Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

مکمل انصاف والی بات پر پھر سنی اتحاد کونسل زیرو سیٹ والی پارٹی رہ جائے گی، چیف جسٹس

Now Reading:

مکمل انصاف والی بات پر پھر سنی اتحاد کونسل زیرو سیٹ والی پارٹی رہ جائے گی، چیف جسٹس
چیف جسٹس

مکمل انصاف والی بات پر پھر سنی اتحاد کونسل زیرو سیٹ والی پارٹی رہ جائے گی، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے دلائل

سماعت کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آئین کی پروگریسو تشریح کرنی ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اسی نوعیت کی تشریح کر چکے ہیں، فیصلے میں کہا گیا کہ آئین درخت کی طرح ایک زندہ دستاویز ہے۔

وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں، مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے۔

Advertisement

فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل سنی اتحاد کو اپنی تشریح سے روک دیا

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور آپ کی تشریح کے پابند نہیں، عدالت آئین میں درج الفاظ کی پابند ہے، ممکن ہے الیکشن کمیشن کی تشریح سے عدالت متفق ہو نہ آپ کی تشریح سے۔

وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ الیکشن میں حصہ نہ لینے والی جماعت کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں یا نہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں عدالت آئین میں درج الفاظ کے مطلب پر تشریح نہ کرے۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے صرف مطلب کو نہیں بلکہ آئین کی شقوں کے مقصد کو بھی دیکھنا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مخصوص نشستیں ایسی جماعت کو کیسے دی جا سکتی ہیں جنہوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

مخصوص نشستوں کا انتخابی نشان نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس اطہر من اللہ

Advertisement

جسٹس امین الدین خان نے سوال کیا کہ کیا آزاد ارکان نئی سیاسی جماعت قائم کر سکتے ہیں؟ سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے جواب دیا کہ آزاد ارکان اگر تین دن میں سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتے ہیں تو ضرور اس میں شامل ہوسکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں سیاسی جماعت کیلئے انتخابات میں نشست حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا انتخابی نشان نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں، الیکشن کمیشن تسلیم کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل دونوں رجسٹرڈ جماعتیں ہیں۔

کیا آزاد ارکان نے پی ٹی آئی میں جاکر سیاسی خودکشی نہیں کی؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی رجسٹرڈ جماعت ہے تو آزاد ارکان اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ کیا آزاد ارکان نے پی ٹی آئی جوائن نہ کرکے سیاسی خودکشی نہیں کی؟

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن اپنی طرف سے کوئی نئی کیٹیگری قائم کر سکتا ہے یا آئین و قانون کا پابند ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے، کچھ لوگوں نے تو پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹ جمع کرائے تھے۔

Advertisement

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ پارٹی جس کو ٹکٹ دیتی ہے وہی اس کا نمائندہ ہوتا ہے، امیدوار کو جاری پارٹی ٹکٹ کوئی تیسرا فریق کیسے واپس لے سکتا ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ تمام نکات عدالتوں کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔

آپ لوگوں نے خود ہی اپنا کیس خراب کر دیا، چیف جسٹس

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ پی ٹی آئی کے وکیل نہیں سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آزاد امیدوار پہلے نظریاتی میں شامل ہوئے پھر سنی اتحاد میں، آپ لوگوں نے خود ہی اپنا کیس خراب کر دیا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ ہمارے ارکان سے انتخابی نشان ہی واپس لے لیا گیا تھا۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان گھوڑا ہے، چیف جسٹس پوچھا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا نشان واپس لیا گیا؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے سوال سے کیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے آبزرویشن دی تھی کہ کیا تمام نشستیں 20فیصد پارٹی امیدواروں کو دی جا سکتی ہیں؟ چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بالکل دی جا سکتی ہیں کیونکہ آئین یہ کہتا ہے، ہم نے آئین پر حلف اٹھایا ہے گڈگورننس اور سیاسی معاملات کا نہیں۔

