کمپٹیشن کمیشن نے باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے قیمت مقرر کرنے والی شوگر ملز کا کارٹل پکڑ لیا اور پنجاب کی 10 شوگر ملز کو کارٹل بنانے پر شوکاز نوٹسز جاری کردیے۔
شوگر ملز نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کا فیصلہ گٹھ جوڑ بنا کر کیا اور کارٹل بنا کر گنے کی قیمت 400 روپے فی من فکس کی۔ جبکہ گنے کی قیمت مقرر کرنے میں کسانوں کو نظر انداز کیا گیا۔
شوگر ملز نے 10 نومبر کو فاطمہ شوگر ملز میں خفیہ میٹنگ کی ، جس کی صدارت فاطمہ شوگر ملز کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رانا جمیل احمد شاہد نے کی۔ شوگر ملوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ کرشنگ نومبر 28 سے شروع کی جائے گی۔ میٹنگ میں کئی شوگر ملز کے نمائندے آن لائن بھی شامل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کی 33 شوگر ملز کو نوٹس جاری، یکم نومبر سے کرشنگ کا آغاز لازمی قرار
حکام کے مطابق کارٹل بنا کر قیمتیں فکس کرنا کمپٹیشن ایکٹ کی کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے شوگر ملز سے 14 دن میں تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ کرشنگ میں تاخیر سے چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
جن شوگر ملز کو نوٹسز جاری کیے گئے، ان میں فاطمہ شوگر ملز ، شیخو شوگر ملز، تھل انڈسٹریز کارپوریشن، تاندلیانوالہ شوگر ملز (رحمن ہاجرہ یونٹ) ، جے کے ون شوگر ملز، اشرف شوگر ملز، کشمیر شوگر ملز ، سراج شوگر ملز، ٹو اسٹار شوگر ملز اور حق باہو شوگر ملز شامل ہیں۔



















