امریکی صدر نے ٹک ٹاک سے معاہدہ مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا


رومیصہ ملکویب ایڈیٹر

18th September, 2020
YouTube bans on the channel of Trump for violence videos
Square ad 300 x 250

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ چینی کمپنی ’ٹک ٹاک‘ اورامریکی کمپنی ’اوریکل‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے ہونے والے معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو 100 فیصد خالص ہونا چاہیے اور وہ دونوں کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخظ کرنے سے قبل اسے دیکھیں گے

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہیں 18 ستمبر تک ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے دستاویزات مل جائیں گی۔

 امریکی  میڈیا کے  مطابق ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ نے اپنے معاہدے کے دستاویزات امریکی ٹریزری ڈپارٹمنٹ کو بھجوادیے ہیں جو کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں صدر کو بھجوا دے گا۔

واضح رہے کہ امریکی حکومت نے وی چیٹ کو 20 ستمبر سے جب کہ ٹک ٹاک کو 12 نومبر سے بند کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی حکام کے مطابق ٹک ٹاک کو 12 نومبر تک انٹرنیٹ کے حفاظتی انتظامات کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم مقررہ مدت کے بعد اس پر پابندی لگائی جائے گی۔

 اوریکل اور  ٹک  ٹاک کے  درمیان معاہدے کے تحت نئی کمپنی کے انتظامات کے زیادہ تر اختیارات ’ٹک ٹاک‘ کے پاس ہی ہوں گے تاہم اوریکل نئی کمپنی میں امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور یہی بات امریکی صدر کو قبول نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں زیادہ تر اختیارات امریکی کمپنی کے پاس رہیں۔

خیال رہے امریکی صدر نے ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کرنے کا کہا تھا، ٹرمپ نے صدارتی حکم نامے میں کہا کہ اگر چینی ایپلی کیشنز ’ٹک ٹاک‘ کے اثاثے آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیے گئے تو اس پرامریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

بعد ازاں مائیکروسافٹ نے ’ٹک ٹاک‘ خریدنے کے حوالے سے چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو پیشکش کی جسے اس نے مسترد کردیا اور 3 روز قبل امریکی کمپنی ’اوریکل‘ سے معاہدہ کرلیا جس کے تحت دونوں کمپنیاں امریکا میں مل کر کام کریں گی اور امریکا میں ٹک ٹاک کے انتظامات چلانے کے لیے ایک نئی کمپنی بنائیں گی تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر سے منظوری لینا ضروری ہے جب کہ چینی حکومت کا بھی معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنا ضروری امر ہے۔