Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

اصفہان کا ضلع نو جلفا اور نجات دہندہ کا پاک گرجا

Now Reading:

اصفہان کا ضلع نو جلفا اور نجات دہندہ کا پاک گرجا

نجات دہندہ کا پاک گرجا “ہولی سیویئر کیتھڈرل” اس چرچ کا نام ہے جس کے بارے میں میں نے اصفہان کا سفر کرنے والے دوستوں سے ایک عرصے سے سن رکھا تھا۔ اسے ہمارے دوست آرمینیائی چرچ کا نام دیتے تھے۔ اسے “مقدس بہنوں کا چرچ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصفہان شہر کے اندرضلع نوجلفا میں واقع ہے۔ اس ضلع کو آرمینیائی کوارٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ دریائے زایندہ کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔اسے وانک کیتھڈرل بھی کہا جاتا ہے۔ آرمینیائی زبان میں وانک کے لفظی معانی مسیحی خانقاہ کے ہیں۔
اس چرچ کی بنیاد چار سو سترہ سال قبل 1606ء میں رکھی گئی۔ اس کے ڈیزائن میں 1664ء میں آرچ بشپ ڈیوڈ کی نگرانی میں کافی تبدیلیاں کی گئیں اور ایرانی مساجد کی روایات کے مطابق چرچ پر ایک گنبد تعمیر کیا گیا۔مگر یہ گنبد یونانی طرزِ تعمیر کی روایات کے مطابق ہشت پہلو بنایا گیا۔ کیتھڈرل کی تعمیر میں جدید طرز کی اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔ عمارت کے اندر پلستر میں رنگ بھرا گیا۔ اور یہاں پر بہت ہی عمدگی سے ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔ یہاں دیواروں پر جو آرٹ ورک کیا گیا ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آرمینیائی چرچ میں داخل ہونے کے بعد ہم سب سے پہلے اس چرچ کے عجائب گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ ہماری پہلی نظرایک قالین پر پڑتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قالین ایران کی سب سے قدیم روایات کا حصہ ہے۔ اس قالین کا بیرونی حاشیہ ایک عمومی تاثر پیدا کرتا ہے مگر اس کے درمیانی اور مرکزی حاشیئے کے نقش ونگار اس قالین کو خاص بنا دیتے ہیں۔ بالخصوص قالین کے حاشیئے کے اندر کی ڈرائینگ اسے آرٹ بنا دیتی ہے۔ پھر دائرے کے گولائی میں ہشت پہلو پھول اسے قالین کے باغ کا مرکزی نقطہ بنا دیتے ہیں۔ چرچ کے اس عجائب گھر میں بے شمار نوادرات کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ ان نوادرات کو شیشے کے شوکیسز میں نہایت عمدگی اور بہت ہی سلیقے سے رکھا گیا ہے۔ اس میوزیم میں ایران میں صرف عیسائی مذہب سے متعلق ثقافتی اشیاء نہیں رکھی گئی ہیں بلکہ ان چیزوں کو دیکھ کر پہلا تاثر ایران کی مقامیت کا اُبھرتا ہے۔ مجھے ہر جگہ وہ مقامیت نظر آتی ہے جسے فردوسی نے اپنی لازوال فکر و دانش سے اُجاگر کیا ہے۔ ایران کی تمام تر ثقافتی علامتوں، نوادرات، آرٹ اور رنگوں میں مجھے ملتان جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی ہزاروں برس کی تہذیب کا زندہ و تابندہ عکس ملتان مجھے روم، قاہرہ، دمشق، ایتھنز اور فارس کی قدیم تہذیبی علامتوں میں نظر آتا ہے۔
ایران میں عیسائی آبادی کی تعداد تقریباً 15لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس ملک میں چھ ہزار چرچ ہیں اور یہاں کا سب سے بڑا چرچ یہی وانک کیتھڈرل ہے جہاں کے عجائب گھر میں ہم گھوم رہے ہیں۔ اس عجائب گھر میں قدیم روایتی کھانے کے برتن، ڈنر سیٹ، واٹر سیٹ، چائے دانیاں، مشروبات کے برتن اور جام اور دیگر اشیا رکھی ہیں۔ یہ سارے ظروف شیشے سے بنائے گئے ہیں۔ یہاں لکڑی کی الماریوں کے شیشے کے دروازوں کے پیچھے سے ایرانی اور آرمینیائی تہذیبیں جھانک رہی ہیں۔شیشے کے شوکیسوں میں سے نظر آنے والے برتن اپنے جلوے دکھا رہے ہیں۔ یہاں پر رکھی صراحیاں فارسی اور اردو شاعری کی صراحیوں کی طرح بادہ و ساغر کی داستان نہیں سناتیں محض داستانوں کا پرتو لگتی ہیں۔ یہ دیئے رکھے ہیں، اُدھر لیمپ ہیں، وہاں فانوس دھرے ہیں جو درویش کی کٹیا سے چھن کر آنے والی روشنی کا وسیلہ بنے نظرآتے ہیں۔