Advertisement

آئندہ کوئی بڑی سیاسی جماعت انتخابات سے قبل نشان سے محروم نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ توقع رکھنی چاہیے آئندہ کوئی بڑی سیاسی جماعت انتخابات سے قبل نشان سے محروم نہیں ہوگی۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کو ڈکشنری کا قلعہ نہیں بننا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کے مطابق نہ چلنے پر ہی ملک کا حشر کر دیا گیا ہے، آپ غیرملکی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں وہاں کے آئین صدیوں پرانے ہیں، جب الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال کہ خود کو آئین سازوں سے زیادہ عقلمند سمجھیں، مشکل سے آئین پٹری پر آتا ہے پھر کوئی آ کر اتار دیتا ہے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پاکستان کا آئین پہلے ہی پروگریسوہے اس میں مزید کیا ترقی پسند ڈالنا ہے؟ امریکہ آئین میں خواتین کے حقوق نہیں تھے اور غلامی بھی جائز ہوتی تھی۔

جس کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی وہ عدالت کیوں نہیں آئے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ 2018 میں بھی ہوا تھا، پریس کانفرنس کرنے والا بچ جاتا ہے باقی کو اٹھا لیا جاتا ہے، یہ وہ حقائق ہیں جو سب کو معلوم ہیں، کیا عدالت کو اس سب پر آنکھیں بند کر لینی چاہیے؟

Advertisement

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جس کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی وہ عدالت کیوں نہیں آئے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ وقت بھول گئے جب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا اور الیکشن نہیں ہو رہے تھے، پی ٹی آئی کے صدر الیکشن کی تاریخ کیوں نہیں دے رہے تھے؟ لاہور ہائی کورٹ سے پی ٹی آئی نے الیکشن رکوانے کی کوشش کی تھی، الیکشن کمیشن منتیں کر رہا تھا کہ پارٹی انتخابات کروا لیں، اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے۔

بلے کے نشان کا فیصلہ ہوچکا ہے، چیف جسٹس

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلے کے نشان والا معاملہ زیرالتوا ہے اس پر بات نہیں کرنا چاہتا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بلے کے نشان کا فیصلہ ہوچکا ہے، وکیل نے بتایا کہ بلے کے نشان والے فیصلے پر نظرثانی دائر کی گئی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے تو کسی نظرثانی کا معلوم ہی نہیں۔

حامد خان نے چیف جسٹس کو بتایا کہ پانچ ماہ سے نظرثانی درخواست مقرر نہیں ہوئی، جس پر انہوں نے کہا کہ آپ نے کبھی ہمیں یاد کیوں نہیں کرایا؟

کیا پی ٹی آئی ووٹرز کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی؟ جسٹس علی مظہر

Advertisement

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے یہ امیدوار پی ٹی آئی کے ہیں، اگر الیکشن کے بعد بھی وہ پی ٹی آئی کے رکن ہیں تو دوبارہ شمولیت کی ضرورت کیوں ہیں؟ آئین کا دیباچہ بڑا واضح ہے، آزاد اراکین کسی بھی وقت کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں، اگر تین دنوں کے اندر شمولیت اختیار کی جاتی ہے تو متناسب نمائندگی کے تحت مخصوص نشستیں ملیں گی۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ووٹ پی ٹی آئی کو ملا تھا، لوگ سنی اتحاد میں شامل ہوگئے، کیا یہ پی ٹی آئی ووٹرز کیساتھ زیادتی نہیں ہے؟ کبھی آپ کہتے ہیں یہ لوگ سنی اتحاد کے ہیں کبھی کہتے ہیں پی ٹی آئی کے ہیں، اس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اپنے دلائل مکمل کر لوں پھر پی ٹی آئی کے معاملے پر بات کروں گا۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت تمام سیٹیں ہار جائے تو کیا آزاد کی شمولیت پر اسے مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ مخصوص نشستیں جیتی گئی اور شامل ہونے والوں کی بنیاد پر ملتی ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آزاد امیدوار ایسی جماعت میں شامل ہوجائے جسے اسکے ووٹرز پسند نہ کرتے ہوں تو کیا ہوگا؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں اقلیتی حکومت کو دیکر آئین میں ترمیم کا موقع دیا گیا ہے۔

آپ نے سیاسی گفتگو کرنی ہے تو کہیں اور جاکر کریں، چیف جسٹس

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے سیاسی گفتگو کرنی ہے تو کہیں اور جا کر کریں، اگر کل پی ٹی آئی کہے یہ ارکان ہمارے ہیں تو عدالت سنی اتحاد اور پی ٹی آئی میں ٹاس کرے گی؟

Advertisement

سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے نامزدگیاں انتخابات سے پہلے ہونگی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں الیکشن لڑنے والا اسکروٹنی سمیت سخت پراسیس سے گزرے لیکن مخصوص والے نہیں۔

وکیل نے دلائل دیے کہ اسکروٹنی کب ہوگی یہ قانون میں کہیں نہیں لکھا، جنرل نشست لڑنے والے بھی مخصوص نشست کیلئے اپلائی کر سکتے ہیں، مخصوص نشستوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن شیڈیول جاری کرتا ہے، جماعتوں میں آزاد ارکان کی شمولت کے بعد ترمیم شدہ شیڈیول بھی جاری ہوسکتا ہے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل کا اکبر آلہ آبادی کے شعر کا حوالہ

دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے اکبر آلہ آبادی کے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کریں تو چرچہ نہیں ہوتا۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کیلئے فہرست جمع کرائی تھی؟ جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرست جمع کرائی تھی لیکن انکے امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر تمام ارکان کو پی ٹی آئی کا رکن مان لیا گیا تو سنی اتحاد کونسل کا کیا ہوگا؟ وکیل نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کو ارکان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے مسئلہ نہیں ہوگا۔

Advertisement

چیف جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہی تو آپ کے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ نے یہ بات کرکے اپنے تمام دلائل پر پانی پھیر دیا ہے۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا گیا۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے دو یا ترمیم شدہ شیڈول جاری ہونا غیرمعمولی نہیں ہوگا، مخصوص نشستیں فہرست سے زیادہ ملیں تو دوبارہ بھی نام مانگے جاتے ہیں۔

جب فہرست ہی جمع نہیں کرائی تو نئی فہرست کا سوال کہاں سے آ گیا؟ چیف جسٹس

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے شیڈول کے مطابق کوئی فہرست جمع کرائی تھی؟ وکیل نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کرائی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب فہرست ہی جمع نہیں کرائی تو نئی فہرست کا سوال کہاں سے آ گیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس نیا شیڈول جاری کرنے یا ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

Advertisement

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیاکہ اگر سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہ ہوتی تو متناسب نمائندگی کے اصول کا کیا ہوتا؟ کیا مخصوص نشستیں خالی رکھی جاتیں؟ وکیل نے کہا کہ میرا یہ بھی موقف ہے کہ کسی نشست کو خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ جو نشستیں حاصل کی جائیں انہی کی بنیاد پر مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں، کوٹے سے زیادہ نشستیں ملنا کسی طور متناسب نمائندگی نہیں ہوگی۔

وقت آ گیا ہے ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے، چیف جسٹس

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

Advertisement

کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل

کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی کی مخصوص نشست پر نامزد امیدوار تھیں، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کنول شوزب کو امیدوار ہی تسلیم نہیں کیا گیا تھا تو ان کا اس کیس سے کیا تعلق ہے؟ وکیل نے بتایا کہ کنول شوزب عدالتی فیصلے سے متاثرہ ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کنول شوزب کو قانونی دادرسی کیلئے الگ کیس کرنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، جس پر چیف جسٹس نے وکیل سے پوچھا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا۔

انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں، جسٹس اطہر من اللہ

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کنول شوز سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے۔

Advertisement

جسٹس عائشہ ملک نے مکالمہ کیا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے، عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں۔

