خوبانی ایک نہایت غذائیت سے بھرپور خشک میوہ ہے جس میں وٹامن اے، سی، ای، پوٹاشیم، آئرن، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ تازہ خوبانی کو خشک کرنے سے بنتی ہے، جس سے اس کی مٹھاس اور غذائیت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔
پاکستان میں یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، بلوچستان اور شمالی پنجاب میں پیدا ہوتی ہے۔
خشک خوبانی کے 3 سے 4 دانوں میں کیلوریز 80 سے 90، پروٹین 1 گرام، فائبر 2 گرام، کاربوہائیڈریٹس 20 گرام، چکنائی 0.3 گرام، روزانہ تجویز کردہ مقدار وٹامن اے 20 فیصد، وٹامن سی 6 فیصد، پوٹاشیم 6 فیصد اور آئرن 5 فیصد موجود ہوتی ہے۔
ہاضمے کے لیے مفید
جلد کے لیے بہترین
خشک خوبانی میں وٹامن اے، ای اور بیٹا کیروٹین جلد کی صحت کو بہتربنانے اور رنگت نکھارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ اجزاء جلد کو سورج کی روشنی سے تحفظ اور کولیجن کی پیداوار میں بھی مددگار ہیں۔
بینائی کی بہتر صحت
خشک خوبانی وٹامن اے اور کیرٹینوئڈزکے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو بینائی، خاص طور پر رات میں دیکھنے کی صلاحیت، کو بہتر بناتے ہیں۔ وٹامن ای آنکھوں کے خلیات کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خوبانی کھانے کے بعد کیا آپ بھی اس کا بیج توڑ کر بادام کھاتے ہیں؟ پہلے نقصان جان لیں
دائمی بیماریوں سے بچاؤ
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئڈز جسم میں سوزش کم کرتے ہیں اور ذیابیطس، امراض قلب اور دوسری دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
قلب کے لیے مفید
خشک خوبانی میں پوٹاشیم اور حل پذیرفائبرموجود ہوتے ہیں جو خون کا دباؤ کم کرنے کے ساتھ کولیسٹرول سطح بہتربناتے ہیں اس طرح امراض قلب کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔



















