ڈپریشن کیا ہے، اس سےکیسے بچا جائے؟ نئی تحقیق

شبین رضاویب ایڈیٹر

20th Sep, 2021. 01:02 pm
ڈپریشن

متعدد افراد کو ذہنی تشویش اور مایوسی (ڈپریشن) کا زندگی کے مختلف مراحل کے دوران سامنا ہوتا ہے، جو جسمانی وزن بڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔

ڈپریشن کیا ہے؟

ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کا روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا، آپ بہت اداس، مایوس یا بیزار رہتے ہیں یا گھبراہٹ، بے چینی اور بے بسی کا شکار رہتے ہیں تو شاید آپ بھی ڈپریشن کا شکار ہیں۔

اگرچہ یہ بات کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے لیکن ڈپریشن بھی ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ اس کی دیگر علامات میں ٹھیک سے نیند نہ آنا، بھوک نہ لگنا یا وزن میں کمی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور توجہ و یاداشت کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں یہاں تک کہ اس بیماری کا شکار لوگ اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے لگتے ہیں۔

ماہرین نفسیات نے دماغی نفسیاتی اور اعصابی سکون اور توانائی حاصل کرنے کےلیے قیمتی مشورے دے دئیے۔

 زندگی میں انسان کو کئی طرح کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہو سکتاہے۔ مشکل صورتحال میں ہمیں حالات کا جائزہ لیکر خیالات کو مثبت انداز میں جمع کرکے درست فیصلے کرنے چاہیئں،یعنی بے چینی اور منفی جذبات کو گھماکر دوسرے مثبت کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی لاتعداد مثالیں ہیں۔

تحقیق میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سبزے، درخت اور پُرسکون قدرتی مقامات دماغی سکون کا باعث ہوتے ہیں اور ان کے اثرات کئی ہفتوں تک برقرار رہتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ نئے کاموں کو آزمائیں اور مفت آن لائن کورسز کریں، کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیں یعنی اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکل کر کچھ نہ کچھ نیا کریں۔

اکثر لوگ کسی نہ کسی بات پر پریشانی کا شکار ہوکر مایوس ہوجاتے ہیں، ایسی صورتحال میں انہیں چاہیے کہ وہ اہل خانہ اور دوستوں سے رابطہ کریں کیوں کہ حوصلہ افزاء اور تسلی بخش جملے آپ کےلیے فائدہ مند ثابت ہوں گے اور آپ کا اعتماد بڑھے گا۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق اگر آپ کے خاندان یا دوست احباب میں کوئی ڈپریشن کی علامات ظاہر کر رہا ہے تو اس صورت میں آپ ان کو الگ بیٹھا کر پوچھیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔

ڈپریشن سےکیسے بچا جائے؟

ڈپریشن کے شکار شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کس مشکل کا شکار ہے اور کیا اسے کسی قسم کی مدد درکار ہے۔

ماہرین کے مطابق بہتر ہو گا کہ آپ ان پر نظر رکھیں اور انہیں مائل کریں کہ وہ کسی ماہر نفسیات یا پروفیشنل سے مدد لینے پر مان جائیں لیکن اگر وہ ایسا کرنے سے گریزکرتے ہیں تو آپ خود جا کر کسی معالج سے مشورہ کر سکتے ہیں اور پوچھ سکتے ہیں کہ اس صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ آپ دیگر ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ وغیرہ سے بھی معلومات اکھٹی کر سکتے ہیں۔

فارغ دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے کسی بھی بیماری کی شدت فراغت کے سبب زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔ اس کے بر عکس اگر انسان کسی نہ کسی کام میں خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر مصروف رکھے گا تو اس سے اس بیماری کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔

اگر انسان دن کے چوبیس گھنٹوں کو ایک نظم و ضبط کے ساتھ ترتیب دے تو اس سے اس کو اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی طاقت مل سکتی ہے۔

اللہ تعالی نے کچھ پھلوں میں یہ تاثیر رکھی ہےکہ ان کے استعمال سے موڈ بہتر ہوتا ہے اور ایسے ہارمون جو ڈپریشن کا باعث بنتے ہیں ان کا لیول تیزی سے کم ہوتا ہے ۔

خاص طور پر رس والے پھل جن میں انگور ، کینو وغیرہ شامل ہیں، ڈپریشن کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتے ہیں

ڈپریشن سے بچنے کےلئے کون سی غذائیں استعمال کریں؟

وٹامن سی: ترنجی پھل، ہری سبزیاں اور دیگر پھل اور سبزیاں۔

وٹامن ڈی: مچھلی، جھینگے، انڈے اور دودھ، پھلوں کے رس اور اناج سے بنی مصنوعات۔

بی وٹامنز: سرخ گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ کی مصنوعات، دلیہ اور پتوں والی ہری سبزیاں۔

میگنیشیم، سیلینیم اور زنک: خشک میوے، بیج، دلیہ، ہری سبزیاں اور مچھلی۔

کاربوہائیڈریٹس: بھوسی والی روٹیاں اور دلیہ، لال چاول، باجرا، پھلیاں اور نشاستہ دار سبزیاں ، آلو، مکئی،مٹر۔

بغیر چربی کا سرخ گوشت، مرغی کا گوشت، انڈے اور پھلیاں۔

اومیگا -3فیٹی ایسڈز: مچھلیاں، اخروٹ، گوبھی، پالک، گرما، کنولا اور السی کا تیل۔

اومیگا -6فیٹی ایسڈز:مرغی، انڈے، اناج اور سبزیوں کا تیل۔

پانی

دماغ کے لیے آخری اہم چیز پانی ہے، ہمارے دماغ کا سب سے بڑا حصہ پانی پر ہی مشتمل ہے، پانی میں معمولی سی کمی بھی آپ کو ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار کر سکتی ہے، جیسا کہ چڑچڑا پن اور توجہ کے ارتکاز میں کمی وغیرہ۔

Adsence 300X250