Site icon بول نیوز

بڑھتی ہوئی زمینی حدت، اور معدوم ہوتی نیمو

بڑھتی ہوئی زمینی حدت، اور معدوم ہوتی نیمو

انیمیٹڈ نیمو کسے یاد نہیں، اپنے خاندان سے جدا ہونے والی یہ ننھی مچھلی اب ہمیشہ کے لیے گم ہو رہی ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق موسیمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بڑھتی ہیٹ ویو فائنڈنگ نیمو کی مشہور مچھلی، کلاؤنفش کے مستقبل کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

صحرا کے درمیان گھرا ہوا ریڈ سی جہاں گرمیوں میں پانی کا درجہ حرارت 85 سے 90 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے اس مچھلی کا مسکن ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مچھلیاں گرم پانیوں میں رہتی ہیں۔

تاہم، گزشتہ تین برس میں سمندری ہیٹ ویوز نے ریڈ سی کو مزید گرم کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سمندری درجہ حرارت نے سمندری مخلوقات کو نقصان پہنچایا ہے، جن میں کلاؤنفش اور اینیمونیز شامل ہیں۔

کلاؤنفش سمندر میں اینیمونیز کے اندر رہتی ہیں اور اسی میں انڈے دیتی ہیں، اینیمونیز ایک سمندری پودا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، شدید گرمی نے کلاؤنفش اور اینیمونیز کے درمیان اس مفید تعلق کوشدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے نتیجے میں مرکزی ریڈ سی میں ان کی آبادی میں زبردست کمی آئی ہے۔

کلاؤنفش اور اینیمونیز کا یہ تعلق سمندر میں سب سے زیادہ پہچانے جانے والے باہمی فائدہ مند تعلقات میں سے ایک ہے۔

اینیمونیز پودے جب زیادہ گرمی کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں، تو وہ اپنے اندر موجود زیوکسنتھیلی نامی مائیکرو اسکوپک الجی کوخارج کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بلیچ ہو جاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اینیمونیز کا بلیچ ہونا صرف ان کی موت کا سبب نہیں بنتا، بلکہ اس سے ان کے ساتھ رہنے والے کلاؤنفش کی آبادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق 2023 کی سمندری ہیٹ ویو نے تقریباً 94  فیصد کلاؤنفش اور 66 فیصد اینیمونیز کا خاتمہ کر دیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں سمندری ماحول میں اس طرح کے کئی باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوکر انہیں ختم کر رہی ہیں، جیسے کہ الجی اور کورل، الجی اور اینیمونیز، اور اینیمونیز اور کلاؤنفش۔

محققین نے بتایا کہ انیمونیز اور کلاؤنفش کا تعلق ایک مثال ہے کہ کیسے موسمیاتی تبدیلیاں سمندری مخلوقات کی زندگی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

یہ تحقیق ایک بڑی وارننگ دے رہی ہے کہ اگر ان مقامی مخلوقات کی بقا کو تحفظ نہ دیا گیا تویہ  ہمیشہ کے لیے معدوم ہوسکتی ہیں۔

محققین نے کہا کہ اس تحقیق کی مدد سے سمندری حیات کے تحفظ اور بحالی کے لیے بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اینیمونیز اور کلاؤنفش کی بقا خطرے میں ہے۔

عالمی سطح پر ان مخلوقات کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ان کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

Exit mobile version