Advertisement
آرمینیائی چرچ کی داستان یہاں سے شروع ہوتی ہے جب ترکان عثمان اور ایران کے صفوی حکمرانوں کے مابین 16 سالہ جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ جنگ 1623ء سے 1639ء کے درمیان لڑی گئی۔ اُن ایام میں ترکی کے عثمانی حکمران اور ایران کے صفوی وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے عظیم طاقتیں سمجھی جاتی تھیں۔ اس جنگ کے کئی دور رس نتائج سامنے آئے۔ اول یہ ہوا کہ بغداد اور جدید عراق کا بیشتر حصہ ایران کے قبضے میں آگیا۔ آگے صورتحال یہ ہوئی کہ صفوی ترکی میں داخل نہ ہو سکے اور ترک یورپی جنگوں میں آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ داغستان، جارجیا، مشرقی آرمینیا اور آذربائیجان صفویوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ مغربی آرمینیا ترکانِ عثمان کے قبضے میں چلا گیا۔ پھر میسوپوٹیمیا پر ترکی نے دوبارہ قبضہ کر لیا جو پہلی عالمی جنگ تک اس کے قبضے میں رہا۔
ایران اور ترکی کی جنگ کے دوران آرمینیا کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد ایران منتقل ہوئی اور زیادہ تر آرمینیائی باشندے تبریز، تہران، سلماس، اصفہان اورنیو جلفا میں آباد ہوئے۔
اصفہان کے آرمینیائی چرچ کا نسلی عجائب گھر آرمینیا کے لوگوں کے طرزِ زندگی، تاریخ، ثقافت اور روایات کا آئینہ دار ہے۔ اس سے آرمینیا کے صدیوں کے تہذیبی سفر کا سُراغ ملتا ہے۔ نیو جلفا میں 17ویں صدی سے 20ویں صدی تک رہنے والے آرمینیا کے باشندوں نے اس عجائب گھر کیلئے اپنی تہذیبی اور ثقافتی اشیاء کے عطیات دیئے جو یہاں رکھے گئے ہیں اور جن کی جھلکیاں یہاں پر نظر آتی ہیں۔اس عجائب گھر کا قیام مارگریٹ خانچیان کی وصیت کے مطابق عمل میں آیا جس کیلئے پادریوں کی اسمبلی نے فیصلہ کیا تھا۔ اس مقصد کیلئے اصفہان اور جنوبی ایران کے پادریوں کی کونسل نے آج سے چار سال پہلے 2019ء میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ یہاں عجائب گھر میں 17ویں صدی قدیم “جُلفا کا زوال” کے عنوان سے ایک چارٹ لگا یا گیا ہے۔ جس میں آرمینیائی اور انگریزی زبانوں میں 1603ء کے واقعات کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس چارٹ میں درج تحریر میں یہ بتایا گیا ہے کہ شاہ عباس اول نے 1603ء میں عثمانی سلطنت کے خلاف فوجی مہم کا آغاز کیا مگر عثمانیوں نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ اس مہم کا جواب دیا۔ اپنے مخالفین کی بڑی تعداد دیکھ کر اس نے اپنی فوجوں کو پسپائی کا حکم دیا مگر اس کے ساتھ ہی اس نے زمین کو جلا اور جھلسا دینے کی حکمت عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں آرمینیائی باشندوں کو بے گھری اور دربدری پر مجبور کر دیا گیا۔ لہذا وہ اپنے گھروں کو چھوڑ آرمینیا سے ایران منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔ آرمینیا کی تاریخ میں اس واقعہ کو عظیم تباہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو لوگ دریائے آراس کے تباہ کن سیلابی جوش سے بچ گئے، وہ جُلفا کے ہنرمند، فنکار، مصور، تجار، فنکار، کاروباری افراد اور پُرامن عام شہریوں کو غیریقینی مستقبل کی طرف نقل مکانی کرنی پڑی۔ کچھ لوگ درایائے زایندہ کے جنوبی کنارے پر آباد ہونے پر مجبور ہوئے، جہاں ماضی میں لوگ آرمینیائی کاروان سرائے میں آکرقیام کرتے تھے جبکہ بعض دیگر لوگ ملک کے دیگر حصوں میں جا کر آباد ہوئے۔ نیو جُلفا کو 1606ء میں سرکاری طور پر آبادکاری کا نام دیا گیا۔
یہاں آرمینیائی اور انگریزی میں ایک اور چارٹ میں سونے اور چاندی کے زیورات اور برتنوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ آرمینیا کے باشندے وسیع پیمانے پر سونے سے بنے نوادرات کا استعمال کرتے تھے۔ وہ سونے اور چاندی کے برتن، چھری کانٹے رومال رکھنے کیلئے سونے کی انگوٹھی اور چاندی کے کپ اور پیالے بھی اپنے استعمال میں لاتے تھے۔ وہ انتہائی قیمتی اور قدرے کم قیمت کے ہیرے اور پتھروں کا بھی استعمال کرتے تھے۔ آرمینیائی ماہرین نے ایک نہایت باریک سونے کا دھاگہ تیار کیا تھا جسے وہ سونے کے ٹکڑوں اور قیمتی دھاتوں کو جوڑنے یا سینے کیلئے استعمال کرتے تھے۔
اس عجائب گھر میں سرامکس اور چینی مٹی کے برتنوں پر کاشی کام انسان کو حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ ہم عجائب گھر میں کھو سے گئے ہیں۔ ایک ایک چیز بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے مگر اس چرچ میں محض یہ ایک عجائب گھر ہی تونہیں۔ یہاں تو ایسی بہت سی چیزیں جو تمام فنون کو عروج پر لے جاتی ہیں۔ ہم عجائب گھر سے نکل کر چرچ کی طرف چل پڑتے ہیں۔(جاری ہے)

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: نیوزی لینڈ کو شکست، ویسٹ انڈیز کی سپر ایٹ میں رسائی
کراچی کا موسم آج بھی گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کا ترکیہ کا سرکاری دورہ
غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، چیئرمین ایف بی آر
سعودی عرب میں عازمین حج کی آمدورفت کے لیے فلائنگ ٹیکسی کا آغاز
وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اعلان
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر