کولمبو: سری لنکا میں طوفان ڈٹوا کی موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی، ہلاکتوں کی تعداد 130ہوگئی جبکہ 34 افراد لاپتا ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امدادی ٹیمیں تاحال سینکڑوں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں، فوجی ہیلی کاپٹر اور بحری کشتیوں نے کارروائیاں کرتے ہوئے لوگوں کو درختوں، گھروں کی چھتوں اور کٹے ہوئے دیہات سے نکالا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق وسطی علاقوں سے مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، جہاں اس ہفتے لینڈ سلائیڈنگ میں متعدد افراد مٹی تلے دب گئے تھے۔
مزید پڑھیں: شکتی سائیکلون کے اثرات، کوئٹہ میں گرد و غبار کا طوفان، حدِ نگاہ صفر کے قریب
واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بعض علاقوں میں 360 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ دارالحکومت کولمبو کے قریب بہنے والا کیلانی دریا بھی جمعے کو طغیانی کا شکار ہو کر پبھر گیا۔
کڈویلا کے رہائشی 56 سالہ رتنی ایکے نے بتایا کہ انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا، یہ تین دہائیوں کا بدترین سیلاب ہوسکتا ہے۔
مقامی خاتون کلایانی نے بتایا کہ وہ دو سیلاب زدہ خاندانوں کو اپنے گھر میں پناہ دیئے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: تاریخ کے بدترین سمندری طوفان ملیسا نے جمیکا میں خطرے کی گھنٹی بجا دی
میڈیا رپوٹس کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 3 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 18 ہزار سے زائد افراد عارضی شیلٹرز میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔
انورادھاپورا میں ایک شخص کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس وقت ریسکیو کیا گیا جب وہ بڑھتے پانی سے بچنے کے لیے ناریل کے درخت پر چڑھ گیا تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشوں کا امکان ہے اور طوفان ڈٹوا اتوار تک شمال سے آگے بڑھ کر بھارتی ریاست تامل ناڈو کی جانب رخ کرسکتا ہے۔



















