کینسر کی ابتدائی علامات کی تشخص کیسے کی جائے ؟


اریبہ نثارویب ایڈیٹر

30th August, 2020
Square ad 300 x 250

جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے  کیوں کہ یہ کینسر کی ابتدائی علامات بھی ہو سکتی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین کے مطابق کسی ایک حصے میں خلیوں کی بے ہنگم افزائش کا ہونا کینسر کی علامت ہے۔

یاد رہے کہ ایک خلیے سے جب 30 خلیے کی افزائش ہو جاتی ہے ان خلیوں کا مجموعی وزن ایک گرام اور حجم ایک سینٹی میٹر کے برابر ہو جاتا ہے جو کہ کینسر کی کوئی خاص علامت نہیں سمجھی جاتی، یہ خلیے خون کی ترسیل کے لیے اپنی خود کار شریانے بنا لیتے ہیں ۔

طبی ماہرین کے مطابق ان خلیوں میں خون کی ترسیل کے سبب ان کی افزائش ہوتی ہے اور انہیں زندہ رہنے میں مدد ملتی ہے۔

کینسر کی ابتدائی علامات کی تشخص کیسے کی جائے ؟

یاد رہے کہ سانس کی نالی اور نظام سے متعلق ہر شکایت کینسر نہیں ہوتا ، یہ کوئی پھیپڑوں کا انفیکشن بھی ہو سکتا ہے جیسے کے ’ ٹیوبر کلوسز ‘ وغیرہ ۔

خیال رہے کہ جسم کے کسی بھی حصوں میں خلیوں کا معمول سے ہٹ کر افزائش ہونا بشرطیکہ یہ کوئی ’ لیمف نوڈ‘ یعنی کوئی وقتی گٹلی نہ بنی ہو ۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ کینسر کی متعدد علامات ابتدائی طور پر بڑی عام ہوتی ہیں جنہیں کوئی بھی نظر انداز کر سکتا ہے۔

کینسرکی نظامی علامات

کینسر کی دیگر علامات میں بخار ، وزن کا گرنا ، بھوک کا ختم ہو جانا، تھکاوٹ اور متلی کا بڑھ جانا۔

اس کے علاوہ شب بیداری کی شکایت، ہڈیو ں میں درد کی شکایت، جسم میں درد، انفیکشن کا جَلد شکار ہو جانا، جسم کے کسی بھی حصے میں مستقل یا بار بار درد ہونا شامل ہے ۔

کینسر کی  جسمانی علامات

جسمانی علامات میں لیمف نوڈ یعنی گٹلیوں کا گردن ، جوڑوں ، بازؤں اور منہ یا جسم میں درد کے بغیر سوجن کی شکایت ہو جانا شامل ہے ۔

کینسر کی معدے کی علامات

معدے میں کینسر کی ابتدائی علامات میں مستقل یا بار بار درد کا اُٹھا، 40 سال کے بعد سینے میں جلد کا مستقل محسوس ہونا، اُلٹیوں کا ہونا، قبض کا مستقل رہنا ، ڈائریا ، لوز موشن ہونا ، معدے میں سوجن کا ہونا شامل ہے ۔

کینسر کی ابتدائی دیگر علامات:

کینسر کی صورت میں جسم میں آنے والی ابتدائی تبدیلیوں میں جسم کے اعضا اُلٹیوں، کھانسی یا جِلد کے ذریعے خون کا رسِنا شامل ہے ۔

پیشاب کا بار بار آنا ۔

مستقل سر درد، اُلٹیوں کا ہونا اور کمزوری کا ہونا شامل ہے ۔

جسم کے مختلف اعضاء پر تلوں کا بننا اور ان کے حجم میں اضافہ ہونا ۔

سانس کا پھولنا یا اکھڑنا ۔

زخموں کا جِلد ، زبان ، منہ اور جسم کے دیگر اعضاء پر بننا اور نہ بھرنا ۔

سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور آواز کا بدل جانا ۔

ہڈیوں کا آسانی سے ٹوٹ جانا ۔

ٹانگوں کا کمزور ہونا اور کمر میں درد کی شکایت کا رہنا ہے۔

واضح رہے کہ مندرجہ بالا دی گئی علامات سے متعلق طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں ایسی صورت میں بغیر وقت لیے فوراً ’آنکولوجسٹ اسپیشلسٹ‘ ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