 48 میٹر ہے۔اس مسجد کو ایرانی طرز تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار کہا جاتا ہے۔ نقش جہاں مسجد کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔


نقش جہاں کی مشرقی جانب ایک اور مسجد ہے جس کانام مسجد شیخ لطف اللہ ہے۔یہ مسجد نقش جہاں کی تعمیر کے ایام میں اس عجوبۂ روزگار پارک، میدان یا بازار کے ساتھ ساتھ ہوئی۔ شیخ لطف اللہ مسجد کی تعمیر کا آغاز 1603ء میں ہوا اور اس کی تکمیل 16 سال کی مدت میں 1623ء میں ہوئی۔اس مسجد کو محمدرضا اصفہانی نے تعمیرکیا۔ اس مسجد کا ایک ہی گنبد ہے، جس کا بیرونی قطر 32 میٹر اور داخلی قطر22 میٹر ہے ۔ نقش جہاں کے ارد گرد جو چار یادگاریں بنائی گئیں، ان میں سے مسجد شیخ لطف اللہ سب سے پہلے مکمل ہوئی۔ ان دونوں مسجدوں میں نیلے رنگ کا کاشی کا جو کام کیا گیا ہے۔ وہ انتہائی خوبصورت ہے۔ بیرونی اور اندرونی دیواروں، گنبدوں ، میناروں، محرابوں، ستونوں اور دروازوں پر جس طرح نیلے رنگ کی گُلکاری، کاشی گری، قرآنی آیات کی نسخ اور نستعلیق خطاطی اور رنگوں سے پُھول کاڑھنے کا جو کام کیا گیا ہے، وہ انسان کو مبہوت کر دینے کیلئے کافی ہے۔

نقشِ جہاں کا ایک اور نقش عالی قاپو پیلس ہے۔ یہ نقش جہاں کے مغرب میں واقع ہے۔یہ محل 48 میٹر بلند ہے۔ یہ چھ منزلہ محل ہے۔اس کے اندر ایک موسیقی کا ہال ہے۔اس محل دیواروں میں گولائی میں طاق ہیں اُن کا بے پناہ جمالیاتی حسن اپنی جگہ مگر وہاں پر جو صوتیات محسوس ہوتی ہے، اس کے حسن کا کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔عالی قاپو صفوی دور کے فن تعمیر کا بے پناہ حُسن پیش کرتا ہے۔محل کے اندر کی تصاویر میں بادشاہوں اور ملکاؤں کے مختلف انداز پیش کئے گئے ہیں۔ آپ اور ہم سوچ رہے ہیں کہ علی قاپو محل میں یہ قاپو کیا چیز ہے۔ آذربائیجانی زبان میں دروازے کو قاپو کہا جاتا ہے۔ گویا اس محل کو عالی دروازہ محل پڑھا جانا چاہیئے۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ ہمارے ہوٹل کا نام ہوٹل پارسیان عالی قاپو کیوں ہے۔

Advertisement

اس محل کے موسیقی ہال کے مناظر ہی عجیب ہیں۔ موسیقی ہال میں آلاتِ موسیقی دیواروں پر نقش کر دیئے گئے ہیں۔ یہ طنبورہ ہے، یہ رباب ہے، وہ دف ہے، وہ یکتارا ہے۔ چنگ کہاں گیا؟ گھڑا بھی تو کہیں ہوگا۔ ادھر نے (بانسری) بھی تو نہیں ہے ۔ مولانا روم نے تو “نے ” کے بانس سےبچھڑنے کے دُکھ سے مثنوی کا درد چھیڑا تھا۔ پھر وہ بانسری کہاں ہے؟ یہ محل کی کوئی بارہ دری نہیں ہے مگر بالکل بارہ دری جیسی ہے اور بہت ہوادار ہے۔ وہ کیا ہے، وہ اُدھر چہار باغ ہے مگر ہم تو یہاں نقش جہاں دیکھنے آئے۔ ہم نے اُسے تو دیکھنا شروع ہی نہیں کیا۔

نقشِ جہاں کا ایک حصہ قیصری دروازہ تھا جہاں سے گزر کر آپ اندر آتے ہیں۔ نقش جہاں کو شاہ اسکوائر اور سعید اسکوائر بھی کہا جاتا رہا ہے۔ اندر وسیع وعریض گھاس کے میدان ہیں جہاں ان میدانوں کے حاشیئے میں سرو کے درخت لگائے گئے ہیں جن کی قامت میں ایک خاص نزاکت کا اہتمام کیا گیا۔ ہر میدان کے چاروں طرف رہداریاں بنی ہوئی ہیں۔ ان راہداریوں میں پھولوں کے پودوں سے خُوشبو اُٹھ رہی ہے۔ ان راہداریوں پر تین تین رنگی برنگی شاہی بگھیاں وقفے وقفے سے تمام پارکوں پر مشتمل وسیع میدان کا چکر لگا کر ایک خاص مقام پر آکر رکتی ہیں جہاں لوگ اُترتے چڑھتے ہیں۔ اس بگھی کو ایک ہی گھوڑا کھینچ رہا ہوتا ہے۔ یہ ہماری کراچی کی گھوڑے کی سواری وکٹوریہ جیسی بگھی ہوتی ہے، کراچی میں چونکہ ملکہ وکٹوریہ کے نام پر ایمپریس مارکیٹ بننے کے بعد یہ سواری 29ویں صدی میں اسی ایمپریس مارکیٹ سے کینٹ ریلوے اسٹیشن تک چلتی تھی، اسی لئے اس سواری کا نام ملکہ کے نام پر وکٹوریہ پڑ گیا۔ تقریباً ڈیڑھ صدی سے ہماری بگھی وکٹوریہ بنی ہوئی ہے۔ اب ملکہ قبر میں بھی سوچتی ہوگی کہ کراچی والوں نے اسے کس طرح یاد رکھا ہوا ہے۔

