Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18کھرب87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا گیا

Now Reading:

آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18کھرب87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا گیا
بجٹ مالی سال 25-2024

آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18کھرب87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا گیا

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی حکومت کا آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18 کھرب 87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا۔ 

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ایوان زیریں کے بجٹ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔ وزیراعظم شہبازشریف بھی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ایوان میں پہنچےاوراسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریرکرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود ہماری کوششیں کامیاب رہیں۔ سرمایہ کار متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔ اسلام آباد کے بعد کراچی، لاہورایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل، چمڑے کی برانڈڈ مصنوعات پرسیلزٹیکس 15 سے بڑھا کر18 فیصد اورالیکٹرانک بائیکس کے لئے 4 ارب، انورٹرپنکھوں کےلئے 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔

کم ازکم تنخواہ 36 ہزار روپے کرنے کی تجویز

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کم ازکم ماہانہ اجرت 32 ہزارسے بڑھا کر36 ہزارکردی، پنشن میں اصلاحات، نئے ملازمین کیلئے کنٹری بیوٹری اسکیم ہوگی، پی آئی اے کو نجی شعبے میں لارہےہیں، نجکاری کو ترجیح بنایا ہے، حکومتوں کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے،  ایف بی آرلوگوں کوٹیکس نیٹ میں لانے کے مزیداقدامات کرے گا، کوشش ہے ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

Advertisement

وزیرخزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں کثیرالجہتی اقدامات پہلے سے جاری ہیں، پیداواری لاگت کو کم کرنے کے اقدامات کریں گے، ماضی میں ریاست پرغیرضروری ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا گیا، ماضی میں حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہو گئے تھے، حکومتی آمدن کوبڑھائی گے، اخراجات کوکم کریں گے۔ پمزمیں قائداعظم ہیلتھ ٹاورمنصوبہ شروع کریں گے،قائداعظم ہیلتھ ٹاور پمز منصوبے کے لیے خطیررقم رکھی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک بحرانی صورتحال سے نکل چکا ہے، نجی شعبے کو معیشت کو مرکزی اہمیت دینے کا وقت ہے، معیشت بہترہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیرانتہائی مشکلات پیدا کرسکتی تھی، سیاسی، معاشی چیلنجزکے باوجود ہماری پیشرفت متاثرکن رہی، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی وجہ سےغیریقینی کیفیت تھی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی بحالی کی کوششیں بارآورہورہی ہیں، یہ وقت پرائیویٹ سیکٹر کو معیشت کا حصہ بنانے کا ہے، یہ اصلاحات کا وقت ہے، پاکستان جلد پائیدار گروتھ کی راہ پر لوٹ آئے گا، ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے، ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے، اسٹیٹ بینک کاشرح سودمیں کمی کااعلان مہنگائی میں کمی کاثبوت ہے۔ شہبازشریف نے گزشتہ سال آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا۔

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹینڈ بائی معاہدے کی صورت میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا، سرمایہ کارمتعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں، آئی ایم ایف معاہدے  سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی، مشکلات کے باوجود ہماری کوششیں کامیاب رہیں، معاشی چیلنجز کے باوجود ہماری کوششیں متاثرکن رہیں، اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ میں ہیں۔ مہنگائی کم ہوکر12 فیصد پرآگئی، آئندہ مالی سال میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

کسان پیکج میں 5 ارب روپے رکھنےکی تجویز

وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ کسان پیکج میں 5 ارب روپے رکھنےکی تجویز دی ہے، توانائی شعبے کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 253 ارب روپے کی خطیررقم رکھی گئی ہے، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کیلئے 253 میں سے 65 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جامشوروکول پاور پلانٹ کیلئے 1200 میگاواٹ کیلئے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں، این ٹی ڈی سی کےسسٹم میں بہتری کیلئے11ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دفاع کےلئے2ہزار122ارب روپےمختص کئےگئےہیں۔ آزادکشمیر،گلگت بلتستان کےلئے75ارب روپےمختص کیے گئے۔

Advertisement

آبی وسائل کیلئے206 ارب روپے مختص

محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریرمیں کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاورپروجیکٹ کیلئے 45 ارب روپے رکھے گئے ہیں، دیامربھاشا ڈیم کیلئے 40 ارب رکھے گئے ہیں، چشمہ رائٹ بینک کینال کیلئے 18 ارب رکھے گئے ہیں، بلوچستان میں پٹ فیڈرکینال کیلئے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں، آئی ٹی سیکٹرکی ترقی کیلئے 79 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ یکم جولائی سے فائلرزکے لیے کیپٹل گین ٹیکس 15 فیصد ہوگا، نان فائلرزکےلیے مختلف سلیب کے تحت کیپٹل گین ٹیکس کی شرح 45 فیصد، فائلر، نان فائلر، تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے پر 3 مختلف ریٹس ہوں گے، ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے 206 ارب روپےمختص کیے گئے ہیں، اگلےمالی سال پرائمری خسارہ2ہزار292 ارب روپے رہنے کاتخمینہ ہے، اگلے مالی سال کےلیے پرائمری خسارہ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔

درآمدی گاڑیوں پرٹیکسزاورڈیوٹیزبڑھانے کا فیصلہ

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریرمیں کہا کہ مجموعی مالی خسارہ جی ڈی پی کا منفی 6.5 سے بڑھ کر7.4 فیصد کا امکان ہے، رواں مالی سال مجموعی مالیاتی خسارہ 7 ہزار839 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔ 50 ہزارڈالرمالیت کی درآمدی گاڑیوں پرٹیکسزاورڈیوٹیزبڑھانے اورشیشے کی درآمدی مصنوعات پردرآمدی ڈیوٹی کوختم کرنےکافیصلہ کیا گیا۔ اگلے مالی سال کےلیے مالی خسارہ منفی5.9 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، سیمنٹ پرفیڈرل ایکسائزڈیوٹی 2 روپے سے بڑھا کر 3 روپے کلوکردی گئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیلزٹیکس کی چھوٹ، رعایتی شرح اوراستثنیٰ ختم کرنے، درآمدی لگژری گاڑیوں کی درآمدپرٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، موبائلزفونرکی مختلف کیٹیگریزپر18 فیصد سیلزٹیکس لگے گا۔ اسٹیل اورکاغذ کی مصنوعات کی درآمد پرڈیوٹیزکی شرح بڑھانے اورتانبے، کوئلہ، کاغذ، پلاسٹک کے اسکریپ پرودہولڈنگ ٹیکس لگانے اورمتعدد اشیا پرسیلزٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Advertisement

بجٹ خسارہ 7 ہزار283 ارب روپے رہنے کا تخمینہ

وفاقی وزیرخزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں کہا کہ کسان پیکیج میں 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپربجٹ خسارہ 7 ہزار283 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ رواں مالی سال صوبائی سرپلس600 ارب سے کم کرکے 539 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی سرپلس 1ہزار217 ارب روپے رکھنےکا ہدف ہے، رواں مالی سال بجٹ خسارہ 8 ہزار388 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ اگلے سال بجٹ خسارہ 8ہزار500ارب روپے رہنےکا تخمینہ ہے۔

وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 274 ارب روپے قرض ہوگا، سبسڈی کی مد میں 1 ہزار363 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سول حکومت کے لیے 839 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے 313 ارب روپے اوروفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے1400 ارب روپے مختص کیے گئے، صوبوں کو گرانٹس کی صورت میں 1 ہزار777ارب روپےمنتقل ہوں گے۔ زراعت، لائیو اسٹاک قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہیں، توانائی کا شعبہ گردشی قرضوں کے مسئلےسے دوچار ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے تحت اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں، گریڈ 1 سے 16 کےسرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، پنشن میں اصلاحات، نئے ملازمین کیلئےکنٹری بیوٹری اسکیم ہوگی، پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی۔

اسلام آباد کے بعد کراچی، لاہورایئرپورٹس کوآؤٹ سورس کیا جائے گا

وفاقی وزیرخزانہ نے بجٹ تقریرمیں کہا کہ بی آئی ایس پی کی رقم 597 ارب روپے تک لیکر جائیں گے، بی آئی ایس پی کے لیے رقم میں 27 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، اسلام آباد کے بعد کراچی، لاہورایئرپورٹس کوآؤٹ سورس کیا جائے گا، پی آئی اے کو نجی شعبے میں لا رہے ہیں، نجکاری کو ترجیح بنایا ہے، حکومتوں کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے، ایف بی آرلوگوں کوٹیکس نیٹ میں لانے کے مزید اقدامات کرے گا، کوشش ہے ٹیکس نیٹ میں موجودلوگوں پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، ایف بی آرمیں کثیرالجہتی اقدامات پہلے سے جاری ہیں، پیداواری لاگت کو کم کرنے کے اقدامات کریں گے، ماضی میں ریاست پرغیرضروری ذمہ داریوں کابوجھ ڈالا گیا۔

Advertisement

وزیرخزانہ نے کہا کہ ماضی میں حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہو گئے تھے، حکومتی آمدن کوبڑھائی گے، اخراجات کوکم کریں گے، ملک بحرانی صورتحال سے نکل چکا ہے، نجی شعبے کو معیشت کو مرکزی اہمیت دینے کا وقت ہے، معیشت بہترہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہورہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیرانتہائی مشکلات پیدا کرسکتی تھی۔ سیاسی، معاشی چیلنجزکے باوجود ہماری پیشرفت متاثرکن رہی، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی وجہ سےغیریقینی کیفیت تھی، حکومت کی معاشی بحالی کی کوششیں بارآورہورہی ہیں۔

غیرتنخواہ دارافراد پر زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 45 فیصد عائد

محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ وقت پرائیویٹ سیکٹر کو معیشت کا حصہ بنانے کا ہے، یہ اصلاحات کا وقت ہے، پاکستان جلد پائیدار گروتھ کی راہ پر لوٹ آئے گا، ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے، ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے، اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں کمی کااعلان مہنگائی میں کمی کاثبوت ہے۔ انفرااسٹرکچرکے لئے 824 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ ہے، پلاننگ اورہاؤسنگ کے لئے 86 ارب روپے مختص کئےہیں، سماجی شعبے کے لئے 280 ارب روپے رکھےہیں، پیداواربشمول زراعت کےلئے50ارب روپے رکھے ہیں۔ غیرتنخواہ دارافراد پر زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 45 فیصد کردی، تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس چھوٹ کی سالانہ حد6لاکھ روپے برقرارہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ تقریرکے دوران ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شورشرابا اورشدید نعرے بازی کی گئی۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
جب تک بجلی سستی نہیں ہوگی ڈیمانڈ نہیں بڑھے گی، چیئرمین اپٹما
آئی پی پیز کا دھندہ مزید نہیں چلے گا، عوام ظالموں سے اپنا حق چھین کر لیں گے، حافظ نعیم
آئی بی اے ٹیسٹ کے امیدواروں کا پریس کلب پر احتجاج
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب؛ 6 نکاتی ایجنڈے پر غور ہوگا
سابق وزیر گوہر اعجاز نے بجلی معاہدوں کو عوام دشمن قرار دے دیا
سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے عناصر کو ڈیجیٹل دہشتگرد قرار دینے کا فیصلہ
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر