Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

نیب نے ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت کر دی

Now Reading:

نیب نے ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت کر دی
نیب ترامیم کیس

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران نیب نے ترامیم کالعدم قراردینے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت کر دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حکم نامہ لکھوانا شروع کردیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ نیب سے پوچھا گیا کہ اپیلوں کی مخالفت کررہے ہیں یا حمایت؟ پنجاب، سندھ، بلوچستان حکومتوں کی جانب سے بھی وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت ہوئی۔

حکمنامہ میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیلوں کی مخالفت کی، اٹارنی جنرل نے بھی وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت کر دی،  اپیل کندگان کیمطابق بانی پی ٹی آئی نیک نیتی سے عدالت نہیں آئے، اپیل کنندہ کیمطابق کوئی ترمیم بانی پی ٹی آئی یا عوام کیخلاف نہیں تھی۔

حکمنامے کے مطابق اپیل کنندہ کیمطابق نیب ترامیم کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تھا، اپیل کنندہ کیمطابق سپریم کورٹ کو کو ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا، اپیل کنندہ کیمطابق نیب ترامیم کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تھا۔

سپریم کے حکم نامے میں کہا گیا کہ اپیل کنندہ کیمطابق سپریم کورٹ کو کو ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا، اپیل کنندہ کیمطابق ترامیم سے صرف ٹرائل کا فورم بدلا گیا۔

Advertisement

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سماعت 16 مئی دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جتنی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نیب کی وجہ سے ہوئی وہ بدقسمتی ہے، اس عدالت نے قانون وضع کیا تھا جس کے بعد نیب ملزمان کو ضمانت دینا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 1999 سے نیب کے کنڈکٹ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

سماعت کے دوران نیب نے ترامیم کالعدم قراردینے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیلوں کی حمایت کر دی جس کے بعد سپریم کورٹ نے سینئر وکیل خواجہ حارث کو بھی نوٹس جاری کردیا، کہا کہ خواجہ حارث بانی تحریک انصاف کی نمائندگی کرینگے۔ خواجہ حارث کی تعیناتی کا یہ مطلب نہیں کہ بانی پی ٹی آئی عدالت میں دلائل نہیں دے سکیں گے۔

عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث فیس لینا چاہتے ہیں تو عدالت اس حوالے سے مناسب احکامات جاری کرے گی۔

جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایسی کون سی خلاف آئین ترامیم تھیں جنہیں چیلنج کیا گیا؟ کیا نیب ملک میں کسی کو جوابدہ بھی ہے؟

Advertisement

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کرپشن ایک مسئلہ ہے مگر نیب مکمل ناکام ہو چکا، نیب مسلسل سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہوا، اب اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ جو کچھ غلط ہوا اسے ٹھیک کرنے کیلئے کیا ترامیم کافی ہیں؟

انھوں نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کے وضع کیے قانون کے تحت کئی لوگ جیل میں رہے، کئی سال جیل میں رہ کر بعد میں بری ہوجانے والا کیا نیب پر مقدمہ کر سکتا ہے؟

جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وہ سوچتا ہے بس جان چھوٹ گئی اب اس میں کیا پڑنا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نیب سے اخراجات اور ریکوری کی تفصیلات طلب کر لیں۔

عدالت نے کہا کہ ساتھ یہ بھی بتائیں دس سال میں کتنے سیاستدانوں کو گرفتارکیا؟ ساتھ یہ بھی بتا دیں وہ کس پارٹی میں ہوتے تھے بعد میں کس میں گئے، یہ بھی بتایئے گا جن کی عبوری ضمانت کی مخالفت آپ کرتے رہے بعد میں خود کیسے کہا ان کیخلاف کیس ہی نہیں بنتا، کیا اس پر کسی کا محاسبہ نہیں ہونا چاہیے؟

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو بانی پی ٹی آئی کیلئے ویڈیو لنک انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
امیر جماعت اسلامی کا اتوار کو ملک گیر مظاہروں کا اعلان
6 جولائی کوسیاسی جماعت کی باضابطہ لانچنگ کر دیں گے، شاہد خاقان عباسی
وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف عزم استحکام آپریشن لانچ کرنے کی منظوری دے دی
ثنااللہ مستی خیل کے الفاظ کو کسی صورت سپورٹ نہیں کر سکتی، زرتاج گل
ثنااللہ مستی خیل پر بجٹ سیشن کے دوران ایوان میں داخلے پر پابندی عائد
ہم نے اپنے اداروں کو مستحکم کرنے کے بجائے غیرضروری بھرتیاں کیں، مرتضٰی وہاب
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر