پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدے کی بنیاد پر ہیں، طاہر اشرفی

وریشہ مسعودویب ایڈیٹر

16th Sep, 2021. 10:16 pm

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدے کی بنیاد پر ہیں۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہرمحمود اشرفی کی پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک سعودی عرب تعلقات کے استحکام اور عالم اسلام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدے کی بنیاد پر ہیں ، گرین پاکستان اور گرین سعودی عرب و مشرق وسطیٰ عمران خان اور امیر محمد بن سلمان کا دنیا کیلئے تحفہ ہے۔

ملاقات میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب تعلقات کو کوئی قوت کمزور نہیں کر سکتی۔ پاکستان اور سعودی عرب کا موقف عالم اسلام کے اہم مسائل پر ایک ہے۔

واضح رہے اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا موضوع ایک لحاظ سے فخر کی بات ہے تو دوسری جانب لمحہ فکریہ بھی ہے ، خواتین پر تشدد کے حوالے سے ہر بھائی خاوند اور باپ کی ذمہ داری ہے کہ ایسا واقعہ ہی نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ کبھی مائیں تربیت کرتی تھیں کہ محلے کی لڑکی تمہاری بہن ہے ، یہ ماننا پڑے گا کہیں نہ کہیں تربیت میں بھی کمی آئی ہے ، مینار پاکستان واقعے میں کوئی ایک ایسا ہاتھ نہیں تھا جو اس واقعے کو روکتا کہ یہ میری بہن ہے ، نبی کریم ﷺ کے مقاصد نبوت میں سے ایک مقصد عورت کا تقدس بھی تھا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا  تھا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا بیٹی خوشخبری ہے ،  اس آیت سے پتہ چلتا ہے بیٹی کی تعظیم کیا ہے ، آج پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کو وراثت میں سے حصہ دینے کو تیار نہیں ہیں ، نبی کریم ﷺ سے بڑا کوئی وزت والا نہیں ، حضرت فاطمہؓ جیسی بیٹی سے پوچھتے ہیں کہ میں تمہارا نکاح علی سے کر دوں۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا تھا کہ آقا علیہ سلام بی بی خدیجہ کا مال لے کر فروخت کرنے گئے اس سے ثابت ہوتا ہے خاتون تجارت بھی کر سکتی ہے ،  حضرت عمرؓ جیسے افراد بی بی حفصہ سے معاملات پوچھنے آتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں سے مشاورت کی تعلیم دی گئی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنے اہل خانہ کے مسائل کے حل کے لیے خواتین مددگار ڈھونڈتے ہیں مگر اپنی بچیوں کو تعلیم نہیں دلواتے ، راجہ بشارت صاحب سے گزارش ہے کہ دس کیس مثال کے طور پر رکھے جائیں جس میں درندوں کو سرعام لٹکا دیا جائے ، ہمارا ایک طبقہ کہتا ہے ان درندوں کا انسانی حق ہے ، کیا زینب اور نور مقدم جسی بچیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا تھا کہ خواتین کو مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور اس کے گھر والوں کوبھی اس کے سات چلنا چاہیے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں ، معاشرے میں ایک رخ فحاشی و عریانی بھی ہے ، ہمارے پڑوسی ممالک سے غیر اخلاقی مواد ہمارے ملک میں پھیلایا جارہاہے ، ہم نے متعدد بار پیمرا سے بھی درخواست کی ہے اس حوالے سے کے اس کو روکا جائے۔

Adsence 300X250

مزید پڑھیں