پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات کا حامی ہے، وزیر خارجہ

Web Desk

08th Dec, 2021. 12:32 am

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات کا حامی ہے۔

برسلز میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ و نائب صدر جوزف بوریل کی مشترکہ صدارت میں پاک ای – یو اسٹریٹیجک مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد ہوا ، ان مذاکرات میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین دو طرفہ تعلقات کی تمام جہتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان مذاکرات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے” اسٹریٹیجک شراکت داری منصوبے “پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ فریقین کے درمیان دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور ان سے متعلقہ امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور افغانستان سمیت علاقائی امن و سلامتی سے جڑے امور بھی زیر بحث آئے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگلے برس ہم پاکستان – ای یو دوستی کی ساٹھویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ ہم اس پرمسرت موقعے کو اسلام آباد میں اکٹھے منائیں۔ آج کا یہ اجلاس پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان موجود اسٹرتیجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے مابین، اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل نے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، 26 اگست 2021 کو وزیر اعظم عمران خان کا صدر یورپی کونسل چارلس مائیکل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری رواں برس جون میں انطالیہ سفارتی فورم کے موقع پر یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کے ساتھ ملاقات ہوئی جبکہ ستمبر 2021 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر بھی یورپی ہم منصب کے ساتھ میری ملاقات ہوئی اور 15 اگست کے بعد افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر بھی ہمارا ٹیلیفونک رابطہ برقرار رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نیا پاکستان وژن پر عمل پیرا ہے جس میں بہتر طرز حکمرانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ، معاشی استحکام، سیاحت کا فروغ، بدعنوانی کے خاتمے، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور موسمیاتی تغیر جیسے عوامل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کو پہلی دفعہ الیکٹرانک ووٹ کا حق دے کر انہیں مزید بااختیار بنانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے، وزیر اعظم عمران خان کے اگلے سال کے اوائل میں متوقع دورہ برسلز سے پاک، ای یو تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی توجہ اقتصادی ترجیحات کی جانب مرکوز کیے ہوئے ہے، ہم نے مذہبی رواداری کے تحت ہندوستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والی سکھ برادری کیلئے “کرتارپور راہداری” کو کھولا تاکہ وہ آسانی کے ساتھ، پاکستان میں اپنے مذہبی مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیرپا ترقی کے اہداف 2030 کے ایجنڈے کو اپنے قومی ترقیاتی ایجنڈے میں شامل کیا ہے، کاروبار میں آسانی پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں ہماری درجہ بندی میں 28 پوائنٹس بہتری آنا ، ہماری مثبت اقتصادی پالیسیوں کا مظہر ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اقتصادی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے علاقائی روابط کا فروغ اور علاقائی روابط کے فروغ کیلئے افغانستان میں قیام امن ناگزیر ہے، اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی بحران سے افغان عوام کو نجات دلانا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، افغان عوام کی انسانی و معاشی معاونت کیلئے موثر اور فوری اقدامات اٹھائے، خدانخواستہ اگر افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو اس کے مضمرات سب کو بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں یورپی یونین کا افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے پلیٹ فارم کے ساتھ ربط، خوش آئند ہے،اور پاکستان اس کی پر زور حمایت کرتا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات کا حامی ہے، بدقسمتی سے ہندوستان نے ہماری اس امن خواہش کا احترام کرنے کی بجائے، مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات کر کے خطے کے امن کو مزید خطرات سے دوچار کیا۔

Square Adsence 300X250