وسطی ویتنام میں گزشتہ ہفتے سے جاری شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک 41 افراد ہلاک اور 9 لاپتہ ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
تین روز میں کئی علاقوں میں 1.5 میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جو 1993 کے تاریخی سیلاب کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔
52 ہزار سے زیادہ گھر پانی میں ڈوب گئے جبکہ 5 لاکھ سے زائد گھروں اور کاروباری اداروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔
ساحلی شہروں ہوئی این، نھا ترانگ اور وسطی پہاڑی علاقوں میں قہوہ کی پیداوار کا اہم خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
ڈاک لاک صوبے میں جو دنیا کا سب سے بڑا روبسٹا کافی پیدا کرنے والا علاقہ ہے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور لاکھوں گھر زیر آب آ گئے ہیں۔
حکام کے مطابق رواں سال جنوری سے اکتوبر تک قدرتی آفات سے ملک کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
حال ہی میں آنے والے دو طوفانوں کالمیگی اور بوالوئی نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی کی تھی۔
فوج اور پولیس کی بھاری نفری امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے، مشہور سیاحتی شہر ڈا لات جانے والی اہم شاہراہ میموسا پاس کا ایک حصہ لینڈ سلائیڈنگ سے گر گیا، جبکہ ایک بس بال بال بچ گئی۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشیں اتوار تک جاری رہ سکتی ہیں۔ متاثرہ صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

