خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کسی معافی کے مستحق نہیں، فیاض الحسن چوہان

وریشہ مسعودویب ایڈیٹر

15th Sep, 2021. 07:18 pm

وزیرجیل خانہ جات و ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کسی معافی کے مستحق نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِجیل خانہ جات و ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے خاتون صحافی کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خاتون صحافی کو راوی پل پر ہراساں کرنے والا ملزم بارہ گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور سی سی پی او لاہور نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ پنجاب پولیس نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے بائیک کے نمبر سے ملزم کو ٹریس کیا۔

ترجمان حکومت پنجاب نے کہا کہ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، بہت جلد اس گھٹیا حرکت میں ملوث دیگر ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کسی معافی کے مستحق نہیں، خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

وزیرِجیل خانہ جات و ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ بروقت اور موثر کارروائی پر پنجاب پولیس کے جوان اور افسران داد کے مستحق ہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دیکر معاشرے کے لیے نشان عبرت بنایا جائے گا۔

واضح رہے اس سے قبل ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بچے اور من کے کچے ہیں، بلاول نے کرپشن کے عالمی ریکارڈ چھوٹی سی عمر میں ہی بنالیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کی جیل کا سپرنٹنڈنٹ بھی جیالا ہی ہوگا، پی ڈی ایم والے نہ اِدھر کے رہے اور نہ ہی اُدھر کے رہے، ن لیگ کے ترجمان آپس میں لڑ رہے ہیں، اپوزیشن والے ایک دوسرے کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں،شہباز شریف بلاول کو اور بلاول شہباز شریف کو استعمال کررہے ہیں۔

ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن دیہاڑی بنانے کی کوشش کررہے ہیں، فضل الرحمٰن نے پچھلی بار ایک ارب کی دیہاڑ لگائی اور اس مرتبہ 4  ارب کی دیہاڑی لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ پنجاب میں یونیورسٹیز کو سولر پر منتقل کیا گیا، پنجاب میں اسپتالوں کو بھی سولر پر منتقل کریں گے۔

ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا تھا کہ توانائی کے محکمہ میں انقلابی اقدامات کیے گئے، وزیراعلیٰ کا حق ہے جسے چاہیں ہٹائیں اور جسے چاہیں تعینات کریں، وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں اچھا آئی جی آئے تو انکا حق ہے۔

Adsence 300X250