Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

الیکشن ٹربیونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

Now Reading:

الیکشن ٹربیونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد حلقوں میں مبینہ دھاندلی، ن لیگ کے کامیاب امیدواروں سے دوبارہ بیانِ حلفی طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے الیکشن ٹربیونل تبدیل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ الیکشن ٹربیونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے عامر ڈوگر کی الیکشن ایکٹ کے سیکشن 151 (جس کے تحت الیکشن کمیشن کو ٹریبونل تبدیلی کا اختیار ہے) کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن ٹریبونل تبدیل کرنے کے فیصلے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود فیصلہ نہیں کرنا تھا بلکہ سڑک کے پار (سپریم کورٹ) جانا تھا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کچھ خدا کا خوف کریں، قانون کو قانون رہنے دیں، اپنے آپ سے قانون نا بنائیں، ٹریبونل تبدیلی کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے، جج کی جانبداری ثابت کرنا ہو گی ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے تحریری حکمنامے کو چیلنج کریں تو دیکھ لیتے ہیں، محض تعصب کا الزام لگا کر کسی جج سے کیس نہیں لیے جا سکتے اور اگر الزام غلط ثابت ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

Advertisement

چئف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کسی عدالتی حکم پر سے اتفاق نہیں کرتے تو اسکے خلاف اپیل دائر کریں، تو کیا تین مہینے بعد اب نئے سرے سے یہ کیس شروع ہو گا؟ سال پہلے یہی قانون ختم کیا (ریٹائرڈ ججوں کا بطور ٹریبیونل تعیناتی) تو اب اچانک وہی قانون کیسے بنا دیا گیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح کیسز ٹرانسفر کیے، ایسے ٹرانسفر نہیں ہو سکتے تھے، کل ماتحت عدالت کا جج غلط فیصلہ کر دے تو اسے تبدیل کر دیا جائے گا؟ کیس منتقلی کا گراؤنڈ تعصب ہے، وہ آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں، اگر تعصب کا اعتراض ہو تو وہ بھی پہلے متعلقہ جج کے سامنے رکھا جاتا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل سے متعلق نوٹیفکیشن کسی کے پاس نہیں تو میڈیا کے پاس کہاں سے آیا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ٹریبونلز آپ نے بنائے ہیں ایک بہاولپور اور ایک راولپنڈی کے لیے، جن گراؤنڈز کے اوپر آپ نے تبدیلی کی ہے اس پر عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کیا کہ اس طرح کی چیزوں سے آپ نیا پریسیڈنٹ بنانے جارہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن اور ایڈشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ ٹریبونل کے جج کا تعصب ثابت کرنا ہو گا، 2 بجے تک الیکشن کمیشن ریکارڈ لے کر آئے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد کی حد تک قائم ٹریبونل تبدیلی کے الیکشن کمیشن کے کل رات جاری ہونے والے فیصلوں کی سرٹیفائڈ کاپیاں منگوا لیں اور جسٹس (ر) شکور پراچہ کے ٹریبونل کا نوٹیفکیشن بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

Advertisement

عامر فاروق نے جسٹس (ر) شکور پراچہ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل پر سوالات اٹھا دیے اور کہا کہ تعصب اور کیس سننے سے معذرت پر بہت سی نظائر قائم ہو چکیں، ثابت کرنا ہو گا کہ جج جانبدار کیسے ہے۔

 عدالت میں موجود پی ٹی آئی اور سرکاری وکلاء سے نوٹیفکیشن مانگا گیا جو دونوں کے پاس نہیں تھا تو جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر نہیں تو میڈیا پر کیسے جاری ہو گیا؟

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
میں چاہتا ہوں ایسا آرڈر دوں کہ کسی کو برا نہ لگے، چیف جسٹس عامر فاروق
نئے آنے والے وکلاء عدالتی اخلاقیات نہیں سمجھتے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا
190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں پرویز خٹک کا بیان ریکارڈ
انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے چیف جسٹس میرے کیسز پر سماعت نہ کریں، بانی پی ٹی آئی
مخصوص نشستوں کا کیس: ن لیگ کی تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر