اشرف غنی  کے فرار نے طالبان کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو بگاڑا ہے، زلمے خلیل زاد

Wajeeha baig

16th Sep, 2021. 11:48 am

 امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ اشرف غنی  کے فرار نے طالبان کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو بگاڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان کابل کے محاصرے کے باوجود 2 ہفتے شہر میں داخل نہ ہونے اور سیاسی مذاکرات پر تیار تھے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ قطر میں سیاسی تصفیہ کے مذاکرات کے دوران اشرف غنی کو صدر برقرار رہنا تھا جبکہ اشرف غنی کے فرار نے سکیورٹی خلا پیدا کرکے طالبان کو شہر میں فوری داخل ہونے کا موقع دیا۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے فرار کی وجہ سے پیدا صورت حال میں افراتفری میں سول انخلا کا آپریشن انجام دینا پڑا جبکہ طالبان کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے اور اشرف غنی کے فرار کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔

 امریکی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ سوال یہ تھا کہ ذمہ داری کون سنبھالے جبکہ ہم سنبھالنے کو تیار نہ تھے۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان کو صدارتی محل کا راستہ ہم نے نہیں دکھایا اور نہ انہیں کوئی گرین سگنل دیا۔

 زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ 12 اگست کو طالبان کے ساتھ کابل داخل نہ ہونے کے متعلق معاہدہ ہو چکا تھا جبکہ معاہدے کے تحت اشرف غنی مستقبل  کے سیٹ اپ کا حصہ نہیں تھے۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اب قربانی کا بکرا تلاش کیا جا رہا ہے، مجھے جن حالات میں ذمہ داری ملی میں نے بہترین نتائج  دیئے، جبکہ ٹرمپ سے پہلی حکومتوں نے معاملات بگاڑ دیئے تھے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان پیشقدمی کر رہے تھے، جبکہ برے حالات میں انخلا کے ذمہ دار افغان ہیں جنہوں نے سیاسی مذاکرات سے انکار کیا۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ اشرف غنی نے دوحہ  امن معاہدے کے بعد مجھ سے ملنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ سیاسی تصفیہ کے لیے جب ایک فریق میز پر بیٹھنے کو تیار ہی نہیں تھا تو امریکا کیسے ذمہ دار ہوگیا۔

Adsence 300X250