دانتوں کو برش کرنے کے بعد کُلی پانی سے نہ کریں


ثمرا مظہرویب ایڈیٹر

26th September, 2020

دانتوں کی صفائی انسانی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کے جسم کے باقی اعضا کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا۔

دانتوں کے ذریعے ہی غذا ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے اور اس کے اندر کسی قسم کی خرابی جسم میں بیماریوں کا ذریعہ بنتی ہے۔

سمجھدار لوگ اپنے دانتوں کی صفائی کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور اس کے لیے باقاعدگی سے برش کرتے ہیں ۔

آج کل بازار میں طرح طرح کے ٹوتھ پیسٹ موجود ہوتے ہیں، مگر ان تمام کمپنیوں کے ٹوتھ پیسٹ میں دو اجزا ایسے ہوتے ہیں جو کہ مشترک ہوتے ہیں اور درحقیقت یہی دانتوں کی حفاظت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں-

ٹوتھ پیسٹ میں موجود فلورائڈ اور را کیلشیم کاربونیٹ کہلاتا ہے یہ دونوں اجزا ایک جانب تو دانتوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں ان کو کیڑا لگنے سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے انیمل کی حفاظت کرتے ہیں-

روزانہ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال دانتوں کے اوپر ان کی ایک تہہ چڑھا دیتا ہے جو کہ ان کی حفاظت کرتے ہیں-

دانتوں کو برش کرنے سے پہلے منہ کو پانی سے کلی کر کے اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہوتا ہے- اس کے بعد داتنوں کو کم از کم دو منٹ تک برش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ٹوتھ پیسٹ کے تمام اجزا اچھی طرح دانتوں کے ہر حصے تک چلے جائيں اور ان کو کیڑا لگنے سے محفوظ کر سکیں-

لوگ دانتوں کو برش کرنے کے بعد ایک بڑی غلطی کرتے ہیں جس کا ادراک ان کو نہیں ہو سکتا ہے- عام طور پر لوگ دانت صاف کرنے کے بعد منہ کو پانی سے کلی کر کے اچھی طرح کھنگالتے ہیں اور یہ عمل اس وقت تک کرتے ہیں جب تک کہ ان کے دانتوں میں لگا ہوا پیسٹ اچھی طرح صاف نہیں ہو جاتا ہے- ان کے اس عمل کے نتیجے میں دانتوں پر لگا ہوا فلورائڈ اور کیلشیم کاربونیٹ بھی صاف ہو جاتا ہے جس کے سبب ان کے فوائد دانتوں تک نہیں پہنچ سکتے ہیں اور بیکٹیریا اور دیگر جراثیم کا بڑھنے کا راستہ صاف ہو جاتا ہے اور دانتوں کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کیڑا بھی لگ سکتا ہے-

یہی وجہ ہے کہ دانتوں کے ماہرین دانتوں کو برش کرنے کے بعد لازمی طور پر ماؤتھ واش سے کلی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ماؤتھ واش میں موجود فلورائڈ اور کیلشیم دانتوں کے اوپر ایک تہہ جما تاکہ اسے خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