نقش جہاں کی بگھیاں خواتین اور بچوں کی اچھی تفریح بنی ہوئی ہیں۔ گھاس کے میدانوں میں تفریح کیلئے آنے والے خاندانوں نے اپنے اپنے کپڑے، دریاں اور چاندنیاں بچھا کر بیٹھنے کا اہتمام کر رکھا ہے۔ یہاں خواتین بچوں کو بٹھا کر کھانے پینے کی اشیاء ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ خواتین کے بارے میں آپ وہ تصویر ذہن سے نکال دیں جو مغربی میڈیا نے ہمارے ذہن میں بٹھا رکھی ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ استنبول، قاہرہ، اسکندریہ اور دمشق میں خواتین جس آزادی سے اور جس لباس میں گھوم پھر سکتی ہیں بالکل ویسی ہی آزادی سے اور ویسے ہی لباس میں وہ تہران، اصفہان اور کاشان میں بھی گھوم پھر سکتی ہیں۔
نقشِ جہاں کے پارکوں کے درمیان پانی کا وسیع و عریض پول ہے جسے بچوں نے سوئمنگ پول بنا رکھا ہے۔ اگر کسی نے ایرانی کرنسی میں بیس ہزار ریال کا نوٹ دیکھا ہو تو اس نے نوٹ کی پُشت پر نقشِ جہاں بھی دیکھا ہوگا۔ نقش جہاں کے چاروں جانب دو منزلہ شاپنگ سنٹر ہے۔ سامنے محرابوں سے یہ اندازہ بالکل نہیںن ہوتا کہ یہ شاپنگ سنٹر ہے کیونکہ یہاں پر خریداروں کے ہجوم کا نام تک نہیں۔ نقشِ جہاں کے گھاس کے میدانوں، شاہ مسجد، عالی قاپو محل اورشیخ لطف اللہ مسجد کے سامنے کہیں بھی یہ گمان نہیں گزرتا کہ آپ کسی بازار میں آئے ہیں یا یہاں پر کسی چیز کی خریدو فروخت بھی ہوتی ہے۔ یہاں بچوں کی چہکاریں دیکھنے سے انسان اپنی روح تک سرشار ہو جاتاہے۔ یہاں پر آکر تفریح کا مفہوم سمجھ آ جاتا ہے۔ تھکے ہوئے اور ریاستی خواہشات کی مار کھائے ہوئے معاشروں کے لوگوں کو تفریح کا حقیقی مفہوم سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے معاشروں میں آبادی کسی مناسب منصوبہ بندی کے بغیر بڑھتی چلی جاتی ہے اور دستیاب وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ اس پر مستزاد ریاست کے نظریات اورتصورات آبادی کی زندگی کی حقیقتوں سے نہ صرف ہم آہنگ نہیں ہوتے بلکہ الٹا متصادم ہی ہوتے ہیں۔ ایسے عالم میں آبادی کے ذہن میں تفریح کا خیال کہاں سے آئے گا۔ نقش جہاں میں تفریح کا مطلب زندگی کی پیداواری سرگرمیوں کی مصروفیتوں سے کچھ وقت نکال کر کچھ دیر کیلئے ذہن اور بدن کو سکون مہیا کرنا ہوتا ہوتا ہے اور یہاں آکر یہ مقصد بہرحال پورا ہوجاتا ہے۔ یہاں پر موجود عمارتیں، پودے، گھاس، تالاب، گھوڑے بگھیاں، راہداریاں، پھولوں کی کیاریاں، دیواریں غرض ہر چیز پرانی ہے مگر یہاں آنے کے بعد ایک تازگی، نئے پن اور تازہ مُسرت کا احساس زندگی کو سرشار کر دیتا ہے۔

Advertisement

میں محرابوں کو گننا شروع کر دیتا ہوں، چلتے چلتے میری گنتی کا دم ٹوٹ جاتا ہے اور میں پھر سے گننے لگتا ہوں مگر پھر بھی گن نہیں پاتا۔ میرا خیال ہے کہ ڈیڑھ سو سےایک سو ستر کے درمیان محرابیں لمبائی میں اور پچاس محرابیں چوڑائی میں ہوں گی۔ یعنی دو منزلہ وسیع وعریض عمارت کی تین سو سے تین سو چالیس تک محرابیں اوپر اور نیچے ہوں گی۔ کیونکہ یہ محرابیں چاروں طرف ہیں اور میں نے دو سمتوں کی گنتی کی ہے تو چاروں طرف کی گنتی پوری کرنے کیلئےاب ان کو ایک بار پھر دُگنا کرلیں۔ یہ محرابیں شاپنگ مال کے داخل دروازے نہیں ہیں۔ بازار میں داخلے کے راستے آپ کو بس ایک کونے میں ہی ملیں گے اور داخلے کے اس مقام پر بھی آپ کو خریداروں کا ہجوم نہیں ملے گا۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
کراچی والے ہوجائیں تیار، آئندہ دو روز گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس کل طلب
کراچی کے شہری شدید گرمی میں بجلی اور پانی سے محروم
مچل اسٹارک نے ورلڈکپ کی تاریخ کا بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا
عالمی بینک پاکستان کو 53 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز فراہم کرے گا
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2024 کی پہلی ہیٹ ٹرک پیٹ کمنز کے نام
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر