Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

شہر رے، سندھ کی شہزادی ، درکاہ بی بی شہربانو پر حاضری

Now Reading:

شہر رے، سندھ کی شہزادی ، درکاہ بی بی شہربانو پر حاضری

ہمارے سفرِ ایران کا چوتھا سورج چڑھ چکا ہے۔ میں حسبِ معمول صبح تیار ہو کر ناشتے سے فارغ ہو کر لابی میں آکر بیٹھ گیا۔ آج ابھی تک رضا شعبانی نہیں آئے مگر علی فاطمی پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ روز محمد رضا شعبانی کا ہمارے ساتھ آخری روز تھا۔ آج غالباً وہ کیرغیزیا کے وفد کے ہمراہ رہیں گے اور آج کچھ دیر کے بعد ہم پارک وے ہوٹل اور تہران شہر چھوڑ دیں گے۔ آج ہم پہلے شہرِ رے جائیں گے اور پھر اصفہان کی طرف چلے جائیں گے۔ رے ایران کا ایک عظیم تاریخی شہر تھا۔ رے کے مشرقی مضافات میں ہزاروں برس پرانے شہر کے آثار اب بھی موجود ہیں جو یہاں سے چند میل کے فاصلے پر ہیں۔ پرانے شہر کے قیام کا اندازہ پانچ ہزار سال قبل مسیح لگایا جاتا ہے۔ پرانا رے شہر ہمارے موہنجودڑو اور ہڑپہ کے دور کا شہر ہے۔ پرانی دستاویزات بتاتی ہیں کہ رے کی داستان اویستا میں بیان کی گئی ہے اور یہی اویستا زرتشت ہے اور یہی اس خطہ کا بنیادی مذہب ہے اور اس میں رے کو مقدس مقام کہا گیا ہے۔ قدیم مفکرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بائیبل میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ تین سو سال قبل مسیح میں رے پارتھی سلطنت کا دارلحکومت بنایا گیا۔ رے شہر کو مسلمانوں نے 641ء میں فتح کیا۔ یہ حضرت عمر کا دور تھا۔ حضرت عمر 634ء سے 644ء تک دس برس خلیفہ رہے۔
ایران میں اس وقت یزدگرد کی حکمرانی تھی۔ ایران کی فتح سے پہلے ایران کے سندھ کے ساتھ بہت دوستانہ تعلقات تھے۔ تقریباً 45 سال قبل سندھ کے نامور مصنف اور بمبئی کی فلمی دنیا کی مشہور شخصیت کریم بخش نظامانی کی خودنوشت “کیئی کتاب” کے نام سے سندھی زبان میں منظرعام پر آئی تھی۔ اس کتاب میں کہا گیا کہ ایران کے ساسانی بادشاہ یزدگرد کے سندھ کے راجہ ساہسی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ اسی زمانے میں یزدگرد کی سندھ میں آمد ہوئی اور انہی دنوں یزدگرد کی سندھ کے معروف پنہور خاندان کی بہادر بیٹی ماہ طلعت سے شادی ہوئی۔ پھر ماہ طلعت کے نام پر ایک شہر بسایاگیا جس کا نام ماہ طلعتی رکھا گیاجس کا نام آگے چل کر ماتلی ہو گیا۔ لکھنئو کے ایک شیعہ انٹر کالج کی طالبہ صفیہ بانو باقری کا ایک مضمون پشاور کے ایک ہفت روزہ ذولفقار نے 2011ء کے شہیداعظم نمبر میں شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ یزدگرد کی سندھی خاتون بیوی سے تین بیٹیاں مہربانو، شہربانو اور کیسران بانو پیدا ہوئیں۔ مہربانو کی شادی اپنے ننھیال میں ہوئی جبکہ شہربانو اور کیسران بانو رے کی فتح کے بعد مدینہ لائی گئیں۔ تو حضرت علی نے ان دونوں بہنوں کو کنیزوں کی طرح کسی کے حوالے کرنے کی بجائے ان میں سے بی بی شہربانو کی شادی حضرت امام حسین اور کیسران بانو کی شادی محمد ابن ابوبکر سے کردی۔
ہم ہوٹل پارک وے سے نکل آئے ۔ آج گاڑی بھی دوسری ہے اور ڈرائیور بھی محمد بھائی نہیں ہیں۔ اب ہم نے رے جانا ہے جہاں امام زین العابدین سمیت ان کی اولاد میں اثنا عشری مسلمانوں کے دیگر آٹھ آئمہ کی ماں بی بی شہر بانو کا مزار ہے۔ ہم نے تقریباً 35 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہے۔ ہماری گاڑی آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم پیچھے مڑ کر میلاد ٹاور کی طرف دیکھتےہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ میلاد اسپتال ہے۔ آگے گفتگو پارک آرہا ہے۔ یہ ہمعصر فنون کا تہران میوزیم ہے۔ اب یہ جوادیہ ہے۔ ہم بوستان بزرگ ولایت نامی بہت بڑے پارک کے قریب سے گزرتے ہیں۔ آگے شریعتی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج ہے۔ یہ صالح آباد شرقی ہے۔ اب ہم قلعۂ نو حج موسیٰ کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ آگے شاہ عبدالعظیم کا مزار ہے۔ مگر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔


