تمباکو نوشی کرنے والوں کیلئے اہم خبر


تنویر علی

10th June, 2020

تمباکو نوشی کرنے والوں کیلئے اہم خبر آگئی، آئندہ مالی بجٹ میں تمباکو کے پتے پر ایڈوانس ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زرعی مصنوعات کی خصوصی کمیٹی نے ایڈوانس ایف ای ڈی کو 10 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں ایف بی آر حکام نے کہا کہ آئندہ سال بھی تمباکو کے پتوں پر 10 روپے فی کلو ٹیکس برقرار رہے گا۔

اسد قیصر نے کورونا وائرس کے دوران حکومت کی مالی اعانت کیلئے سگریٹ پر اضافی ٹیکس کی تجویز کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو سگریٹ اور درآمد شدہ تمباکو پر ٹیکس بڑھانا چاہیے۔

تمباکو کے کاشت کاروں نے بتایا کہ تمباکو کی فصل 25 ہزار سے زیادہ گھرانوں کے معاش کا ذریعہ ہے۔

اسپیکر اسد قیصر نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے مشاورتی عمل میں کسانوں کو نظرانداز نہ کرے اور ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے طریقہ کار کو مضبوط بنائے۔

دوسری جانب اینٹی ٹوبیکو ایکٹوسٹ نے حکومت سے آئندہ مالی بجٹ میں تمباکو پر ایف ای ڈی برھانے اور سرچاج نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

اینٹی ٹوبیکو ایکٹوسٹ نے حکومت سے ایک پریس کانفرنس میں  تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

 ایچ ڈی ایف کے پروگرام مینیجر زاہد شفیق نے کہا کہ اب وقت آ گيا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے ليے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کرے،  اس وقت کورونا کی وبائی مرض کی وجہ سے حکومت کو مالی بحران کا بھی سامنا ہے۔

2012 میں تمباکو نوشی کے مجموعی معاشی لاگت کا تخمينہ 143 ارب روپے لگایا گيا تھا۔

2018 کی گلوبل اکنامکس آف ٹوبيکو اٹریبيوٹيبل ڈیزیز کی رپورٹ کے مطابق ان 143 ارب روپے ميں صحت عامہ کی دیکھ بھال کے براہ راست اخراجات کے ساتھ ساتھ کھوئی ہوئی افرادی پيداواری صلاحيت بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سگریٹ کے ہر پیکٹ پر 10 روپے کا سرچارج لگاکر حکومت 40 ارب تک کی آمدنی حاصل کر سکتی ہے۔

آئندہ بجٹ میں افراط زر کی شرح کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے حکومت کوتمباکو کی مصنوعات پر موجودہ ایف ای ڈی مین 20 روپے تک کے اضافے کی ضرورت ہے، ایسا کرنے سے حکومت کے محصولات بڑھ جائیں گے جو حکومت کے صحت کے پروگراموں میں شامل ہوسکتے ہیں۔