اسمارٹ فون صارفین نے ایک سال میں 133 ارب ڈالر خرچ کردیے

Web Desk

08th Dec, 2021. 08:05 pm

دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین نے رواں سال ایپل اسٹور اور گوگل پلے اسٹور پر ایپلی کیشنز، گیمز اور ٹولز کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کردیے ہیں۔

کنزیومر مارکیٹ کا تجزیہ کرنے والی فرم سینسر ٹاور کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین نے گوگل اور ایپل اسٹور سے خریداری پر اب تک 133 ارب ڈالر خرچ کردیے ہیں۔ جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 اعشاریہ 7 فیصد زائد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اب تک اسمارٹ فون صارفین نے ایپل اسٹورز پر 85 ارب 10 کروڑ ڈالر خرچ کردیے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 17 اعشاریہ 7 فیصد زائد ہے۔ گزشتہ سال اسی عر صے میں صارفین نے صرف ایپل اسٹور پر 72 ارب 7کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے ۔

ایپل کے مقابلے میں گوگل پلے اسٹورپر خرچ کی جانے والی رقم میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رواں سال اسی مدت میں گوگل پلے اسٹور پر صارفین کی جانب سے 47 ارب 9 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ساڑھے 23 فیصد زائد ہے۔ 2019 میں اسی عرصے میں پلے اسٹور پر 38 ارب 80 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

اس بارے میں سینسر ٹاور کی موبائل اسٹریٹیجسٹ اسٹیفنی چین کا کہنا ہے کہ ان دونوں پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ہونے والا خرچ تقریبا یکساں رہا تام ایپل کے ایپ اسٹور کے منافع میں گوگل مارکیٹ پلیس کی نسبت 1 اعشاریہ 80 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق  ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک بشمول پیرنٹ کمپنی Douyin دونوں ایپ اسٹور  پر نان گیمنگ ایپس میں سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے والی ایپلی کیشنز میں سرفہرست رہی۔

رواں سال مجموعی طور پر دونوں ایپ اسٹورز ہر ٹک ٹاک کو 745  اعشاریہ 90 ملین مرتبہ انسٹال کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے اختتام تک ٹک ٹاک پر خرچ کی جانے والی رقم 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اور یہ واحد نان فیس بک اور نان گیمنگ ایپ ہے جس پر خرچ کی جانے والی رقم 3 ارب 80 کروڑ ڈالر پر پہنچ جائے گی ۔

واضح رہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں پابندیوں کے باوجود تک ٹاک رواں سال جولائی میں 3 ارب ڈاؤن لوڈ رکھنے والی پہلی نان فییس بک اور نان گیمنگ ایپلی کیشن بن چکی ہے۔ جب کہ فیس بک 500 اعشاریہ 90 ملین انسٹال کے ساتھ ابھی تک گوگل پلے اسٹور پر سرفہرست ہے۔

Square Adsence 300X250