اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

کفیل احمد رپورٹر

28th May, 2021. 05:24 pm
کمپنیوں

اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 مارچ میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مالی سال 21ء کی نمو کی پیش گوئی کو  مزید بڑھا کر 3.94 فیصد کیے جانے سے حوصلہ ملا تھا۔

 توقع ہے کہ یہ مثبت رفتار برقرار رہے گی  اور اگلے سال کی بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔

2۔ فروری میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور رمضان  میں قیمتوں میں  اضافے کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد (سال بسال) ہوگئی۔

 غذائی اشیا اور توانائی کو پہنچنے والے رسدی دھچکے اب بھی حاوی ہیں۔

 ایم پی سی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ شہری علاقوں میں قوزی (core)مہنگائی اس مدت میں تقریباً 1.5 فیصدی درجے  بڑھی ہے تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی پر طلبی دباؤ قدرے قابو میں ہے۔ اِس سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ معاشی بحالی کے باوجود پچھلے سال کے سکڑاؤ کے بعد ابھی تک کچھ فاضل گنجائش موجود ہے۔ رسدی دھچکوں کے دور ِثانی کے ا ثرات بھی واضح نظر نہیں آرہے: قیمتوں کا دباؤ چند اشیا میں مرتکز ہے، اجرتوں کی نمو کم ہے جس سے لاگت   میں اضافہ رکا ہوا ہے اور مہنگائی کی توقعات معقول طور پر قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پہلے پیش گوئی کی گئی، بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے باعث امکان ہے کہ عمومی مہنگائی کی سال بسال شرح آئندہ مہینوں کے دوران بلند رہے گی، جس کے نتیجے میں مالی سال 21ء کی اوسط، 7-9 فیصد کی اعلان کردہ حدود کے بالائی سرے کے قریب پہنچ جائے گی۔اس کے بعد جب رسدی دھچکو ں کے اثرات کم ہونے لگیں گے تو توقع ہے کہ مہنگائی گھٹ کر وسط مدت میں بتدریج ہدف کے مطابق  5-7 فیصد کی حدود میں آجائے گی۔

3۔مذکورہ بالا امور کی روشنی میں ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ زری پالیسی کا موجودہ خاصا گنجائشی (accommodative)موقف اس امر کو یقینی بنانے کے لیے موزوں ہے کہ بحالی پختہ ہوجائے اور اپنے طور پر جاری رہے۔ پاکستان میں کووڈ کی جاری تیسری لہر سے پیدا ہونے والی ازسر نو بڑھی ہوئی غیر یقینی مہنگائی اور اس مالی سال کے دوران متوقع مالیاتی استحکام کے پیش نظر یہ بات اور بھی درست ہے۔ نتیجے کے طور پر ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو مددگار ہونا چاہیے ۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ کووڈ کے حوالے سے موجود غیریقینی کے پیش نظر زری اعانت کو بہت جلد واپس لینے کی قیمت بہت تاخیر سے واپس لینے سے زیادہ ہے۔

4۔ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے نادیدہ حالات کی عدم موجودگی میں ایم پی سی کو توقع ہے کہ مختصر مدت میں زری پالیسی گنجائشی رہے گی اور پالیسی ریٹ میں کوئی بھی ردّوبدل محتاط اور بتدریج ہوگا تاکہ رفتہ رفتہ تھوڑی مثبت حقیقی   شرح سود حاصل کی جاسکے۔ اگر بحالی کے زیادہ پائیدار ہونے اور معیشت کے اپنی پوری استعداد کی طرف لوٹ جانے پر طلبی دباؤ سامنے آتا ہے تو ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو گنجائش کے درجے کے مطابق بتدریج کمی کے ذریعے معمول کی جانب لے جانے کا آغاز کرنا دور اندیشی ہوگی۔ اس عمل سے اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مہنگائی بلند سطح پر پختہ نہ ہوجائے اور مالی حالات منظم رہیں، جس سے پائیدار نمو کو تقویت ملے گی۔

5۔ اپنے فیصلے تک پہنچنے میں زری پالیسی کمیٹی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کے اہم رجحانات اور امکانات، اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کو مدِّنظر رکھا۔

حقیقی شعبہ

6۔ نیشنل انکم اکاؤنٹس کے تازہ ترین اعدادوشمار سے تصدیق ہوتی ہے کہ ملکی معیشت گذشتہ سال کے کووڈ دھچکے سے نکل کر مستحکم انداز میں بحال ہوئی ہے جس میں خدمات اور صنعت کا کردار نمایاں ہے۔ مالی سال 21ء میں صنعت کے شعبے میں 3.6 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں اہم کردار تعمیرات اور بڑے پیمانے کی اشیا سازی، خصوصاً غذا، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور گاڑیوں کے شعبوں کا ہے۔ سال کی تینوں سہ ماہیوں میں عارضی صارفی مصنوعات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سمیت ہائی فریکوئنسی کے متعدد اظہاریوں میں درج کی گئی غیر معمولی طور پر مستحکم نمو سے بھی معیشت کی طاقتور بحالی کی عکاسی ہوتی ہے۔ زرعی شعبے کی حاصل شدہ نمو کا تخمینہ 2.8 فیصد ہے جس میں تین اہم فصلوں گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار ریکارڈ بلند رہی، جبکہ گنّے کی پیداوار اب تک کی اپنی دوسری بلند ترین سطح پر رہی۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کی مستحکم کارکردگی کی بنا پر خدمات کا شعبہ بھی گذشتہ سال کی تخفیف سے نکل آیا ہے اور اس میں 4.4 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں بڑا حصہ تھوک اور خردہ تجارت کا ہے۔

7۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ اقتصادی بحالی کو حکومت اور اسٹیٹ بینک کی اُن فعال اور عمدگی سے تشکیل دی جانے والی پالیسیوں نے سہارا دیا جو کووڈ دھچکے کے بعد لائی گئیں۔ بلند سرکاری قرضے کے پیشِ نظر، مالیاتی تعاون کو زیرِ ہدف طبقات تک پہنچایا گیا خصوصاً’احساس‘ پروگرام کے ذریعے کمزور طبقات پر توجہ دیتے ہوئے اخراجات کی تشکیلِ نو کی گئی۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ کووڈ سے قبل اقتصادی استحکام کے مرحلے میں بفر قائم کر لیے گئے تھے، خاص طور پر مالی سال 20ء کے پہلے نو ماہ کے دوران بنیادی فاضل رقم حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 20ء میں مالیاتی خسارہ محدود رہا اور کووڈ دھچکے کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کے سرکاری قرضے میں اضافہ پست ترین سطحوں میں سے ایک تھا، جس سے مارکیٹ کے احساسات اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کو سہارا ملا۔ زری پہلو سے، دنیا میں شرحِ سود میں سب سے بڑی کٹوتیوں میں سے ایک تسلیم کی جانے والی کٹوتی کے ذریعے مالی سال 20ء کے جی ڈی پی کا 5 فیصد بھرپور تعاون کے طور پر فراہم کیا گیا، ادائیگی کے قابل  قرض لینے والوں کو سیالیت میں عارضی ریلیف دیتے ہوئے اصل رقم کی ادائیگی مؤخر اور قرضے کی تشکیلِ نو کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ نئی اور عارضی ری فنانس سہولتیں متعارف کرائی گئیں تاکہ ملازمتوں کی چھانٹیوں کو روکا جائے (روزگار اسکیم)، صحت کی سہولتوں سے تعاون کیا جائے، اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے (ٹی ای آر ایف)۔

8۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں معاشی نمو کے گذشتہ کئی اعداووشمار کے برخلاف جاری  معاشی بحالی  کو بیرونی استحکام پر سمجھوتہ کیے بغیر حاصل کیا گیا ہے۔  مالی سال21ء کے ابتدائی دس مہینوں میں جاری کھاتہ 0.8 ارب ڈالر فاضل رہا ہے جو 17برسوں میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔حالیہ مہینوں میں  معاشی بحالی، اجناس کی بڑھتی ہوئی عالمی  قیمتوں کے ساتھ ساتھ  عارضی ملکی قلت پر قابو پانے کے لیے گندم اور چینی کی یکبارگی کھیپوں کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم  ترسیلات ِزر  کی ریکارڈ سطح بڑی حد تک اس کی تلافی کر رہی ہے جو اپریل کے مہینے میں  بڑھ کر ماہانہ (2.8ملین ڈالر) اور مجموعی (24.2ارب ڈالر) دونوں  بنیادوں پر تاریخی سطح  تک پہنچ گئیں۔ علاوہ ازیں، اس سال اب تک برآمدات میں تقریباً14فیصد (سال بسال) نمو ہو چکی ہے، جس کا اہم سبب  بلند قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل اور مناسب قیمتیں  ہیں۔ پاکستان نے مارچ میں  کامیابی کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کے  مشترکہ دوسرے تا پانچویں جائزوں کو مکمل کیا اور بین الاقوامی سرمایہ منڈی سے دوبارہ رجوع کر کے یورو بانڈ کے ذریعے2.5ارب ڈالر جمع کیے، جس کے لیے زائد سبسکرپشن موصول ہوئیں اور جنہیں قیمت کی ابتدائی رہنمائی کی نسبت کم یافتوں(yields) پر جاری کیا گیا۔ ان مثبت پیش رفتوں نے پاکستانی روپے کو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد بڑی حد تک تقریباً کووڈ19 سے پہلے کی سطح پر مستحکم رکھا اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً16ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو چار برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔ آگے چل کر توقع ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ محدود رہے گا جسے شرح مبادلہ کے لچکدار نظام سے تقویت ملے گی جبکہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو باسہولت انداز میں پورا کیا جانا چاہیے، جس سے زرمبادلہ کے بفرز میں مزید مضبوطی آئے گی۔

9۔ رواں  سال کے بجٹ کے مطابق مالی سال21ء کی ابتدائی تین سہ ماہیوں میں مالیاتی یکجائی  خاصی بہتر ہوئی  ہے۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا3.5فیصد ہے جو بلند سودی ادائیگیوں اور کورونا سے متعلق اخراجات کے باوجود گذشتہ برس کی نسبت0.6فیصدی درجے کم ہے۔ سیلز ٹیکس اور بلاواسطہ ٹیکسوں کی بحالی کی بدولت ایف بی آر کی ٹیکس وصولی  (ری فنڈ کا خالص) 14فیصد بڑھی ہے۔ضمنی گرانٹس پر پابندیوں اور کفایت شعاری کے اقدامات سے غیر سودی جاری اخراجات میں کمی آئی اور ان میں6.7فیصد نمو ہوئی، جو گذشتہ برس کی شرح کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ اس کے نتیجے میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا ایک فیصد فاضل رہا، جو12برسوں کی پہلی تین سہ ماہیوں کی بلند ترین سطح ہے۔

زری پالیسی اور مہنگائی کا منظرنامہ

10۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مالی حالات مناسب حد تک معاون ہیں۔ گذشتہ اجلاس کے بعد سے زری پالیسی کمیٹی کی فراہم کردہ پیشگی رہنمائی کے مطابق بازار کی یافت  میں  کمی آئی ہے اور نجی شعبے کے قرضوں میں میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو نمو کے پچھلے اعدادوشمار سے ہم آہنگ ہے۔ بحیثیت مجموعی اپریل کے پورے مہینے میں نجی شعبے کے قرضوں کے بہاؤ میں معین سرمایہ کاری اور صارفی قرضوں کے بل بوتے پر43فیصد (سال بسال) نمو ہوئی ہے، جس کا اہم سبب کم شرح سود اور اسٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ اسکیمیں، خصوصاً عارضی معاشی ری فنانسنگ سہولت (ٹی ای آر ایف) اور طویل مدتی فنانسنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف)ہیں۔

Adsense 300×250