پھلوں کا بادشاہ ’آم‘ ، لیکن کیوں؟

ویب ڈیسکویب ایڈیٹر

07th Jun, 2021. 03:47 pm
آم

ہر ایک جانتا ہے کہ پھلوں میں ’آم‘ کو بادشاہ کا لقب حاصل ہے کیونکہ یہ انتہائی لذیذ اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

دیگر پھلوں کے مقابلے میں  آم اپنے ذائقے، تاثیر، رنگ اور صحت بخشی کے لحاظ سے سب سے منفرد ہے اور برصغیر میں کاشت کے سبب سستا اور سہل الحصول بھی ہے۔

آم کے حوالے سے متعدد تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ آم کو غذا کا حصہ بنانے سے بہت سی خطرناک بیماریوں سے دور رہا جاسکتا ہے۔

اسکے علاوہ کچھ باشندے ایسے بھی ہیں جو آم کے علاوہ آم کے پتوں کو بھی کھانے میں شامل کرتے ہیں۔

آم کے بے شمار طبی فوائد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آم کو پھلوں کا بادشاہ قرار دیا گیا ہے ، چند فوائد مندرجہ ذیل ہیں،

1۔ آم بطور دوا:

گرم موسم کےدوران گرمی کی شدت سے اکثر لو لگ جاتی ہے، ایسی صورت میں کچے آم کا رس کافی فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔

2۔ آم غذائیت سے بھرپور پھل:

کٹے ہوئے ایک کپ آم سے جسم کو 99 کیلوریز، 1.4 گرام پروٹین، 24.7 گرام کاربوہائیڈریٹس، 0.6 گرام چکنائی، 2.6 گرام غذائی فائبر، وٹامن سی کی روزانہ درکار 67 فیصد مقدار، کاپر کی روزانہ درکار 20 فیصد مقدار، فولیٹ کی روزانہ درکار 18 فیصد مقدار، وٹامن بی 6 کی روزانہ درکار 11.6 فیصد مقدار، وٹامن اے کی روزانہ درکار 10 فیصد، وٹامن ای کی روزانہ درکار 9.7 فیصد مققدار، وٹامن بی 5 کی روزانہ درکار 6.5 فیصد مقدار، وٹامن K کی روزانہ درکار 6 فیصد مقدار، Niacin کی روزانہ درکار 7 فیصد مقدار، پوٹاشیم کی روزانہ درکار 6 فیصد مقدار، ریبوفلیوین کی روزانہ درکار 5 فیصد مقدار، مینگنیز کی روزانہ درکار 4.5 فیصد مقدار، تھیامائن کی روزانہ درکار 4 فیصد مقدار اور میگنیشم کی روزانہ درکار 4 فیصد ملتی ہے۔

3۔ دل کی صحت کے لئے فائدے مند:

اس پھل میں ایسے غذائی اجزاء موجود ہیں جو صحت مند دل کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بلڈ کولیسٹرول، ٹرائی گلسرائیڈز کی سطح میں کمی اور فیٹی ایسڈز کی سطح  کو متوازن بھی رکھ سکتا ہے۔

4۔ نظام ہاضمہ بہترین بنانے کے لئے:

آم میں ایسے مخصوص انزائم ایمیلیزس موجود ہیں جو کھانے کے بڑے ٹکڑوں کو گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ آسانی سے جسم میں جذب ہوسکیں۔

 آموں میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور غذائی فائبر بھی اس کا حصہ ہے تو یہ پھل قبض اور ہیضے جیسے امراض کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

5۔ کینسر سے ممکنہ تحفظ:

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ آموں میں موجود پولی فینولز تکسیدی تناؤ کو گھٹا کر کینسر زدہ خلیات کی نشوونما کو روکنے یا مارنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

Adsense 300×250