Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

Now Reading:

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی
مخصوص نشستوں سے متعلق سماعت

مخصوص نشستوں کا کیس: پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔ 

وفقے کے بعد سماعت دوربارہ شروع ہوئی تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل الیکشن کمیشن سکندربشیرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ  آپ وہ بات کریں جوالیکشن کمیشن نے کی، اپنی رائےنہ دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدواروں کے پاس اورکیا آپشن تھا؟

وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ چیف جسٹس کہہ چکےجوکیس یہاں نہیں اس پرنہیں جاؤں گا، اس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ  آپ آئینی ادارہ ہیں آپ کیوں ایسے کررہے ہیں؟ وکیل سکندربشیرنے جواب دیا کہ میں نے کوئی پریس کانفرنس نہیں دیکھی تھی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے ضابطگی کی ذمہ داری لینے کیلئے تیارنہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ سنی اتحاد کونسل نے کبھی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل نےمخصوص نشستوں سےمتعلق کوئی لسٹ نہیں دی۔

یہ بھی پڑھیں؛ وقفے سے قبل سماعت کا احوال 

Advertisement

وکیل سکندربشیرنے بتایا کہ مجموعی طورپر13لسٹیں بنتی ہیں، سنی اتحادکونسل نے ایک بھی نہیں دی۔ اگربینچ میرے منہ سے کچھ کہلواناچاہتاہے تونہیں کہوں گا، اس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ یہ مناسب طریقہ کارنہیں ہے۔

وکیل سکندربشیرنے کہا کہ جوجماعتیں نشستیں لینےکی اہل تھیں ان کوہی ملیں، الیکشن رولزکے تحت پولیٹیکل پارٹی کوسرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوتا ہے۔ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ لگتا ہے الیکشن کمیشن نےغلطیوں پرغلطیاں کیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ بولے کہ ہم نے کل الیکشن کمیشن سے دستاویزات جمع کرانے کا کہا تھا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ خط میں لکھا گیا سنی اتحاد کونسل اتحادی پی ٹی آئی ہے، الیکشن کمیشن تمام لسٹیں جمع کرتا ہے،  سنی اتحاد کونسل نے صرف خطوط لکھے۔

اردو میں دستاویزپڑھنےکیلئے وکیل سکندربشیرنےڈی جی لاسےمعاونت لی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پوچھا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں اتحاد کے قوانین ہیں؟ وکیل سکندربشیرنے جواب دیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت مختلف سیاسی جماعتیں اتحاد کرسکتی ہیں۔ حامد رضا نے لکھا بلا نہیں توشٹل کاک کا نشان دیا جائے۔

عدالت نے استفسارکیا کہ آپ نےپوچھا نہیں سنی اتحاد سے ہیں لیکن پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ دے رہےہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ  حامدرضا توخود چیئرمین سنی اتحاد کونسل ہیں۔

Advertisement

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوارتھے لیکن انہیں بلے کا نشان نہیں ملا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انٹراپارٹی الیکشن نہ کرانے پرتھا، جمہوریت کی بات کرنی ہےلیکن انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرانا، ہمارا کام نہیں کہ کون کس کومنتخب کرتا ہے، اب توشاید الیکشن کمیشن کے دشمن ہوگئےہیں، کیوں اپنی جماعت میں انٹرپارٹی الیکشن نہیں کراتے، سپریم کورٹ میں بھی پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ کےتحت جمہوریت لےآئے، بلےکےنشان پرنہیں، سپریم کورٹ نے انٹراپارٹی الیکشن پرفیصلہ دیا تھا، انٹراپارٹی الیکشن اوربلے کے نشان کا فیصلہ کہنےمیں فرق ہے، ایک طرف ریویو کر رہے ہیں اوردوسری طرف تبصرہ کررہےہیں، کسی اوربینچ کا فیصلے پرریمارکس دینا درست نہیں، آگے چلیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پرسوال نہیں اٹھا رہا۔ الیکشن کمیشن نےبتایا بلا نہیں ہوگا تو امیدوار انتخابات کیسے لڑیں گے؟

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، وزیراعظم
وزیراعظم سے وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات
وفاقی حکومت کا سیاحت کے فروغ کے لئے بڑا فیصلہ
مبارک ہو؛ ذاتی پسند، بچپن کی محبت اور کرش جیت گیا، عظمیٰ بخاری
جمیعت علمائے اسلام سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی طور پر تسلیم کرتی ہے، مولانا فضل الرحمان
مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، امیر جماعت اسلامی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر