ایک انتہائی منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انار اوراخروٹ کھانے سے آنتوں میں ایک خاص قسم کا کیمیکل پیدا ہوتا ہے جو درمیانی عمر میں مدافعتی نظام کو دوبارہ جوان کرکےخلیوں کو نقصان، سوزش اور کینسر سمیت دائمی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔
جرمنی کے جارج اسپائر ہاؤس، انسٹیٹیوٹ فار ٹیومر بائیولوجی اینڈ ایکسپیریمنٹل تھیراپی کے محققین گزشتہ کئی برسوں یورولیتھن اے (UA) پر تحقیق کر رہے ہیں۔
یورولیتھن اے ایک قدرتی مرکب ہے جو آنتوں کے بیکٹیریا انار، بادام، اخروٹ اور کچھ بیریز جیسے پھلوں اور غذاؤں میں موجود ایلاگیٹیننز کو توڑ کر بناتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یو اے ٹی سیلز میں موجود مائٹوکونڈریا جسے خلیے کا پاورہاؤس کہا جاتا ہے، کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، اس طرح مدافعتی خلیے کئی دائمی امراض سے لڑ سکتے ہیں۔
یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام کمزور ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں سوزش، انفیکشن اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس دوران فطری مدافعتی نظام کے “نئے” ٹی سیلز کم ہوتے جاتے ہیں جبکہ “میموری” ٹی سیلز بڑھ جاتے ہیں، جس سے انفیکشن کے خلاف مزاحمت کم ہو جاتی ہے، تاہم اب اس نئی تحقیق سے مدافعتی نظام کو دوبارہ بہتر بنانے کی جانب راہ ہموار ہوئی ہے۔
تین برس قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یورولیتھن اے ایک خاص قسم کے لمبی عمر والے، اینٹی ٹیومر ٹی سیلز کو حیرت انگیز حد تک بڑھا سکتا ہے۔
اگر ٹی سیلز کو بایولوجیکل طور پر ’’ری پروگرام‘‘کیا جا سکے اور ان کے پرانے توانائی کے نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے تو یہ مدافعتی نظام کے قدرتی زوال کو سست کرنے کےساتھ صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔
محقین نے اس مقصد کے لیے ایک تحقیق کی جس میں 45 سے 70 سال کی عمر کے 50 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا، یہ ایک بے ترتیب، ڈبل بلائنڈ کنٹرولڈ ٹرائل تھا جس میں شرکاء کو 28 دن تک یا تو UA سپلیمنٹ یا پلیسبو دیا گیا، اور علاج سے پہلے اور بعد میں ان کے مدافعتی نظام کی پیمائش کی گئی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یو اے نے کئی طریقوں سے مدافعتی نظام کو محفوظ طریقے سے دوبارہ جوان کیا۔ اس نے CD8+ ٹی سیلز (جسے سائٹو ٹاکسک ٹی لمفوسائٹس یا CTLs بھی کہا جاتا ہے) کی تعداد میں اضافہ کیا، جو جراثیم سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یو اے لینے والے شرکاء میں آکسیڈیٹیو اسٹریس بھی کم پایا گیا اور سوزش کے کئی مارکرز میں تبدیلی دیکھی گئی، محققین پر امید ہیں یورولیتھن اے مستقبل میں انسانوں میں مدافعتی افعال کو محفوظ انداز میں بہتر بنا سکتا ہے۔