رجسٹرار آفس اور سپریم کورٹ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس

سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ لاہور ہائی کورٹ میں خود کو پی ٹی آئی امیدوار قرار دینے کیلئے رجوع کیا، ہائی کورٹ نے کہا انتخابات قریب ہیں مداخلت نہیں کر سکتے، الیکشن کمشین نے دو فروری کا حکم سات فروری کو جاری کیا، سپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اپیل کی واپسی تسلیم کر لی تو بات ختم، اگر رجسٹرار آفس کے کسی اقدام پر اعتراض تھا تو چیلنج کر دیتے، رجسٹرار آفس اور سپریم کورٹ میں فرق ہوتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر کنول شوزب کی درخواست منظور ہوجائے تو بھی انہیں کیا ملے گا؟ وکیل  سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ آپ سیاسی جماعت نہیں ہیں، یہ بھی بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے کیلئے ریفرنس بھی دائر ہوگا، ایسی جماعت میں نہیں جانا چاہتے تھے جو کالعدم ہوجائے۔

Advertisement

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ آپ کا دل پی ٹی آئی میں ہے بحث سنی اتحاد کونسل کی کر رہے ہیں، یہ تضاد ہمیں نظر آرہا ہے، آپ پی ٹی آئی کی بطور جماعت الیکشن میں شمولیت پر بحث کرتےتو ہم سنتے۔

مجبوریوں پر ملک نہیں چلے گا، چیف جسٹس

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا۔

چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کو آئین کی کتاب دکھا دی

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ آئین عوام کے منتخب نمائندوں نے بنایا ہے، آئین جو واضح ہے اس پر عمل کریں یہ سیدھا سادہ آئین ہے، آپ بار بار عوامی منشا کی بات کر رہے ہیں پھر تو سب کا سیدھا سب نشستوں پر الیکشن ہونا چاہیے۔

Advertisement

جسٹس یحیی’ آفریدی نے کہا کہ عوامی منشا کی ہی بات کریں لوگوں نے ووٹ پی ٹی آئی کو دیا تھا، کیا ووٹرز کو پتہ تھا آپ سنی اتحاد کونسل میں جائیں گے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے مکالمہ کیا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب سچ بول دیں، مجھے نہیں سمجھ ہر کوئی سچ کو دبانا کیوں چاہتا ہے؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کریں، پھر سارا امیدوار کو کیسے دیا جا سکتا ہے وہ کسی بھی جماعت میں جائے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ ہم سے ایسی چیز پر مہر لگوانا چاہتے ہیں جو مستقبل میں سیاسی انجینئرنگ کا راستہ کھولے؟ یا تو آپ پوری طرح سے سچ بول دیں، فاطمہ جناح کے الیکشن سے اب تک کیا ہوا۔

آپ کا کیس اچھا ہوتا اگر آپ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی جوائن کرتے، چیف جسٹس

وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں جماعت ماننے سے انکار کیا ہم سپریم کورٹ تک گئے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لوز بال نہ کھیلیں، آپ سپریم کورٹ نہیں آئے، رجسٹرار آفس کا اعتراض جوڈیشل آرڈر نہیں۔

Advertisement

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا حالات تھے کہ آپ نے رجسٹرار اعتراضات کیخلاف اپیل دائر نہیں کی، آپ آج بھی وہ اپیل دائر نہیں کر رہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ خود غلط تشریح کرتے رہے ہیں تو ہم کیا کریں؟ میرے حساب سے آپ کا کیس اچھا ہوتا اگر آپ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی جوائن کرتے، کل سنی اتحاد کونسل کو کنٹرول کرنے والوں کا موڈ بدلا تو آپ کہیں کے نہیں رہیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس عدالت کے انتخابی نشان والے فیصلے کی غلط تشریح کی، غلط تشریح کرکے پی ٹی آئی کو بطورجماعت الیکشن نہیں لڑنے دیا،  اس غلط تشریح کی وجہ سے عوام کے حقوق کیوں متاثر ہوں؟ اس عدالت کو کہنا چاہیے وہ غلط تشریح تھی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ راجہ صاحب ہم مفروضوں پر نہیں جائیں گے، ہمارے سامنے جو کیس ہے اسی کا فیصلہ کرنا ہے، جو کیس بعد میں ہمارے پاس آنا ہے اس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2فروری 2024 کو الیکشن کمیشن نے اس عدالت کے فیصلے کی غلط تشریح کی، کیا اس عدالت کا اختیارنہیں کہ کہہ دے وہ تشریح غلط تھی؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا ہم اس معاملے پرمکمل انصاف کی طرف جا سکتے ہیں؟ سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ بالکل عدالت مکمل انصاف میں جا سکتی ہے، اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ اس طرف اب بھی نہیں جا رہے تھے۔

Advertisement

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ میں آپ کو یاد دلا دوں آپ نے ایک گھنٹہ مانگا تھا وہ ہو گیا، مکمل انصاف والی بات پر پھر سنی اتحاد کونسل زیرو سیٹ والی پارٹی رہ جائے گی۔

سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ وہ اس بات پر ناراض نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی طرف سے نہیں بول سکتے صرف کنول شوزب کے وکیل ہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ میں آئین کی طرف سے بول سکتا ہوں۔

جسٹس یحیی’ آفریدی نے کہا کہ میں آپ کو بطورمعاون بھی سننا چاہتا تھا مگر آپ نے الیکشن لڑ رکھا ہے۔ جسٹس منیب اختربولے کہ آپ کہہ رہے ہیں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنی چاہیں، فیصل صدیقی سے پوچھ لیتے ہیں کس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔

فیصل صدیقی نے سلمان اکرم راجہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کنول شوزب کو ایڈجسٹ کرے گی؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ایڈجسٹ کرنے سے کبھی انکاربھی نہیں کیا۔

مخصوص نشستوں کے کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کسی جماعت کو باہر نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے الیکشن نہیں لڑا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدوار کس جماعت میں شامل ہوئے وہ الگ بحث ہے۔

Advertisement

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں، ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے، بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے، ہرسیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا۔

 جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جب آپ آزاد امیدوارہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوگی۔ جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا اپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتی آذاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئیں سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہوت ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا، چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجائے تو کیا ہوگا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا، اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے؟ کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اورآزاد امیدوارخریدوں گا پھر؟

Advertisement

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے۔

سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوارنہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اگرآزاد امیدوارآزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں۔ اج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے۔

 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی۔ بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ سے ان سیٹوں کو روک دیا گیا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبرہوئے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طورپرغلط سمجھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ تین سیٹیں جیت کر بارہ سیٹیں اپکو مل جائیں۔

 چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ہر سیٹ ایک ووٹ سے ہار جائے، ایک ووٹ سے ہارنے کے بعد حاصل کردہ ووٹوں کی اہمیت نہیں رہے گی، ہمارا نظام قانون کی بنیاد پرہے۔

Advertisement

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگرالیکٹوریٹ کا مفاد دیکھنا ہے تو کیوں ایک سیاسی یا دوسری سیاسی جماعت۔ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ قانون میں سیاسی جماعت کیلئے تین الفاظ استعمال کیے گئے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ 51 ون ڈی، ای تناسب کی بات کرتے ہیں، قانون کے مطابق تناسب سے ہی خواتین اور نان مسلم کی سٹییں ہوں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں لکھے گئے ہرلفظ کی اہمیت ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ راجہ صاحب اپ عدالت کے سامنے دو مؤقف اپنا رہے ہیں۔ ایک مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھئی اگر انہوں نے غلط تشریح کرلی آپ نے تو نہیں کی، اپ تو غلط تشریح نہیں کرتے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم ووٹرکے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طورپرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا۔

سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا اپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں، صرف درخواست گزارکی بات ہو رہی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے۔ اس پرجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے۔

Advertisement

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسے کر رہے ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ جے یو آئی کو بھی جوائن کرسکتے تھے اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہوسکے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ یہ فیصلہ کرتے ہوئے ووٹرزکے ساتھ فئیر تھے؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ووٹرزہم سے راضی ہیں، دوسری جماعت میں ہمیں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد مجبورا جانا پڑا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہوا تھا عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کرسکتی ہے؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگرعدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے۔

چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ورکرز پارٹی کیس کے مطابق الیکشن کمیشن کا تقرر ہم نے نہیں کرنا، الیکشن کمیشن کا آپ نے تقررکیا۔ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ کبھی کبھی غلطیاں بھی کرتے ہیں۔ اس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تو پھرغلطی ہم نے تو نہیں کی۔

Advertisement

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عوام نے آپ کو چنا، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ مجھے تو نہیں چننے دیا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ بولے کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بتائیں عدالت کی کیا اپروچ ہونی چاہیے؟ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے ورکر پارٹی کیس کا حوالہ دیا گیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مطلب یہ ہے سلسلہ چلتا آرہا ہے، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ سلسلہ چلتا آرہا ہے آپ نے ٹھیک کرنا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نہیں ہم نے ٹھیک نہیں کرنا۔ کیا سیاسی جماعتیں بیٹھ کر یہ حل نہیں کریں گی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن میں غلطی دیکھتے ہیں تو درخواست لائیں یا پارلیمنٹ جائیں، پارلیمان یا الیکشن کمیشن کی بے توقیری قبول نہیں کروں گا۔ ایسا ہی رویہ میں اپنے لئے بھی توقع رکھتا ہوں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا الیکٹورل پراسس پرعوام کا اعتماد ہے، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میرا مؤقف ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے پر پابندی نہیں تھی، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ پھر یہ نکتہ خودکشی ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعت کی اہمیت پرکوئی اعتراض یا انکار نہیں۔ ایک سیاسی جماعت جس نے الیکشن لڑا اسکو ایک فائدہ دیا گیا۔ آزاد تو آزاد ہیں چاہے جس کو مرضی جوائن کریں۔

جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ کیا آزاد امیدواراب سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے بعد تحریک انصاف کے ممبرنہیں رہے، سلمان اکرم راجہ نےجواب دیا کہ بالکل اب وہ سنی اتحاد کونسل کے ممبر ہیں۔

Advertisement

جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے پوچھا کہ کیا اب انکا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں؟ ایسا کرنے پورا کیس بدل جائے گا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ کتنی سیاسی جماعتوں نے الیکشن لڑا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ اپنا مؤقف بدلتے جا رہے ہیں۔ کیا آپ اپنے ووٹرز کے ساتھ فئیرہیں؟ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو مس لیڈ نہیں کرسکتا۔ مس لیڈ کرنے کی وجہ سے سارا بحران پیدا ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بار بار آپ کو کہہ رہا ہوں اپ نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیوں کیا؟ تحریک انصاف کے امیدواران نے کاغذات نامزدگی میں کیا لکھا؟

فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ مجھے معلومات لینا ہوں گی۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بنیادی معلومات نہیں پتہ تو پھر ہمارے سامنے کیا کررہے ہیں؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تو آئین کی دھجیاں نہ اڑائیں، آپ متاثرہ جماعت نہیں اگر متاثرہ جماعت ہوتی تو سامنے آتی۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزارہیں، 86 درخواستگزار نہیں۔ ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟

Advertisement

سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں۔ اس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل ایم کیو ایم آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ سنی اتحاد ایکٹیو سیاسی جماعت تھی۔

عدالت نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اضافی مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے وکیل مخدوم علی خان اورالیکشن کمیشن کے وکیل سے بھی کل دلائل طلب کر لیے۔

جسٹس نعیم اخترافغان نے الیکشن کمیشن کو سنی اتحاد کونسل کی موجودہ حیثیت پربھی معاونت کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان نے دیگر فریقین وکلا کو ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ ہم تیسرا دن نہیں دیں گے، مختصر رکھیے گا، حامدرضا کے کاغذات نامزدگی کل ساتھ لے آئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
 بانی پی ٹی آئی کو سمجھنا چاہیے ساتھ بیٹھ کرہی حل نکلتےہیں، قمرزمان کائرہ
کوئٹہ کی بلند عمارتوں کے سروے کا فیصلہ
ارکان قومی اسمبلی کے غیر ضروری دوروں پر پابندی عائد
کوہلو، 132 کے وی کی مین ٹرانسمیشن لائن کی بحالی میں تاخیر
موجودہ صورتحال میں نقصان صرف پاکستان اور عوام کا ہو رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان
وزیراعلٰی کا بٹن میرے ہاتھ میں ہے جب چاہوں آن آف کرسکتا ہوں، فیصل کریم کنڈی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر