Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

الیکشن ٹریبونلزکی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد

Now Reading:

الیکشن ٹریبونلزکی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد
مخصوص نشستوں سے متعلق سماعت

مخصوص نشستوں کا کیس: پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کر دی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں 8 الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں آئین کے آرٹیکل 219(سی) کی تشریح کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے استسفار کیا کہ ہمیں کیس کی تھوڑے حقائق بتا دیجیے۔

وکیل نے بتایا کہ 14 فروری کو الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کیلئے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے، ٹریبونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، تمام ہائیکورٹس سے خطوط کے ذریعے ججز کے ناموں کی فہرستیں مانگی گئیں، خطوط میں ججز کے ناموں کے پینلز مانگے گئے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججز کے نام دیے گئے، دونوں ججز کو الیکشن ٹریبونلز کیلئے نوٹی فائی کردیا گیا اور  26 اپریل کو مزید دو ججز کی بطور الیکشن ٹریبونلز تشکیل دے گئے۔

Advertisement

ہائیکورٹ کیلئے قابل احترام کہنے پر چیف جسٹس نے وکیل کو روک دیا

دوران سماعت ہائیکورٹ کیلئے قابل احترام کا لفظ کہنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل کو روک دیا اور کہا کہ ہائیکورٹ کو قابل احترام کہہ رہے ججز کیلئے کہا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے استسفار کیا کہ انگریزی زبان انگلستان کی ہے وہاں پارلیمان کو قابل احترام کہا جاتا ہے؟ یہاں پارلیمنٹرین ایک دوسرے کو احترام نہیں دیتے، ایک دوسرے کو گالم گلوچ ہوتی ہے جنہیں ہم چاہتے ہیں کہ احترام ہو۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو قابل احترام کیوں نہیں کہتے، کیا الیکشن کمیشن قابل احترام نہیں۔

کیا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کا ملنا منع ہے؟

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 4 ٹربیونلز کی تشکیل تک کوئی تنازعہ نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرسکتے، کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازعہ بنانا لازم ہے ؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازعہ تھا۔

Advertisement

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رجسڑار ہائیکورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشنر بیٹھ جاتے تو تنازعہ کا کوئی حل نکل آتا، بیٹھ کر بات کرتے تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتے، کیا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کا ملنا منع ہے؟

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے تنازعہ نہیں ہوا، لاہور ہائیکورٹ کے علاوہ کہیں تنازعہ نہیں ہوا، بلوچستان ہائیکورٹ میں تو ٹربیونلز کی کاروائی مکمل ہونے کو ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی انا کا مسئلہ ہے، آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا امتیاز الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، آرٹیکل 219 سیکشن C نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہم نے آئین وقانون کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، عدالتی فیصلوں پر حلف نہیں لیا، سپریم کورٹ نے جب جب آئینی تشریح کی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 9 ججز مانگے تھے، دو دیے گئے، الیکشن کمیشن کو 4 اپریل کو چھ ججز دیے گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن ٹریبونل کے لیے آئین کیا کہتاہے؟ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے، ہم قانون کی حفاظت کرتےہیں، جس کا کام ہے، اسے کرنے دیا جائے، ایک میٹنگ میں بیٹھ کر سب طے کیا جاسکتا ہے، آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہوا، اس لیے نوٹس نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس کے صدارتی آرڈیننس پر اہم ریمارکس

Advertisement

دوران سماعت چیف جسٹس نے ٹریبونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے حوالے سے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ججز کا قانون کب بنایا گیا؟ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی کیا؟ کوئی ایمرجنسی تھی، الیکشن ایکٹ تو پارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی، اس پر وکیل نے کہا کہ آرڈیننس کابینہ اور وزیراعظم کی خواہش تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پارلیمان کی وقت زیادہ ہے یا کابینہ کی؟ وکیل الیکش کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی وقت زیادہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائیکورٹ فیصلے کی نفی لی گئی، آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہوا، اس لیے نوٹس نہیں کرسکتے۔

بعدازاں عدالت نے پی ٹی آئی کے 9 امیدواروں کو فریق بنانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونلز کے قیام کیلئے اپنائے گئے طریقہ کار کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
میں چاہتا ہوں ایسا آرڈر دوں کہ کسی کو برا نہ لگے، چیف جسٹس عامر فاروق
نئے آنے والے وکلاء عدالتی اخلاقیات نہیں سمجھتے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا
190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں پرویز خٹک کا بیان ریکارڈ
انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے چیف جسٹس میرے کیسز پر سماعت نہ کریں، بانی پی ٹی آئی
مخصوص نشستوں کا کیس: ن لیگ کی تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر