ہمیں ڈھائی سال عمر کے واقعات بھی یاد ہوسکتے ہیں، نئی تحقیق

شبین رضاویب ایڈیٹر

16th Jun, 2021. 03:59 pm
یاداشت

اکثر کہا جاتا ہے کہ  پرانی باتوں کو بھول کر آگے بڑھیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانی باتوں کو یاد رکھنے سے  ہماری یاداشت بہتر ہوتی ہے۔

حال ہی میں ہونے والی کئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ہم پرانے تجربوں کو اپنے ذہن میں دہراتے ہیں تو ان کی یادیں مضبوطی سے ہمارے ذہن میں رجسٹر ہو جاتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ کس عمر تک کے واقعات اوریادیں آپ کی یاداشت میں محفوظ ہوتی ہیں؟

 

یہ ایک مشکل سوال ہے لیکن کئی عشروں کے ڈیٹا کی غیرمعمولی چھان بین کرکے  کینیڈین سائنسدان بالآخر یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ہم اپنی ابتدائی ترین عمر کے کس عرصے تک کی باتیں یاد رکھ سکتے ہیں۔

ان ماہرین کا تحقیق کے بعد کہنا ہےکہ بعض افراد ڈھائی برس عمر کی باتوں کو یاد رکھتے ہیں کیونکہ یادداشت کا عمل اس عرصے میں شروع ہوجاتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین نے مزید کہاکہ ہر فرد کی یادداشتی ابتداء کی عمر مختلف بھی ہوسکتی ہے لیکن سائنسدانوں نے اوسط ڈھائی برس پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہےکہ اس کی تفصیلات سائنسی تحقیق جریدے ’میموری‘ میں شائع ہوئی ہے۔

Adsense 300×250