منہ کا بار بار سوکھنا کس بڑی بیماری کی علامت ہے؟ تحقیق

کلثوم ہرا

16th Oct, 2021. 08:27 pm

اکثر اوقات گھر کے بڑے بوڑھے اور جوان بار بار منہ سوکھنے کی شکایت کرتے ہیں جسے ہم پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں،.

ماہرین کے مطابق کہ بار بار منہ سوکھنے کی ایک بڑی وجہ شوگر بھی ہوسکتی ہے۔

امریکی یونیورسٹی امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق خون میں شوگر کی سطح غیر متوازن اور اکثر اوقات  زیادہ رہنا منہ کے ہر وقت خشک رہنے کا سبب بنتا ہے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کچھ کیے تھکاوٹ محسوس ہونا اور جسمانی وزن کے متوازن ہونے کے باوجود بھی اگر منہ خشک رہتا ہے تو یقیناً یہ ذیابطیس کی علامت ہے۔

محققین کے مطابق جب خون میں گلوکوز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو گردوں کی صلاحیت میں  کمی آتی ہے، ایسے میں گردے مائع کو جذب کرنے کے بجائے پیشاب کی زیادتی کی مدد سے  جسم میں سے پانی کو خارج کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور منہ بار بار خشک ہو نے لگتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منہ کے خشک ہونے کے سبب غذا کو ہضم کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ منہ میں تھوک کم مقدار میں پیدا ہونے لگتا ہے  اور اس کے نتیجے میں غذا کو ہضم کتنے کے لئےوقت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔

ایسی علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوراً اپنا تفصیلی طبی معائنہ کروانا چاہئیے، بڑھی ہوئی شوگر کی تشخیص ہونے کے نتیجے میں اسے کنٹرول کرنے کے لئے مناسب غذا کا استعمال، روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور معالج کی جانب سے تجویز کی گئی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہئیے۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی معائنے میں ذیابطیس کی علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسی صورت میں بار بار منہ سوکھنے کی شکایت سے بچنے کے لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائیں ۔

اس کے علاوہ کیفین والے مشروبات مثلاً چائے کافی سے پرہیز کریں، مرغن، مصالحے دار، مرچوں والی، نمکین اور میٹھی غذاؤں سے بھی پرہیز کریں۔

Square Adsence 300X250

مزید پڑھیں