ہم شاہ عبدالعظیم کے مزار پر نہیں جا رہے، بلکہ ہم شہزادئ رے بی بی شہربانو کے مزار پر جا رہے ہیں۔ ہمارے آگے مفتاح فرہنگیان یونیورسٹی ہے۔ اس سے آگے تقی آباد کا علاقہ آتا ہے۔اب ہم پہاڑ کے دائیں جانب آچکے ہیں۔ یہ مسجد ولیعصر ہے۔ آگے قلیان سرائے ایمان غلام کا علاقہ ہے۔ آگے ہم جدۂ امین آباد پر چل رہے ہیں۔ آگے چہارباغ رے آ رہا ہے۔ بائیں طرف کو اصغردارولی ہے اور بائیں طرف کو ایستگاہ اتوبوس ہے۔اب ہماری گاڑی پہاڑ پر چڑھ رہی ہے۔ جب 22 سال پہلے میں یہاں آیا تھا تو پہاڑ پر گاڑی کی چڑھائی کے دوران اِدھر اُدھر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اگلے سال فیملی اور بچوں کے ساتھ آیا تھا تو میری ماں اور اماں جی اپنی دعاؤں کے ساتھ ہمراہ تھیں۔ مگر اب تو سڑک خاصی کشادہ ہو چکی ہے۔ اب اس مقام پر گاڑیاں کھڑی کرنے کا پلیٹ فارم خاصا وسیع ہو چکا ہے۔ گاڑی مزار کے احاطے میں پہچتی ہے اور ہم اس قابلِ احترام بی بی کی درگاہ کی طرف جا رہے ہیں، جس کی اولاد اموی اور عباسی دور میں ریاستی اور غیر ریاستی جبر اور دہشت گردی سے نبرد آزما رہی ۔

