Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

اعضاء کی پیوند کاری سے مریضوں کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی کا انکشاف

Now Reading:

اعضاء کی پیوند کاری سے مریضوں کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی کا انکشاف
اعضاء کی پیوند کاری سے مریضوں کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی کا انکشاف

اعضاء کی پیوند کاری سے مریضوں کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی کا انکشاف

سائنس نہیں مانتی کہ پیوندکاری کے مراحل سے گزرنے کے بعد اعضاء کسی مریض کی شخصیت میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اعضاء کی پیوند کاری کی سرجری اور مریض کی شخصیت میں تبدیلیوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔

ٹرانسپلانٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں، کولوراڈو یونیورسٹی کے محققین نے 47 ایسے شرکاء کو شامل کیا جن میں اعضاء کی پیوند کاری گئی تھی ان میں 23 شرکاء دل کی جبکہ 24 میں اعضاء کی پیوندکاری کے مراحل سے گزرے تھے۔ واضح رہے کہ پیونکاری کے بعد شخصیت میں ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کرنے والا پہلا مطالعہ ہے۔

 یہ تحقیق ایک سروے پر مشتمل تھی جس میں شرکاء سے ٹرانسپلانٹ سرجری کے بعد ان کی شخصیت ہونے والی تبدیلی اور زندگی کے تجربات کے بارے میں جاننا تھا۔

حیرت انگیز طور پر پیوندکاری بعد 89 فیصد شرکاء نے شخصیت میں غیر معمولی تبدیلیوں کی اطلاع دی، اس بات سے قطع نظر کہ انہیں کونسا عضو ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔

Advertisement

ماضی میں کی جانے متعدد تحقیقات میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کی شخصیت میں ہونے والی تبدیلیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

سائنس الرٹ کے مطابق ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے بعد کچھ مریض عضو عطیہ کرنے والی طرح غذا، فن، جنس اور طرز عمل محسوس کرتے ہیں۔

1990 کی دہائی میں ایک خاتون کو جب ایک نوجوان موسیقار کا دل ٹرانسپلانٹ کیاگیا تو اس کے بعد اس خاتون نے موسیقی میں اپنی غیر معمولی دلچسپی پیدا ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس نے سائنسدانوں کو بتایا اس نے پہلے کبھی کسی موسیقی کو بھی نہیں سنا تھا لیکن ٹرانسپلانٹ کے بعد انہیں موسیقی سے محبت ہونے لگی اور انہوں نے اسے اپنے دل میں محسوس کیا۔

تاہم کولوراڈو یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہماری پسند اور ترجیحات جسم کے ہر خلیے میں موجود ہو سکتی ہیں، نہ صرف دل میں۔

اس سروے میں تمام شرکاء نے پیوند کاری کے بعد مزاج، جذبات، خوراک، شناخت، مذہبی، روحانی عقائد اور یادوں کی نسبت چار یا زیادہ شخصیت کی تبدیلیوں کی اطلاع دی۔ تاہم ایک تبدیلی جو دل اور دوسرے اعضاء حاصل کرنے والی میں یکساں تھی وہ جسمانی صفات میں تبدیلی تھی۔

 اسی طرح خون کی منتقلی کے بعد اس شخص نے اپنے مزاج، رویے اور یہاں تک کہ یادوں میں بھی تبدیلی کی اطلاع دی۔

Advertisement

اگرچہ سائنس اس امکان کی حمایت نہیں کرتی ہے، لوگ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ ٹرانسپلانٹ کے نتیجے میں شخصیت میں تبدیلی آسکتی ہے۔

اس حوالے سے سائنس الرٹ ایک ممکنہ وضاحت کے طور پر سسٹمک میموری مفروضہ پیش کرتا ہے۔ اس مفروضے کے مطابق تمام زندہ خلیات میموری پر مشتمل ہوتے ہیں، اسی لیے یہ خصوصیات ٹشو کے ذریعے دوسرے تک منتقل ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ ٹرانسپلانٹ شدہ عضو میں اعصابی کنکشن منقطع ہو جاتے ہیں، تاہم اعصاب اب بھی عضو کے اندر کام کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرجری کے ایک سال کے اندر اعصابی تعلق کم از کم جزوی طور پر بحال ہو سکتا ہے۔ اس طرح عضو عطیہ کرنے والے کی یادوں پر مبنی نیورو ٹرانسمیٹر عضو کے ذریعے ٹرانسپلانٹ کیے جانے والے کے اعصابی نظام کے لیے جسمانی ردعمل کا سبب بن سکتے ہیں جو ان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
نوڈلز کھانے کے شوقین افراد کے لیے بُری خبر
قربانی کے گوشت کو لمبے عرصے تک کیسے محفوظ رکھا جائے؟
مردوں اور خواتین میں سے کون زیادہ گوشت کھاتا ہے؟
پپیتا کھانے کے یہ فائدے آپکو ضرور پسند آئیں گے
ڈپریشن میں مبتلا افراد کے لئے تشویشناک خبر
دل کی اچھی صحت کے لیے روزانہ کتنے گھنٹے سونا چاہیے؟
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر