Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ذیابیطس کے مریض ناشتے میں کون سی غذائیں استعمال کریں؟

ذیابیطس دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیلنے والا مرض ہے جس کا ابھی تک مکمل علاج دریافت نہیں ہوا ۔ یوں تو اس کی کئی اقسام ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ ٹائپ ٹو کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس مرض کو کسی حد تک غذائی احتیاط کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ، کیونکہ اس مرض میں کئی غذاؤں سے مکمل اجتناب برتا جاتا ہے اسی لئے ناشتہ میں ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جانا چاہئے جو ذیابیطس میں فائدہ مند ثابت ہو۔

ذیابیطس کے مریض اگر ناشتے  میں چند مخصوص غذاؤں کو شامل رکھیں تو یہ اس مرض میں ہونے والی کئی پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ  صحت مند زندگی کے حصول میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔

 یہ بات چین میں کی جانے والی ایک طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

 چین کی ہربن میڈیکل یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ناشتے میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس جبکہ رات کو سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ کاربوہائيڈريٹ یعنی نشاستہ آپ کی غذا ميں شامل ایک ایسا غذائی مادہ ہوتا ہے جو خون ميں شکر کی سطح کو متاثر کرتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹ جن غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ان میں اناج جیسے چاول، چپاتی، پاستا، آلو، نان، نوڈلز، رتالو اور سیریل۔

پھل اور شکر والے مشروبات

دودھ دہی

نشاستے سے بھرپور سبزیاں جیسے پھلیاں اور دالیں

اس تحقیق میں ذیابیطس کے 4642 مریضوں کو شامل کیا گیا اور ان کی گیارہ برس تک مانیٹرنگ کی گئی اور اس طرح حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق کے دوران  ان تمام افراد کی غذائی عادات کا موازنہ کیا گیا جبکہ وقت کے ساتھ خون کی شریانوں کے امراض اور کسی بھی وجہ سے موت کی شرح کو بھی جانچا گیا۔

محققین کے مطابق جو لوگ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور سبزیاں جیسے آلو کو دن کے آغاز میں کھانے کے عادی تھے ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ کم پایا گیا۔

اسی طرح دوپہر میں اناج اور رات کو سبز پتوں والی سبزیاں کھانے والے ذیابیطس کے مریضوں میں بھی اسی طرح کے فائدے کو نوٹ کیا گیا۔

جبکہ اس برعکس رات میں زیادہ مقدار میں پراسیس گوشت کھانا عارضہ قلب سے موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کسی بھی غذا کا استعمال کرنے کا وقت ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین کی حساسیت کے قدرتی حیاتیاتی ردھم سے مطابقت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

محققین کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ذیابیطس کے لیے غذائی رہنمائی اور مرض کی شدت بڑھنے سے روکنے میں مددگار طریقوں میں غذاؤں کے استعمال کے مناسب وقت کے اضافے کو بھی شامل رکھنا چاہئے۔

اس تحقیق کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کے نتائج سابقہ تحقیقی رپورٹس کو سپورٹ کرتے ہیں جن کے مطابق ذیابیطس کے مریض کی صحت اس وقت زیادہ بہتر رہنے کا امکان ہوتا ہےجس میں رات کے کھانے کی بجائے ناشتے میں زیادہ مقدار میں غذا کا استعمال کریں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی جرنل آف کلینکل اینڈوکرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع کئے گئے ہیں۔