Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ملکی معیشت کومزید متاثر کرے گی ، آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن

Now Reading:

پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ملکی معیشت کومزید متاثر کرے گی ، آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن

ترجمان آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ملکی معیشت کومزید متاثر کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے چیئر مین طارق وزیر علی نے کہا ہے کہ مہنگی قیمت پر مصنوعات خرید کر کم قیمت پر دینے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں نقصان اٹھا رہی ہیں۔

آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین طارق وزیر علی نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے تحت ڈیفرینشل کلیم سسٹم کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی پہلے سے تباہ حال معیشت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔

  طارق وزیر علی نے پی ڈی سی پر انحصار کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کی حکومت کی حکمت عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے نا صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے ملکی معیشت پر بھی سخت اثرات مرتب ہوں گے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مزید نہ بڑھانے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتی ہیں لیکن اس حکومت نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دہائیوں پرانے پی ڈی سی نظام کو دوبارہ متعارف کروایا ہے۔

Advertisement

پی ڈی سی سسٹم کے بارے میں بات کرتے ہوئے طارق وزیر علی نے کہا کہ پی ڈی سی ایک ایسی رقم ہے جو حکومت ریفائنریز اور درآمد کنندگان کے ساتھ بعد کے مرحلے میں طے کرتی ہے، خاص کر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اس سبسڈی نے بڑی حد تک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کوبےحد متاثر کیا ہے جنہوں نے بین الاقوامی قیمت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات مہنگی خریدیں اور اب ان مصنوعات کو کم قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں گزشتہ کچھ عرصے سے حکومتی اداروں کی طرف سے شدید دباؤ میں ہیں اور اس صورتحال میں سبسڈی ختم کرنے سے ان کمپنیوں کو مزید نقصان ہوگا جو اس سیکٹر کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

 طارق وزیر علی نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان کا آئل سیکٹر ڈیوٹی، ٹیکسز اور لیویز کی شکل میں 1000 ارب روپے سے زائد حکومتی خزانے میں جمع کراتا ہے۔ یہ کمپنیاں ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں جو پاکستان کے 10 لاکھ سے زیادہ شہریوں کی کفالت کرتے ہیں، جبکہ ان کمپنیوں کے پاکستان بھر میں 10 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس ہیں جو کاروباروں، کسانوں، صنعتوں اور ہماری مسلح افواج کو پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرتے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ سبسڈی ایک مخصوص مدت کے لیے ہے اور اس میں مارک اپ سمیت رقم کی واپسی کے طریقے کا واضح ہونا چاہیے۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ یہ نظام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کو متاثر نہیں کرے گا۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
سونے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا
پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک اور تشویشناک خبر آگئی
موبائل فون کی درآمد میں 291 فیصد سے زائد اضافہ
مفت سولر پینل اسکیم؛ آپ اہل ہیں یا نہیں؟ طریقہ کار سامنے آگیا
سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی ہوگئی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر