پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
بول نیوز کے معروف پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ میں سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر فضا خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مسلم لیگ ن کے کمزور ہونے کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ن لیگ کمزور ہوتی ہے تو پنجاب میں مذہبی شدت پسند عناصر اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کے رہنما شبلی فراز اور عمر ایوب نے خود کو عہدوں پر تعینات کر کے صرف اپنی سیاست کی، جبکہ پی ٹی آئی میں یہ صورتحال موجود نہیں۔
فواد چوہدری نے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاستدان کے بجائے وکیل کو اس کمیشن میں شامل کیا جانا چاہیے۔
فواد چوہدری نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 9 فروری کو تحریک نہ چلانے کے باعث پی ٹی آئی کے بانی کے ساتھ غداری کی گئی۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو دباؤ میں لانے کے لیے فضل الرحمان کا ساتھ ضروری ہے۔
علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ان پر ووٹرز کا بہت دباؤ ہے، جبکہ کامران مرتضیٰ سوشل میڈیا کے دور میں اثر انداز ہونے والے شخص نہیں ہیں۔
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی میں بانی کے علاوہ کوئی کسی کی بات نہیں سنتا، اور اگر انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑا ہوتا تو وہ وفاقی وزیر ہوتے۔
مزید پڑھیں
Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News
Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News