ایڈیشنل سیشن جج جہانگیرعلی نے فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل کمپلیکس میں وکلا کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے حق میں نعرے بازی کی گئی، پولیس بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو لے کر اڈیالہ جیل روانہ ہوگئی۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے 9 مئی کے مقدمات میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
اسلام آباد میں رہنما تحریکِ انصاف شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مقدامات میں ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیرعلی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
Advertisement9 مئی مقدمات میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا
مجسٹریٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #ShahMehmoodQureshi pic.twitter.com/a7eMm94N0C— BOL Network (@BOLNETWORK) December 28, 2023
شاہ محمودقریشی کا بیان
سماعت کے آغاز میں شاہ محمود قریشی نےڈیوٹی مجسٹریٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اسٹیٹ منٹ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں، سپریم کورٹ کے قائم مقام جسٹس سمیت تین جسٹس صاحبان نے مجھے ضمانت دی۔ مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا۔ میری رہائی کا روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا۔
شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ میں کیسے عوام کے لئے خطرہ ہوں؟ میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں، مجھے رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے تھری ایم پی او کا آرڈر پیش کرتے ہوئے کہا کہ چھبیس تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا، پھر واپس لے لیا گیا، مجھے غیرقانونی طورپررکھا گیا، میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی۔
’’مجھے مکے لاتیں ماریں‘‘
رہنما تحریکِ انصاف نے بیان میں کہا کہ میں پانچ بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں، ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے مجھے گالیاں دیں، میری چھاتی میں درد تھا تو کئی بار ایس پی کو کہا کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ پوچھا گیا کہ آپ کو کس اسپتال میں لےکرجائیں؟ مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گئے۔ ایک ٹیم آئی کے 9 مئی کے لئے بیان ریکارڈ کرنا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ لوگ مجھے9 مئی میں ملوث کرنا چاہتے ہیں، میں 9 مئی کو کراچی میں تھا بیگم کی سرجری ہوئی تھی، میں موقع پر موجود نہیں تھا مجھ سے بیان لینے پہنچ گئے، مجھے کل رات ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیااوررات بھرسونے نہیں دیا گیا۔
شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے
شاہ محمود قریشی روداد بتاتے ہوئےکمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے، بیان دیا کہ قرآن پاک پرحلف دیتا میں 9 مئی راولپنڈی ہی نہیں پنجاب میں بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد جج نے کمرہ عدالت میں شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑی کھلوا دی۔
سابق وزیرخارجہ نے بیان دیا کہ قرآن پاک پرحلف دیتا میں 9 مئی راولپنڈی ہی نہیں پنجاب میں بھی نہیں تھا۔
پراسیکیوٹر کے ریمانڈ کے لیے دلائل
پراسیکیوٹرنے ریمانڈ کے لئے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمہ میں 90 روز تک ریمانڈ ہوسکتا ہے، ہم نے ایف آئی اے اور پیمرا سے رپورٹ لی، سب میں شاہ محمود کے خلاف شواہد ملے، سوشل میڈیا پر بھی شواہد سامنے آئے، تمام تر ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا ہے۔ ریمانڈ میں ہم نے دیکھنا ہے کے تقریر کا کتنا اثر ہوا۔
پراسیکیوٹر نے دو جنوری تک شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ مانگتے ہوئے عدالت سے کہا کہ ہمارے پاس شاہ محمود کے حوالے سےبہت ٹھوس شواہد ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے عدالت سے کہا کہ میں نے پاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا، میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں۔ کیا یہ انصاف ہے؟
شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ مجھے قوانین کا مکمل طور پر ادراک ہے، میرے مؤکل کو آپ کے ہوتے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی۔ میرے مؤکل کے خلاف پراسیکیوشن کے خلاف صرف ایک ٹوئیٹ ہے۔
علی بخاری نے شاہ محمود کی ٹوئیٹ عدالت میں پڑھ کر سنا دی۔ ’’شاہ محمود قریشی نے کہا کے چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نکلیں یکجہتی کے لیے۔‘‘
جسمانی ریمانڈکی مخالفت
شاہ محمود قریشی کے وکلانے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مؤکل سے کچھ برآمد تو کرنا نہیں ہے۔
وکیل صفائی نے مؤقف پیش کیا کہ جو شاہ محمود قریشی نے ابھی بیان دیا،اس بیان کو عدالت لکھنے کی پابند ہے، جسمانی ریمانڈ کا مقصد اذیت دینا ہے۔ میرے مؤکل کا مقدمہ میں نام نہیں، سپلیمنٹری کیس میں سزا نہیں ہوتی، ڈسچارج کیا جاتا ہے، چالان پیش ہو گیا تو جسمانی ریمانڈ کیسے دیا جائے، پولیس کے چالان میں شاہ محمود کا نام نہیں، میرا مؤکل 10 اور 11 مئی اسلام آباد پہنچا۔
وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ 11 مئی کو میرے مؤکل کوتھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا، اس ایم پی او حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کردیا، سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا اس میں سپریم کورٹ نے ضمانت دے رکھی ہے۔
شاہ محمودقریشی کا مکالمہ
شاہ محمود قریشی نے جج سے ایک بار پھر مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میری تقریر کا حوالہ دیا مکمل بات نہیں کر رہے۔ میں نے کہا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ وڈیوعدالت منگوا لے، کہا پر امن احتجاج عوام کا حق ہے۔ یہ سب کیس گھڑا جا رہا ہے، سائفرمیں بیل ہوئی تو یہاں موجود ہوں۔
پراسیکیوٹرنے کہا کہ ہمیں تقاریرودیگر چیزوں کے فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ چاہیے جس پر شاہ محمودقریشی نے کہا کہ آپ کو تیس دن چاہییں کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 9 مئی مقدمات میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پرڈیوٹی مجسٹریٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
شاہ محمود قریشی کوبکتر بند گاڑی میں جوڈیشل کمپلیکس لایا گیا۔ جوڈیشل کمپلیکس کے اندرراولپنڈی پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹرتیمورملک اور صاحب زادی مہر بانو بھی راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھیں۔
مزید پڑھیں
Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News
Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News