پاکستان سے وفاداری ہم سے سیکھیں، مولانا فضل الرحمان


تنویر علی

21st January, 2021
Square ad 300 x 250

پی ڈی ایم و جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے وفاداری ہم سے سیکھیں۔

اسرائیل ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس اجتماع سے فلسطینی بھائیوں کو کہتا ہوں پاکستانی قوم خون کے آخری قطرے تک آپ کے ساتھ ہیں، جب تک فلسطین کو آزادی نہیں ملتی، اسرائیل کے قبضے سے مسجد اقصی نہیں چھڑایا جاتا جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل نے کہا تھا کہ تمام عرب ممالک اسرائیل قبول کرلیں لیکن سعودی عرب نہیں کرے گا، 1940 میں پاکستان نہیں بنا  اور اسرائیل بھی وجود میں نہ تھا، اس وقت 1940 کی قرارداد میں یہودی فلسطین کی سرزمین پر آبادیاں بنارہے تھے، اسرائیل کو ہم تسلیم نہیں کرسکتے، جب اسرائیل بنا تو اسرائیل کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی رکھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ نو زائدہ مسلم ملک کو ختم کرکے رہینگے، وہ ملک جو پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہے، اس کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں؟

فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حق اور اسرائیل کے خلاف قرارداد جمع کرائی۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں فارن فنڈنگ کیس ہے، یہ کیس بتا رہا ہے عمران خان کو فنڈنگ پاکستان دشمن ملکوں اسرائیل اور بھارت سے آئی، میں نے پہلے ہی کہا تھا یہ اسرائیل اور یہودیوں کا ایجنٹ ہے، آج بھی میری تقریر کو میڈیا پر براہ راست نہیں دکھایا جارہا، عمران خان کہتا ہے فضل الرحمان کو مولانا کہنا جرم ہے، ہم اسرائیل کو نہیں مانتے، نہ ہم عمران کو وزیراعظم مانتے ہیں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب حکومت اور سعودی عوام کو یقین دلاتے ہیں حرمین شریفین پر جان قربان کردینگے، اسرائیل اور یہودی لابی حرمین شریفین پر بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم یہ نہیں ہونے دینگے، اس حکمران نے کشمیر کو بیچا ہے، میں کہتا ہوں تم کو وزیراعظم کہنا جرم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 5 فروری کو راولپنڈی میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرینگے، راولپنڈی میں پی ڈی ایم کی پوری قیادت ہوگی۔

فضل الرحمان نے کہا کہ انکو اعتراض ہے کہ مدرسے کے طلبا جلسے میں کیوں آتے ہے، مدرسے کے طالب علم بالغ ہیں، مدرسے کا طالبعلم شریک ہوگا، تمہارا باپ بھی نہیں روک سکتا۔