واٹس ایپ کی متنازع پالیسی، لاکھوں صارفین کی دیگر میسجنگ ایپس میں بڑھتی دلچسپی


شبین رضاویب ایڈیٹر

13th January, 2021
Square ad 300 x 250

معروف سوشل اینڈ میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ کی نئی متنازع پرائیویسی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد عالمی سطح پر لاکھوں صارفین اس کے حریف میسج پلیٹ فارمز پر منتقل ہونے لگے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ  کے مطابق واٹس ایپ کی متنازع پالیسی سامنے آنے کے  بعد واٹس ایپ کی حریف کمپنیوں کے استعمال کرنے والوں میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے ڈاؤن لوڈز کی اوسط بھی کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

واٹس ایپ کی نئی پالیسی پر شبہات رکھنے والے زیادہ تر صارفین ’’سگنل‘‘ اور ’’ٹیلی گرام‘‘ نامی میسیجنگ پلیٹ فارمز کا رُخ کررہے ہیں۔

واٹس ایپ کی پالیسی سے متعلق عوامی شکایات کے بعد سب سے زیادہ شہرت ٹیلی گرام کو حاصل ہورہی ہے۔

گزشتہ برس 28 دسمبر کے بعد ایک ہفتے کے دوران ٹیلی گرام کے ڈاؤن لوڈز کی تعداد 65 لاکھ سے 1 کرورڑ دس لاکھ تک پہنچ گئی۔

برطانیہ میں ٹیلی گرام استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 47 ہزار سے 1 لاکھ ایک ہزار اور امریکا میں 2 لاکھ 72 ہزار سے 6 لاکھ 71 ہزار پر جا پہنچی ہے۔

دوسری جانب نئی پالیسی کے اعلان کے بعد واٹس ایپ کے ہفتہ وار ڈاون لوڈز ایک کروڑ 13 لاکھ سے کم ہوکر 92 لاکھ پر آگئی ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے صارفین کی دوسری ایپلی کیشنز کی جانب منتقلی واٹس ایپ سے زیادہ اس کے حریفوں کے لیے چیلنج ثابت ہوگی۔