Double Click 728 x 90
Double Click 970 x 250

حکومت عدالتی احکامات کو بھی ماننے سے قاصر ہے، شاہد خاقان عباسی


کلثوم ہرا

08th May, 2021
Double Click 160 x 600

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی احکامات کو بھی ماننے سے قاصر ہے۔

پاکستان کے نمبر 1 نیوز چینل بول نیوز کے پروگرام نیشنل ڈیبیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بلیک لسٹ سے نام نکالنے کیلئے ڈی جی ایف آئی اے کو درخواست نہں دینی پڑتی، بلیک لسٹ سے نام نکالنے کا کام وزارت داخلہ کا ہوتا ہے، وزارت داخلہ کوعدالتی حکم ملتا ہے تو اسے فوری عملدرآمد کرانا ہوتا ہے، یہ حکومت کی جانب سے ایک گھٹیا حرکت تھی، حکومت عدالتی احکامات کو بھی ماننے سے قاصر ہے، ایسے حکومتی نظام نہیں چلتا جیسے پی ٹی آئی چلا رہی ہے، شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنا اتفاقیہ نہیں تھا، حکومت جس تکلیف اور مشکل میں ہے نظرآرہا ہے، شہبازشریف علاج کی غرض سے بیرون ملک جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں پتا نہیں ہے کونسا محکمہ کونسا وزیر چلارہا ہے، اس حکومت میں ہر وزیر اپنے کام کے علاوہ دوسرا کام جانتا ہے، وزیراعظم عمران خان کو خود نہیں پتا کہ ملک میں کیا ہورہا ہے، یہ میں باہر گیا تھا تو یہی باتیں ہوتی تھیں یہ کوئی پیغام لے کر گئے ہیں، میں نے مشرف کے دور میں 9 سال ای سی ایل میں گزارے ہیں، اس حکومت میں 2 سال سے زائد ہوگئے ہیں میرا نام ای سی ایل میں ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے گھٹیا طریقوں سے حکومتیں نہیں چلتی، شہبازشریف 2001 سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں، پی ڈی ایم ایک تحریک ہے، اسکا بیانیہ ہے ملک آئین کے مطابق چلے، اگر کوئی جماعت اس بیانیے سے اتفاق نہیں کرتی تو اسکے راستے جدا ہیں، تکلیف ان کو ہوگی جو پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم چھوڑے گا، کسی جماعت کے جانے سے پی ڈی ایم کو کوئی فرق نہیں پڑتا، پاکستان کےمسائل کا حل یہی ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے، ضمنی الیکشن میں حکومت کو جیسی مار پڑ رہی ہے انکے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ این اے249 جسکی سیٹ تھی اسکے ساتھ کیا ہوا سوال یہ ہے، پچھلے 3 سالوں میں پاکستان سفارتی سطح پر پیچھے گیاہے، حکومت نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو تباہ کیا ہے، پھر حکومت نے ان تعلقات کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، پاکستان کےدوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں زوال آیا ہے بہتری نہیں آئی، امریکا، چین، روس کے ساتھ ہمارے تعلقات دیکھ لیں کیسے ہیں، یو اےای، ترکی، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہترہیں کیا؟ پاکستان کے خود کے پاس ویکسین، آکسیجن نہیں بھارت کی کیا مدد کریگا، اسپیکر اسد قیصر کو جو الفاظ بولے نہیں بولنے چاہیں تھے، لیکن جو اشتعال دے گا تو اسے اشتعال ملے گا، کسی کو کبھی گالی نہیں دی لیکن ہمیں آزمایا نہ جائے، پارلیمنٹ میں عوام کے مسائل کے حل کیلئے بات کرنے جاتے ہیں، پارلیمنٹ میں بولنے کیلئے بٹن دبایا لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی، ایک دن پہلے اسپیکر اسد قیصر سے ہاؤس چلانے کیلئے معاہدہ ہوا تھا، لیکن مجھے اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں ہے، پارلیمنٹ کے ماحول کوخراب کرنے والا شخص اسپیکر ہے، اگر اسپیکر بات نہیں کرنے دیگا تو تلخی اس سے بھی زیادہ ہوگی، پارلیمنٹ کے 3 حصے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صدرمملکت، انتخابی اصلاحات سے صدر کا کیا تعلق ہے، صدر مملکت نے کہا ہے کہ الیکٹورل ریفارمز ایک مشین ہے، اس ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہیں ان کو روکنا ہے، پاکستان میں الیکٹورل ریفارمزکی کوئی ضرورت نہیں ہے، الیکشن چوری کو کیسے روکا جائے اس پربات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہرکام بدنیتی اور سستی شہرت کیلئے ہے، جس حکومت کے پاس اکثریت ہو وہ بلیک میل نہیں ہوتی، جوباتیں بند کمروں میں ہوتی تھیں پی ڈی ایم کی وجہ سے حرف عام ہیں، استعفوں سے پی ڈی ایم جلد رزلٹ حاصل کرسکتی تھی، لیکن پی پی استعفوں سے ہٹ گئی،ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔

Double Click 300 x 250

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