فریدہ عثمان: عرب کی خواتین ایتھیلیٹس کے لئے مشعل راہ

Web Desk

08th Dec, 2021. 11:12 pm

مصر سے تعلق رکھنے والی خاتون تیراک عرب دنیا کی خواتین ایتھیلیٹس کے لئے مشعل راہ بن چکی ہیں۔

 26 سالہ فریدہ عثمان تیراکی کے بین الاقوامی مقابلوں میں بطور ایمبیسیڈر بھی منتخب ہو چکی ہیں ، مگر اس کے علاوہ انہوں نے اپنی پہچان ایک بہترین تیراک کے طور پر بھی کرائی ہے۔

فریدہ عثمان کو افریقہ اور عرب کے خطے میں تیز ترین تیراک کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

خاتون تیراک فریدہ نے 16 سال کی عمر میں پین عرب گیمز 2011 میں حصہ لیا جہاں انہوں نے 7 گولڈ میڈلز حاصل کئے۔ اس کامیابی کے ٹھیک دس سال بعد مصر نے تسلیم کیا کہ خطے کی تیز ترین تیراک ہیں۔

فریدہ اپنے خطے کی واحد خاتون تیراک ہیں جنہوں نے فینا ورلڈ سوئمنگ چمپئین شپ میں حصہ لیا تھا، اور انہوں نے 2017 اور 2019 کے عالمی مقابلوں کی 50 میٹر بٹرفلائی مقابلے میں برونز میڈلز بھی حاصل کئے۔

3 اولمپک گیمز میں حصہ لینے والی فریدہ عثمان نے 50 میٹر فری اسٹائل اور 50 میٹر بٹرفلائی لانگ کورس میں افریقن ریکارڈ بھی اپنے کر رکھا ہے۔ جبکہ انہوں نے 50 میٹر فری اسٹائل اور 50 میٹر بٹرفلائی شارٹ کورس میں بھی افریقہ کی تیز ترین تیراک کا ریکارڈ اپنے نام کر رکھا ہے۔

فریدہ عثمان اگلے ہفتے فینا ورلڈ کپ سوئمنگ چمپئین شپ میں شرکت کے لئے دبئی پہنچ رہی ہیں۔ تیراکی کی یہ عالمی چمپئین شپ 16 سے 21 دسمبر تک دبئی کے اتحاد ایرینا میں منعقد کی جائے گی۔

Square Adsence 300X250