Advertisement

ہم بی بی شہربانو کے مزار سے واپس آتے ہوئے اس شاہراہ کی طرف بڑھ رہے ہیں جو اصفہان کو جاتی ہے۔ اب کچھ دیر اسی راستے پر رہتے ہیں۔ پھر گاڑی عماد آور کے راستے پر مُڑجاتی ہے۔ یہ شاہراہ آوینی ہے۔ آگے شاہراہ آوینی اور شاہراہ رجائی ایک دوسرے کو قطع کرتی ہیں۔ دائیں طرف کو ہلالِ احمر فارمیسی نظر آتی ہے۔ آگے چامران میں گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کا مرکز ہے۔ آگے باغ رضوان پر پہنچ کر گاڑی بہشت زہرا شاہراہ پر مڑ جاتی ہے۔ہمارے بائیں طرف کو مبارک آباد بہشتی کا علاقہ ہے۔ پھر خورایین آتا ہے۔ اس کے بعد جعفرآباد باقراف کا علاقہ آجاتا ہے۔ ہمارے دائیں طرف کو رشید آباد ہے۔ اب یہاں سامنے دور سے آیتہ اللہ خمینی کا مزار نظر آ رہا ہے۔ ہمارے گائیڈ علی فاطمی سڑک پر گاڑی رکوا لیتے ہیں اور چوک پر ہی گاڑی سے اُتر آنے کو کہتے ہیں۔ اب یہاں موبائل فون کیمروں کے رُخ آیتہ اللہ خمینی کے مزار کی طرف ہوجاتے ہیں۔ دور سے ہی تصویریں بنائی جا رہی ہیں۔ اب ہم تہران سے اصفہان جانے والی شاہراہ پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دائیں جانب کو شہر آفتاب کا نمائش مرکز ہے۔ ہم شکر آباد اور قیصر آباد سے ہوتے ہوئے کمالیہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اچھا یہاں بھی کمالیہ ہے۔ ہمارے پنجاب کے کمالیہ میں تو کھدڑ کے کپڑے بنتے ہیں یہاں تہران کے آگے قم کے راستے پر موجود کمالیہ میں کیا چیز بنتی ہے۔ اب ہم گاڑی رکواکر کسی سے یہ تو پوچھ ہی نہیں سکتے کہ کمالیہ کیوں کمالیہ ہے۔ اب ہم سلطان جھیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایران نمک کی جھیلوں کا ملک ہے۔ یہاں بہت سی ایسی جھیلیں ہیں جہاں ہر طرف نمک پھیلا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل نمک کا صحرا ہے جو جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کبھی یہاں وسیع و بسیط سمندر ہوا کرتا تھا مگر اب یہ جھیل کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ دلدلی زمین معلوم ہوتی ہے مگر یہ نمکین دلدل ہے۔ گرمیوں میں یہاں پانی چمکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ پانی نمکین ہی ہوتا ہے۔ سردیوں میں واپس زمین کی شکل بن جاتی ہے اور پانی غائب ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ شاہ کے اقتدار کے دنوں میں انقلابی تحریک کے دوران جن سرگرم کارکنوں کو گرفتار کر کے اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کرہیلی کاپٹروں میں لاد کر یہاں لایا جاتا تھا ان زندہ جوانوں کو جھیل کے اوپر سے نیچے پھینک دیا جاتا تھا۔ پھر آنکہ در کانِ نمک رفت نمک شُد کےُمصداق یہاں جھیل میں گرائے جانے والے نوجوان نمک ہی بن جاتے ہوں گے۔

ہم جھیل کے سامنے سے گزر رہے ہیں۔ تاحدِ نظر جھیل ہی جھیل ہے۔ جھیل کے نمک کا پانی چمک رہا ہے۔ ہم اب نمک کی جھیل کو پیچھے چھوڑ کر قم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہاں شہروں کے نام برصغیر کے شہروں کے ناموں کی طرح رکھے گئے ہیں۔ راستے میں حکیم آباد، سلیمان آباد، شمس آباد، احمدآباد، حسن آباد اور ایسے ہی ناموں کے دیگر شہر آتے ہیں۔ ہم حسین آباد سے کچھ آگے بڑھتے ہیں تو ایک بائی پاس قم شہر میں داخل ہونے کے راستے کو ہم سے الگ کرلیتا ہے۔ اب قم ہماری دائیں طرف ہے اور ہم حاجی آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بیک ڈور چینل رابطے جاری
ای آفس پر منتقلی سے ملکی خزانے کے اربوں روپے بچائے جا سکیں گے، وزیراعظم
وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دے دی
وکلاء دہشتگرد نہیں آئین اور قانون کے محافظ ہیں، وفاقی وزیر قانون
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افغانستان کے اہم کھلاڑی ایونٹ سے باہر
یوکرینی صدر نے روسی صدر کی جنگ بندی کی مشروط دعوت مسترد کردی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر