بابر اعظم اور فیملی حامیزہ کو ہراساں نہ کرے، عدالت


شبین رضاویب ایڈیٹر

05th December, 2020
Square ad 300 x 250

لاہور کی مقامی عدالت نے قومی ٹیم کے کپتان اور اس وقت دنیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہونے والے کھلاڑی بابر اعظم اور ان کے اہلخانہ کو جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون (حامیزہ) کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق بابر اعظم پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی خاتون حامیزہ کی درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا کی عدالت میں ہوئی۔

متاثرہ خاتون ( حامیزہ) کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بابراعظم کے خلاف الزامات کا کیس دائر کرنے کے بعد ان کے والد، بھائیوں اور پولیس کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

عدالت نے قومی کرکٹر بابر اعظم اور ان کی فیملی کو خاتون حامیزہ  کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

واضح رہےکہ چند روز قبل لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامیزہ نامی ایک خاتون نے بابر  اعظم پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بابر مجھے کورٹ میرج کے بہانے گھر سے بھگاکر لے گیا اور مختلف جگہوں پر کرائے کے مکانوں پر رکھتا رہا۔

پریس کا نفرنس کے دوران حامیزہ نامی لڑکی نے دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ زیادتی کرنے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ بابر اعظم ہے جو اس وقت پاکستانی ٹیم کا کپتان ہے

خاتون نے الزامات عا ئد کر تے ہو ئے کہا کہ قومی کرکٹر بابر اعظم اور میں ایک ہی محلے میں رہتے تھے ایک ہی ساتھ بڑے ہوئے، وہ میرا اسکول فیلو تھا ،جس کی وجہ سے ہم دونوں کی بہت اچھی دوستی تھی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ بابر اعظم سے میرا تعلق اس وقت کا ہے جب بابر کرکٹ نے کرکٹ کی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا اور بابر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔

متاثرہ خاتون کے مطابق جب انھوں نے بابر سے شادی پر اصرار کیا تو بابر نے جواب دیا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، تھوڑا وقت گزر جائے تو ہم شادی کر لیں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران حامیزہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ  سی سی پی او لاہور کے پاس ایف آئی آر کی درخواست دی گئی لیکن کوئی ایکشن نہ ہونے پر اب وہ درخواست سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے ، جس کی سماعت 4 دسمبر کو ہو گی جب کہ جنسی ہراساں کرنے کے کیس پر سماعت 5 دسمبر کو ہو گی۔

 دوسری جانب  حامیزہ خاتون کے الزامات پر پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن کا کہنا ہے کہ  یہ بابر کا نجی معاملہ ہے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